بند کریں
صحت صحت کی خبریںباغ ریسٹ ہاؤس عیاشی کا اڈہ تھا ، بند کر کے تعلیمی درس گاہ میں بدل دیا ہے‘ آزاد کشمیر کے دو ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/04/2013 - 23:38:30 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 22:50:04 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 22:48:47 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 22:46:14 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 17:10:01 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 16:50:04 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 13:25:46 وقت اشاعت: 08/04/2013 - 22:55:32 وقت اشاعت: 08/04/2013 - 22:48:07 وقت اشاعت: 08/04/2013 - 22:48:07 وقت اشاعت: 08/04/2013 - 21:10:25

باغ ریسٹ ہاؤس عیاشی کا اڈہ تھا ، بند کر کے تعلیمی درس گاہ میں بدل دیا ہے‘ آزاد کشمیر کے دو بڑے لیڈروں سے ادارے چھین کرباغ لائے‘ غازی ملت سے کالج آف ایجوکیشن مجاہد اول سے خواتین یونیورسٹی باغ میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کو ایسا تعلیمی ماحول دینے کا خواہاں ہوں کہ وہ دنیا میں اپنا نام پیدا کر سکیں، وزیر صحت عامہ آزاد کشمیر سردار قمر الزمان خان کا مقامی کالج کی تقریب سے خطاب

باغ /بیر پا نی( آ ئی این پی)وزیر صحت عامہ آزاد کشمیر سردار قمر الزمان خان نے کہا ہے کہ باغ ریسٹ ہاؤس عیاشی کا اڈہ تھا ، بند کر کے تعلیمی درس گاہ میں بدل دیا ہے‘ آزاد کشمیر کے دو بڑے لیڈروں سے ادارے چھین کرباغ لائے‘ غازی ملت سے کالج آف ایجوکیشن مجاہد اول سے خواتین یونیورسٹی باغ میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کو ایسا تعلیمی ماحول دینے کا خواہاں ہوں کہ وہ دنیا میں اپنا نام پیدا کر سکیں۔

ذرائع ابلاغ کی بدولت آج دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ وہ گزشتہ روز یہاں گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج باغ مین منعقدہ مباحثے جس کا عنوان جدید ذرائع ابلاغ کا طلباء پر اثرات کے عنوان سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ تقریب سے چیئرمین پی ایس ایف سردار ضیاء القمراور پرنسپل ڈاکٹر ریاض اور گرلز کالج کی طالبات سیّدہ نبیلہ گردیزی ، ثوبیہ نسیم ، زرتاش اسلم ، مائرہ اور ساتھی ، لاریب ، خالدہ حیات ، انیقہ رشید ، آمنہ پروین ، صوفیہ اختر ، صباء خلیل ، شانزہ اعجاز ، انیقہ رشید ، سیّدہ سدرہ کاظمی ، سیّدہ مائرہ کاظمی ، شہزادی عمارہ جبیں یونس ، عاصمہ اکرم سمیت دیگر نے مختلف پروگرامات میں اپنی صلاحیتیوں کے جوہر دکھائے۔

گرلز مالج کی طالبات نے تقریری مقابلے ، ٹیبلو ، روایتی گیت ، نغمے ، ترانے ، شاندار انداز میں پیش کیے۔ گرلز کالج کی طالبات نے اپنی صلاحیتیوں کے جوہر دکھائے۔ اس تقریب میں گرلز کالج کی طالبات سمیت سول سوسائٹی ، صحافیوں ، وکلاء ، انتظامیہ سمیت مذہبی حلقوں نے بھی شرکت کی۔ سامعین نے طالبات کو داد دینے میں کوئی کسر نہ برتی۔ وزیر صحت عامہ نے گرلز کالج میں شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والی طالبات میں فی کس تین ہزار روپے اور سیاحتی دورے کے لیے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہاکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں بھی کوئی مشکل ہو وہ ساری دنیا میں لمحوں میں پھیل جاتی ہے۔ میڈیا نے موجودہ دور میں اچھے اثرات معاشرے پر ڈالے ۔ الیکٹرانک چینل میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انسان اشرف مخلوق اس کی نقل اتارنا ، برائیوں پر چرچے کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ غور تکبر میں آکر اسلامی اقدار کو بھولنے سے تباہی کے علاوہ کچھ نہیں۔

