بند کریں
صحت صحت کی خبریںکپاس کی آئندہ فصل کیلئے کسانوں کو ضرورت کے مطابق تصدیق شدہ بیج دستیاب نہیں ہوگا ، سیلاب سے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/03/2013 - 21:50:18 وقت اشاعت: 23/03/2013 - 21:35:52 وقت اشاعت: 23/03/2013 - 21:34:22 وقت اشاعت: 22/03/2013 - 17:09:01 وقت اشاعت: 22/03/2013 - 13:26:26 وقت اشاعت: 21/03/2013 - 20:09:03 وقت اشاعت: 21/03/2013 - 20:07:12 وقت اشاعت: 20/03/2013 - 14:57:33 وقت اشاعت: 20/03/2013 - 13:22:09 وقت اشاعت: 19/03/2013 - 20:45:40 وقت اشاعت: 19/03/2013 - 20:38:24

کپاس کی آئندہ فصل کیلئے کسانوں کو ضرورت کے مطابق تصدیق شدہ بیج دستیاب نہیں ہوگا ، سیلاب سے کپاس کی فصل متاثر ہوسکتی ہے، حکومت نے بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مضر زرعی ادویات کی فروخت کی اجازت دے رکھی ہے ایسی کمپنیوں پر ان کے اپنے ملکوں میں دہائیوں سے پابندی لگی ہوئی ہے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل و انڈسٹری کے اجلا س میں انکشاف ،کمیٹی نے کپاس کی آئندہ فصل بارے محکمہ موسمیات و دیگر اداروں سے موسم کی صورتحال اور بیج کی فراہمی کی تفصیلات مانگ لیں، صنعتوں کو فراہم کی جانے والی گیس اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی کے متعلق تمام معلومات فراہم کی جائیں ، بتایا جائے انہیں کتنی بجلی کی ضرورت ہے ، وہ کتنی مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں،کمیٹی کی سوئی سدرن گیس کمپنی و سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کو ہدایت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔21مارچ۔2013ء)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل و انڈسٹری کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ کپاس کی آئندہ فصل کیلئے کسانوں کو ضرورت کے مطابق تصدیق شدہ بیج دستیاب نہیں ہوگا جبکہ سیلاب سے بھی کپاس کی فصل متاثر ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازین یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے کپاس کی فصل پر سپرے کرنے والی ایسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مضر زرعی ادویات کی فروخت کی اجازت دے رکھی ہے جن کے اوپر ان کے اپنے ملکوں میں دہائیوں سے پابندی لگی ہوئی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے کپاس کی آئندہ فصل کے حوالے سے محکمہ موسمیات و دیگر متعلقہ اداروں سے آئندہ اجلاس سے قبل موسم کی صورتحال اور بیج کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلات مانگ لی ہیں جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی و سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ صنعتوں کو فراہم کی جانے والی گیس اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی کے متعلق تمام معلومات فراہم کی جائیں اور بتایا جائے کہ انہیں کتنی بجلی کی ضرورت ہے اور وہ کتنی مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل و انڈسٹری کا اجلاس جمعرات کو قائمقام چیئرمین مولا بخش چاندیو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ وزارت ٹیکسٹائل میں تعینات کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبداللہ نے قائمہ کمیٹی کو کپاس کی آئندہ فصل کے اہداف کی بابت بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ سیزن کپاس کی کاشت کا ہدف موجودہ سیزن کے 70 لاکھ ایکڑ کے مقابلے میں 80 لاکھ ایکڑ جبکہ پیداوار کا ہدف موجودہ سیزن کے ایک کروڑ 33 لاکھ گانٹھوں کے مقابلے میں آئندہ سیزن کیلئے ایک کروڑ 41 لاکھ گانٹھوں کا مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ساحلی علاقوں میں لمبے ریشے والی کپاس کی کاشت کا تجربہ کررہی ہے جبکہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبداللہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ آج بھی حکومت کی اجازت سے ہمارے ہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایسی زرعی ادویات فروخت ہورہی ہیں جن کے اوپر ان کے اپنے ملکوں میں دہائیاں قبل مضر قرار دے کر پابندی لگائی جاچکی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت نے ایک مضر زرعی ادویہ ”اینڈوسلفان“ پر پابندی عائد کردی ہے جس کی پیداوار و فروخت 31 دسمبر 2013ء کے بعد ممنوع ہوگی۔

علاوہ ازیں سیکرٹری ٹیکسٹائل ڈاکٹر وقار مسعود نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ محکمہ موسمیات والوں کی رپورٹ کے مطابق کپاس کی فصل کیلئے آئندہ سیزن (جون، جولائی، اگست 2013ء) کے دوران پانی کی کمی نہیں ہوگی البتہ سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال بارشوں کی وجہ سے کپاس کے تصدیق شدہ بیج کی مکمل مقدار دستیاب نہیں ہوسکی۔ حکومت کے پاس محض دس ہزار ٹن تصدیق سدہ بیج کی مکمل مقدار دستیاب نہیں ہوسکی۔

حکومت کے پاس محض دس ہزار ٹن تصدیق شدہ بیج دستیاب ہوگا جبکہ تصدیق شدہ بیج مکمل طور پر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کپاس کی آئندہ فصل متاثر ہونے کا خطرہ بدستور موجود رہے گا جس پر قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں محکمہ موسمیات کے حکام کپاس کے آئندہ سیزن کے حوالے سے اور دیگر متعلقہ ادارے تصدیق شدہ بیج کی دستیابی کے حوالے سے اپنی مکمل رپورٹ قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔

علاوہ ازیں قائمہ کمیٹی نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تفصیلی رپورٹیں جمع کرائیں کہ صنعتوں کو کتنی گیس فراہم کی جارہی ہے جبکہ وہ اس سے کتنی مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں جبکہ صنعتوں کو اپنی ضروریات کیلئے بجلی کی کتنی مقدار دستیاب ہے اور اگر کوئی صنعتی یونٹ واففر بجلی پیدا کرکے رہائشی علاقوں میں فروخت کرتا ہے تو اس کی بھی رپورٹ دی جائے۔
21/03/2013 - 20:09:03 :وقت اشاعت