بند کریں
صحت صحت کی خبریںزخمیوں کی طبی امداد کے حوالے سے ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کی سزا 2 سال قید، 10 ہزار جرمانہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2007 - 12:12:29 وقت اشاعت: 28/02/2007 - 11:36:13 وقت اشاعت: 27/02/2007 - 13:34:23 وقت اشاعت: 26/02/2007 - 12:29:00 وقت اشاعت: 23/02/2007 - 22:28:31 وقت اشاعت: 23/02/2007 - 18:21:47 وقت اشاعت: 23/02/2007 - 12:26:43 وقت اشاعت: 23/02/2007 - 11:36:02 وقت اشاعت: 23/02/2007 - 10:40:53 وقت اشاعت: 21/02/2007 - 11:27:26 وقت اشاعت: 20/02/2007 - 17:04:05

زخمیوں کی طبی امداد کے حوالے سے ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کی سزا 2 سال قید، 10 ہزار جرمانہ یا دونوں ہیں، لاء اینڈ جسٹس کمیشن۔عدالت کسی جرم میں سزا یافتہ ڈاکٹر کیلئے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ملزم کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے، ہسپتال لائے جانے والے زخمی کی فوری طبی امداد ضروری ہے، سرکاری حکام آگاہی مہم چلا سکتے ہیں، زخمی شخص کو پولیس سٹیشن نہیں لایا جا سکتا اور زخمی شخص کو ہسپتال لانے والے شخص کو تنگ نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین23فروری2007 ) لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ حادثے، لڑائی جھگڑے یا کسی بھی حملے کی صورت میں زخمی ہونے والے شخص کا ترجیحی بنیادوں پر علاج کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کوئی پولیس افسر ہسپتال کے انچارج کی تحریری اجازت کے بغیر زخمی سے پوچھ گچھ نہیں کرے گا، جبکہ مکمل صحت یاب ہونے تک کسی دوسرے ہسپتال منتقل نہیں کیا جائے گا تاہم اگر ایک ہسپتال میں علاج دستیاب نہ ہو تو دوسرے ہسپتال میں لے جایا جا سکتا ہے، جبکہ زخمی شخص کو پولیس سٹیشن نہیں لایا جا سکتا، زخمی شخص کو ہسپتال لانے والے فرد کو تنگ نہیں کیا جائے گا، جبکہ قانون ہذا یا اس کے ضابطہ کی خلاف ورزی پر 2 سال تک کی یا کم سے کم 10 ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، عدالت کسی جرم میں سزا یافتہ ڈاکٹر کیلئے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ہدایت کر سکتی ہے کہ وہ سزا یافتہ ڈاکٹر کی رجسٹریشن منسوخ کر دے۔

قانون و انصاف کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عوام کی آگاہی کیلئے جاری ہونے والے معلوماتی پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی حادثہ، لڑائی جھگڑے یا کسی قسم کے حملہ سے زخمی ہو جائے تو اس کی فوری طبی امداد سے قبل قانونی لوازمات کی تکمیل سے زخمی کے علاج معالجہ میں نہ صرف تاخیر ہو جاتی تھی بلکہ قیمتی جانیں بھی ضائع ہو جاتی تھیں۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہو گیا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں زخمی شخص کے علاج معالجہ، طبی امداد یا اس کی جان بچانے کیلئے ایسے اصول و قوانین وضع کئے جائیں جن پر عمل پیرا ہو کر اس شخص کو ضروری طبی امداد دی جا سکے جس کیلئے حکومت نے زخمی اشخاص کو طبی امداد کا قانون مجریہ 2004ء (زخمی افراد کی طبی امداد کا ایکٹ 2004ء) نافذ کیا ہے اور اس قانون کی دفعہ 3 کی رو سے جب کوئی زخمی شخص ہسپتال لایا جائے گا اس کو فوری طور پر اور بغیر کسی تاخیر کے طبی امداد دی جائے گی اور قانونی ضابطے کی کارروائی وغیرہ بعد میں پوری کی جائے گی اور زخمی شخص کا علاج ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔

دفعہ 4 کے تحت کوئی پولیس افسر ہسپتال کے انچارج کی تحریری اجازت کے بغیر زخمی سے بغرض تفتیش پوچھ گچھ نہیں کرے گا اور ہسپتال کا انچارج اس وقت تک ایسی اجازت نہیں دے گا جب تک وہ یہ ضروری نہ سمجھے کہ زخمی کے زیر علاج رہنے کے دوران تفتیش میں زیادہ تاخیر ہو جائے گی جبکہ دفعہ 5 کے تحت کسی زخمی شخص کو اگر ہنگامی طور پر علاج معالجے کی ضرورت ہو تو معالج ڈاکٹر کیلئے رشتہ داروں کی اجازت کا انتظار کرنا ضروری نہیں ہے۔

