بند کریں
صحت صحت کی خبریںسمجھوتہ ایکسپریس کے اکثر مسافروں کا بھارتی رویے کیخلاف احتجاج ، زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/02/2007 - 12:26:43 وقت اشاعت: 23/02/2007 - 11:36:02 وقت اشاعت: 23/02/2007 - 10:40:53 وقت اشاعت: 21/02/2007 - 11:27:26 وقت اشاعت: 20/02/2007 - 17:04:05 وقت اشاعت: 19/02/2007 - 23:36:00 وقت اشاعت: 19/02/2007 - 22:55:16 وقت اشاعت: 16/02/2007 - 20:52:56 وقت اشاعت: 16/02/2007 - 18:19:54 وقت اشاعت: 16/02/2007 - 16:23:39 وقت اشاعت: 16/02/2007 - 14:33:14

سمجھوتہ ایکسپریس کے اکثر مسافروں کا بھارتی رویے کیخلاف احتجاج ، زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کی بجائے بھارتی اہلکار ان سے جائے حادثہ پر ہی تفتیش کرتے رہے

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19فروری۔2007ء ) بھارت سے پاکستان آتے ہوئے حادثے کا شکار ہونیوالی سمجھوتہ ایکسپریس کے اکثر مسافروں نے بھارتی رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کہ زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کی بجائے بھارتی اہلکار ان سے جائے حادثہ پر ہی تفتیش کرتے رہے ۔ دو گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی ٹرین کی بوگیوں کے دروازے نہ کھل سکے جس سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑاجبکہ آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی ایک گھنٹے کی تاخیر سے موقع پر پہنچیں۔

بھارت سے واپس آنے والی لاہور کی رہائشی بیگم عشرت حسین نے بتایا کہ بوگیوں میں آگ لگ جانے کے بعد ٹرین کو روکنے کیلئے مسافروں نے بہت شور مچایا لیکن تقریبا دو کلو میٹر فاصلہ طے کرنے کے بعد ٹرین رکی لیکن اس وقت تک ٹرین کی دو بوگیاں مکمل طور پر جل کر راکھ ہو چکی تھیں اوردیگر بوگیوں میں دھوا ہی دھوا تھا اور لوگ خود ہی دروازوں کو کھولنے کی کوشش کر رہے تھے اور ناکامی پر کئی بوگیوں کے مسافروں نے شیشے توڑ کر باہر چھلانگیں لگائیں ۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے صغیر احمد نے بتایا کہ رات تقریبا بارہ بجے جب یہ واقعہ ہوا تو ہر طرف ایک ہی آواز تھی بچاؤ بچاؤ اور لوگ دروازوں کو کھولنے کی کوششیں کررہے تھے لیکن وہ ناکام رہے اور آخر کار جب دروازے کھلے تو ہم باہر نکلے اور دیکھا کہ ٹرین کے دو ڈبے جل چکے ہیں اور اس میں موجود مسافروں کی نعشیں راکھ بن چکی تھیں۔ بھارتی اہلکاروں نے زخمیوں کو طبی امداد دینے کی بجائے ان سے تفتیش کرتے رہے ۔

اٹک سے تعلق رکھنے والے عمران احمد نے بتایا کہ ہمیں پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کوئی دھماکہ ہوا ہے یا آگ لگی ہے سب خود کو بچانے کیلئے کوششیں کر رہے تھے ۔ جس وقت حادثہ ہوا اس وقت مسافروں کی اکثریت سو رہی تھی اور مسافروں نے اپنے سامان کی حفاظت کی بجائے اپنے آپ کو بچانے کیلئے کوششیں شروع کر دیں اسی دوران ایک بھارتی سیکورٹی اہلکار بھی ہمارے نظروں کے سامنے جل کر ہلاک ہو گیا ۔

میر پور سے تعلق رکھنے والی مسز صلاح الدین نے بتایا کہ ہم گجرات میں اپنے ایک عزیز کی شادی میں شرکت کیلئے بھارت گئے ہوئے تھے کہ واپسی میں یہ سانحہ پیش آیا اس پر ہم کو بہت افسوس ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اسکے اصل حقائق سامنے آئیں اور جلد از جلد مرنے والوں کے لواحقین کو بھارت جانے کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے انبالا ریلوے اسٹیشن پر مسافروں سے بھرپو تعاون کیا لیکن اس سے قبل جب حادثہ پیش آیا بعض بھارتی اہلکاروں نے مسافروں کی مدد کی بجائے اپنے طور پر تفتیش کا سلسلہ شروع کر دیا ۔

سندھ سے تعلق رکھنے والے مریندر کمار نے بتایا کہ اسطرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ہمیں ایسے واقعات سے پریشان ہونے کی بجائے ایسے عناصر کو پہچاننا چاہیے جو اس طرح کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں ۔ ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اچھے رہیں ۔ سری نگر سے تعلق رکھنے والے فاروق احمد نے بتایا کہ ایسے واقعات سے دونوں ملکوں کے تعلقا ت بھی متاثر ہو سکتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کو حل کریں اور اپنے اپنے مسافروں کو سفر میں آسانیاں دے ۔

چندی گڑھ سے تعلق رکھنے والے سلیم نے بتایا کہ ہمیں اس واقعہ پر افسوس ہے لیکن اس کی تحقیقات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور دونوں ملکوں کو اپنے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے ۔ بریلی شریف انڈیا سے تعلق رکھنے والے انیس علی نے کہا کہ ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں اور فورا ً تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ سرحدوں کو کھول دینا چاہیے اور آنے جانے کیلئے آسانیاں پیدا کی جانی چاہیں ۔ بھارت سے آنے والوں کی اکثریت نے اس واقعہ کو ایک سازش قرار دیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو کمزور کرنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔
19/02/2007 - 23:36:00 :وقت اشاعت