فیملی کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی کوئی نہیں دیکھ سکتا نظرثانی ہونی چاہیے۔ملکی ترقی میں میڈیا ایک مثالی کردار ادا کر سکتا ہے۔ طلباء و طالبات پرنٹ میڈیا کے اچھے کالم نگاروں کو پڑھیں اور زندگی بدلیں۔ آزاد خطے میں پرنٹ میڈیا جاندار کردار ادا کر رہا ہے۔ پرنٹ میڈیا تصویروں کے بجائے سیرت طیبہ ، تاریخ ، ناول ، اچھی کہانیاں ، شعری ، ملکی ترقی کی تجاویز ہوں تو عوام مستفید ہوں گے۔

میں جب تک اخبارات نہ پڑھوں تو ناشتہ نہیں کر سکتا۔ خواتین کی تعلیم کے لیے سب سے زیادہ کام ہم کر رہے ہیں۔ خواتین کو ایسا ماحول فراہم کررہے ہیں جس سے وہ ملکی ترقی میں اپنا شاندار کردار ادا کر سکین گی۔ باغ میں 8 کالجز ، ایک ویمن یونیورسٹی دئیے جو سارے خواتین کے ہیں۔ باغ ویمن یونیورسٹی میں 80% ملازمتیں بھی خواتین کو دیں گے۔ خواتین کو باعزت اور باپردہ صحت ملازمتوں کے مواقع ہماری ترجیحات ہیں۔

ایک پڑھی لکھی خواتین معاشرے مثالی کردار نبھا سکتی ہیں۔ ترقی کے اس دور میں پڑھی لکھی ماں کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ قوموں کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انہیں صحت ، تعلیم ، ذرائع رسل و رسائل کی سہولیات میسر نہ ہوں ۔ ماضی میں وزارت تعلیم ملی تو تعلیمی پیکج دیا اب صحت کا قلمدان لیا تو ہیلتھ پیکج دے دیا۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے باغ میں جو ادارے بنائے ان کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

زندگی کے ہر شعبہ جات کو بہتر بنانے کے لیے مزید تاریخی کام کریں گے۔سردار قمر الزمان نے کہا کہ جدید ذرائع ابلاغ کورد نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جب بھی فارغ وقت ملتا ہے اخبار یا کتاب کو بہترین ساتھی تصور کرتے ہوئے دل لگا کر پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ TV ، کمپیوٹر ، انٹرنیٹ ، سوشل و پرنٹ میڈیا کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں ۔

ان سے جو بھی اچھی چیز ملے اسے سنا پڑھا دیکھا جائے اور اسی اپنی زندگی میں مسما کر ان اثرات سے تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ رٹے سے زندگی نہیں بدلتی۔ زندگی کچھ کر گزرنے کا نام ہے۔ اس فضول کام میں وقت گزارنے کے بجائے اسے کار آمد بنا کر بہتر شہری ہونے کا ثبوت دیا جائے۔ عوام سرکاری اداروں سے تعاون کریں ۔ ہم نے اپنے بچوں کو سرکاری اداروں میں تعلیم دی تاکہ دوسرے بھی نقل کریں۔

لیکن لوگ ایسا نہیں کرتے۔ سرکاری استانیوں سے پوچھیں کہاں تھین جواب ملتا ہے بچوں کو سکول چھوڑنے ، اب کہاں جا رہی ہو تو جواب آتا ہے غریبوں کے بچوں کو پڑھانے ۔ یہ روایے بدلنے ہوں گے۔ اپنے ساتھ خود انصاف کیا جائے تو انصاف کرتا وہ مٹ جایا کرتا ہے۔ اب بھی وقت ہے اپنی زندگیوں میں اصلاحات لانے کا۔دریں اثناء اس تقریب سے سردار ضیاء القمر نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا حد سے زیادہ آزاد ہے لیکن یہ عوام کے حقیقی مسائل کے بجائے دو فیصد سیاستدانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 14 کروڑ عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ اس پر میڈیا توجہ نہیں دیتے۔ ضیاء القمر نے کہا کہ تعلیمی ادارے بے روزگاری کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ میٹرک کے بعد طلباء و طالبات کو ٹیکنیکل تعلیم دی جائے ۔ تعلیم برائے روزگار کے بجائے تعلیم برائے تخلیق ہونے چاہیے۔ اگر میں وزیر بن جاؤں تو صحت اور تعلیم کو ریاست کے کنٹرول میں دے دوں۔ کیونکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ بامقصد تعلیم کے بغیر انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔
09/04/2013 - 16:50:04 :وقت اشاعت