جبکہ دفعہ 6 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت کسی زخمی شخص کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں منتقل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ صحت یاب نہ ہو جائے اگر زخمی شخص کیلئے کسی قسم کا علاج ایک ہسپتال میں دستیاب نہ ہو تو زخمی شخص کو دوسرے ہسپتال میں منتقل کیا جا سکتا ہے لیکن بوقت منتقلی زخمی کا علاج کرنے والے ہسپتال کا ڈاکٹر زخمی کی تشخیص کردہ حالت کو زخمی سے متعلقہ کاغذات پر درج کرے گا اور درج شدہ تفصیلات کے کاغذات زخمی کو وصول کرنے والے ہسپتال کے ڈاکٹر کے حوالے کرے گا۔

ذیلی ذفعہ (2 ) میں بیان ہوا ہے کہ دفعہ (1) کے تحت زخمی کا جو بھی ریکارڈ ہو گا وہ حوالے اور وصول کرنے والے دونوں ہسپتال، محفوظ تحویل میں رکھیں گے اور ہسپتال کا انچارج اس بات کو یقینی بنائے گا کہ محفوظ تحویل میں رکھا گیا ریکارڈ ضائع یا خراب نہ ہو۔ مزید برآں یہ دفعہ اس عمل پر بھی پابندی عائد کرتی ہے کہ کوئی بھی زخمی شخص حوالے کرنے والے ہسپتال کے ڈاکٹر کی معیت کے کسی دوسرے ہسپتال میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے جاری معلومات پمفلٹ کے مطابق ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت حکومت سرکاری جریدہ میں اطلاع عام کیلئے ایسے ہسپتالوں کو مشتہر کرے گی جن کے پاس مریضوں کیلئے وافر سہولتیں مثلاً بستر وغیرہ دستیاب ہوں اور جن میں ہنگامی صورتحال میں زخمیوں کے علاج معالجہ کیلئے دیگر مناسب سہولتیں بھی موجود ہوں ۔ اگر کسی علاقے کے سرکاری ہسپتال میں متذکرہ بالا سہولتیں موجود نہیں ہیں تو اس قانون کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے حکومت ایک ایسے دیہی مرکز صحت کو مشتہر کر سکتی ہے جس میں متذکرہ بالا سہولتیں دستیاب ہوں چاہے وہ کسی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا ہو۔

جبکہ دفعہ 8 کی ذیلی دفعہ (1) کے مطابق کسی بھی صورتحال میں زخمی شخص کو ضروری طبی امداد اور علاج معالجہ کے بغیر پولیس سٹیشن نہیں لایا جا سکتا اسی طرح ذیلی دفعہ (2) کے مطابق پولیس افسر پابند ہے کہ وہ کسی قسم کے قانونی ضابطہ کی تکمیل سے پہلے اس بات کا یقین کر لے کہ اس قانون کے مطابق زخمی شخص کا ہسپتال میں علاج کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ ہے کہ پولیس افسر ڈاکٹر پر کسی بھی لحاظ سے اثر انداز ہو کر زخمی شخص کے زخم وغیرہ کے متعلق ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ رائے نہیں لے سکتا۔

ایکٹ کی دفعہ 9 میں ایسے شخص کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے جو کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی زخمی شخص بالخصوص ٹریفک حادثات میں زخمی شخص کی مدد کرتے ہوئے اس کو ہسپتال میں لاتا ہے ایسے شخص کو کسی بھی طرح تنگ نہیں کیا جائے گا بلکہ ایسے شخص کو عزت دی جائے گی اور اس کی اس کوشش کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جائے گا زخمی شخص کو ہسپتال لانے والے شخص کے مکمل کوائف مثلاً نام پتہ وغیرہ اور قومی شناختی کارڈ کی کاپی کے ہسپتال میں درج کروانے کے بعد، جانے کی اجازت ہو گی اور اگر اس کے پاس قومی شناختی کارڈ کی کاپی نہ ہو تو وہ تین دن کے اندر قومی شناختی کارڈ کی کاپی مہیا کرے گا یا کسی اور طریقہ سے ہسپتال کے انچارج کو مطمئن کرے گا۔

دفعہ ہذا کی رو سے کسی ایسے شخص کو ہسپتال سے جانے کی اجازت نہ ہو گی جو کہ قانونی طور پر زخمی شخص کے زخمی ہونے کا ذمہ دار ہے یا کسی لحاظ سے اس پر قانوناً کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جبکہ قانون ہذا کی دفعہ 10 میں یہ رہنما اصول دیا گیا ہے کہ حکومتی ادارے ایسی آگاہی مہم چلائیں گے جس کے تحت عوام الناس، طبی پیشہ ور اور پولیس وغیرہ اس قانون کے ضابطوں سے آگاہ ہو سکیں۔

ایکٹ کی دفعہ 11 میں بیان کیا گیا ہے کہ قانون ہذا یا اس کے کسی ضابطہ کی خلاف ورزی پر 2 سال کی قید یا جرمانہ جو کہ دس ہزار سے کم نہ ہو گا یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہویں جو اس کے علاوہ ہوں گی جو کسی دیگر قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے ملزم کو سزا دی جا سکتی ہو۔ مزید برآں کوئی عدالت کسی جرم میں سزا یافتہ ڈاکٹر کیلئے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ہدایت کر سکتی ہے کہ وہ سزا یافتہ ڈاکٹر کی رجسٹریشن کو منسوخ کر دے۔
23/02/2007 - 18:21:47 :وقت اشاعت