خیبر پختونخوا کو تھیلی سیمیا فری صوبہ بنانے کیلئے مہم تیز کر دی گئی ہے، صاحبزادہ محمد حلیم

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 نومبر2019ء) فلاحی ادارہ فرنٹیئر فائونڈیشن و بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز کے چیئرمین صاحبزادہ محمد حلیم نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے تشویشناک شکل اختیار کر لی ہے۔

(جاری ہے)

اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ غریب و نادار بچوں کی جان بچانا بہت بڑا کار خیر اور صدقہ جاریہ ہے اس لیے فرنٹیئر فائونڈیشن کی طرف سے پشاور، کوہاٹ اور سوات کے تین مراکز میں تھیلی سیمیا کے شکار 3 ہزار 700 سے زائد غریب و نادار بچوں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے اور انہیں مفت خون بھی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ تینوں مراکز میں زیر علاج بچوں کے والدین کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ مخیر حضرات کو اس کار خیر میں شریک ہونے کیلئے فرنٹیئر فائونڈیشن کی بھرپور مالی مدد کرنی چاہییاور نوجوانوں کو بڑھ چڑھ کر خون کے عطیات دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ اس لیے خیبر پختونخوا کو تھیلی سیمیا فری صوبہ بنانے کے لئے مہم تیز کر دی گئی ہے ۔

Your Thoughts and Comments