ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ ماحولیات نے شکر گنج شوگر ملز کاکیمیکل ملا پانی سرکاری تالابوں میں چھوڑنے سے روک دیا، 30روز میں واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ لگاکرمسئلہ کے تکنیکی حل کا حکم، نیشنل انوائرمنٹل کوالٹی سٹینڈرڈز کے قواعد وضوابط پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں ملز کی تمام غیر قانونی آپریشنل سرگرمیاں روکنے کی ہدایت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔4اپریل۔ 2013ء) ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ایک تحریر ی حکم کے ذریعے شکر گنج شوگر ملزٹوبہ روڈ جھنگ کو فوری طور پر ملزکا ویسٹ واٹر قریبی سرکاری اراضی پر بنائے گئے تالابوں میں چھوڑنے سے روک دیاہے جبکہ ملز انتظامیہ کو 30روزکے اندر اندر واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے اور مسئلہ کے تکنیکی حل کا بھی حکم دیاہے اور کہاہے کہ مقررہ مدت کے اندر نیشنل انوائرمنٹل کوالٹی سٹینڈرڈز کے قواعد وضوابط پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ملز کی تمام غیر قانونی آپریشنل سرگرمیاں روک دی جائیں تاکہ ماحولیاتی و فضائی آلودگی سمیت ملز کے زہریلے و کیمیکل ملے ویسٹ واٹر کی وجہ سے علاقہ کے مکینوں ، فصلات ، ملز کے مزدوروں کی صحت کو لاحق خطرات سمیت زمینی پانی کو آلودہ ، مضر صحت ، زہریلا و غیرمعیاری ہونے سے بچایاجاسکے۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامہ نمبر No.AD(RM)/JNG(69)/2012/80 میں کہاگیاہے کہ اہلیان علاقہ چک گھنانہ تحصیل و ضلع جھنگ کی درجنوں درخواستوں کی روشنی میں ڈسٹرکٹ آفیسر ماحولیات اور انوائرمنٹل مانیٹرنگ ٹیم ای پی اے لاہور لیبارٹری کی جانب سے تفصیلی سروے سمیت پانی اور زمین کے نمونہ جات حاصل کئے گئے جن کے تجزیہ کے بعد اہلیان علاقہ کے الزامات درست ثابت ہوئے ۔

دریں اثناء اہلیان علاقہ نے میڈیاکو بتایاکہ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سید منصور علی شاہ کے احکامات کی روشنی میں ڈی سی اوجھنگ محمد شاہد نیاز نے شکر گنج شوگرملز ٹوبہ روڈ جھنگ صدر کی جانب سے ملز کا زہریلا پانی ملحقہ اراضی میں چھوڑنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملز کو پانی فوری طور پر بند کرنے اور زہریلے پانی کے نکاس کا متبادل انتظام کرنے سمیت الاٹ شدہ اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ اور ڈی او ماحولیات کو موقع ملاحظہ کرکے ہفتہ وار رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا مگر اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

انہوں نے بتایاکہ جھنگ کے نواحی علاقہ چک گھنانہ مانک موڑ بائی پاس کے رہائشیوں نے لاہور ہائی کورٹ لاہور میں دائر کی گئی رٹ پٹیشن نمبر 143/13 میں موٴقف اختیار کیاتھا کہ انہوں نے شکر گنج شوگر ملز ٹوبہ روڈ جھنگ صدر سے ملحقہ کئی مربعے سرکاری رقبہ لیز پر حاصل کررکھا ہے مگر شوگر ملز مالکان انتہائی ناجائز و غیر قانونی طریقے سے اپنی ملز کا زہریلا و کیمیکل ملا پانی ا س رقبہ میں چھوڑ رہے ہیں جس سے جہاں مذکورہ کروڑوں روپے مالیتی رقبہ بری طرح تباہ و برباد ہو گیاہے وہیں اس علاقے میں زہریلے مچھروں ، مکھیوں ، کیڑے مکوڑوں اور دیگر جراثیموں کی بھر مار سے مختلف خطرناک بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں مگر پٹواری حلقہ چک گھنانہ اور بعض دیگر افسران کی ملی بھگت کے باعث کوئی بااثر شوگر ملز مالکان کو پوچھنے والا نہ ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیاتھاکہ شکر گنج شوگر ملز کو مذکورہ رقبہ میں غیر قانونی طور پر اپنے زہریلے پانی کے نکاس سے روکا جائے ۔ جسٹس منصور سید منصور علی شاہ نے مذکورہ رٹ پٹیشن پر ڈی سی او جھنگ کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے متاثرین کی شکایت کے ازالہ کا حکم دیا تھا جس پر ڈی سی او نے متعلقہ فریقین ، حسین ملک جنرل منیجر شکر گنج شوگر ملز ، منظور حسین ملک سینئر وائس پریذیڈنٹ ایگری شکر گنج ملز،محمد نواز سیال ڈسٹرکٹ آفیسر ماحولیات جھنگ کی موجودگی میں تحریری حکم جاری کیا کہ مل سے ملحقہ 187کنال 16مرلے سرکاری اراضی پر شوگر ملز کی جانب سے مل کے ڈسٹلری پلانٹ کا ویسٹ واٹر ختم کرنے کیلئے بنایاگیا تالاب فوری ختم کیاجائے ۔

انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر جھنگ کو حکم دیاکہ اس اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے جائز و ناجائز قبضے واگزار کروائے جائیں ، شکر گنج شوگر مل ناکارہ پانی کی ڈسپوزل کیلئے فوری مناسب اقدامات کرے اور نیشنل انوائرمینٹل کوالٹی سٹینڈرڈ کے مطابق پانی کے نکاس کا انتظام کیاجائے۔انہوں نے تالا ب پر ریگولر سپرے کرنے کی بھی احکامات جاری کئے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ آفیسر ماحولیات جھنگ کو حکم دیاکہ وہ فوری طور پر متاثرہ جگہ کا معائنہ کریں اور احکامات کی ہفتہ وار رپورٹ انہیں فراہم کی جائے مگر تاحال ان احکامات پر عملد رآمد نہ ہو سکاہے۔

دوسری جانب معلوم ہواہے کہ بااثر ملزمالکان نے ڈی سی او جھنگ کے مذکورہ احکامات کے بعد متاثرہ افراد کے خلاف مختلف الزامات کے تحت جھوٹے مقدمات کا اندراج بھی شروع کردیاہے جس پر اہلیان علاقہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔

Your Thoughts and Comments