وفاقی کابینہ کی وزارت نیشنل ریگولیشن سروسز کا نام تبدیل کرکے ہیلتھ کوآرڈینیشن اینڈ ریگولیشن ڈویژن رکھنے اور صحت سے متعلقہ تمام اداروں کو اس کے تحت لانے کی منظوری ، حساس علاقوں میں فوج کی تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کی طرف سے مطلوبہ تعداد میں فوجی اہلکاروں کی فراہمی پر اظہار اطمینان، امن و امان کی صورتحال میں قدر ے بہتری کے باوجود خطرات موجود ہیں، فوج سمیت ،کوئی بھی قانون نافذکرنیوالا ادارہ پولنگ اسٹیشنزکے اندر تعینات نہیں ہو گا، چاروں صوبوں میں فوج کی تعیناتی کا عمل مکمل ہو گیا ، وزیراعظم نے انٹیلی جنس اداروں کوصوبوں کیساتھ اطلاعات کے تبادلے کامکینزم بنانے کی ہدایت کی ہے ، وفاقی وزیر و اطلاعات و نشریات عارف نظامی کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں بارے پریس بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔4مئی۔ 2013ء) وفاقی کابینہ نے وزارت نیشنل ریگولیشن سروسز کا نام تبدیل کرکے ہیلتھ کوآرڈینیشن اینڈ ریگولیشن ڈویژن رکھنے اور صحت سے متعلقہ تمام اداروں کو اس وزارت کے تحت لانے کی منظوری دے دی، کابینہ نے ملک میں حساس علاقوں میں فوج کی تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کی طرف سے مطلوبہ تعداد میں فوجی اہلکاروں کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال میں قدرے بہتری کے باوجود خطرات موجود ہیں، فوج سمیت ،کوئی بھی قانون نافذکرنیوالا ادارہ پولنگ اسٹیشنزکے اندر تعینات نہیں ہو گا،سندھ ، پنجاب، خیبرپختونخوا،بلوچستان میں فوج کی تعیناتی کا عمل مکمل ہو گیاہے ، وزیراعظم نے انٹیلی جنس اداروں کوصوبوں کیساتھ اطلاعات کے تبادلے کامکینزم بنانے کی ہدایت کی ہے ، اجلاس میں صوبوں کے درمیان انٹیلی جنس رابطوں اور خفیہ اداروں کو بھی ایک دوسرے کیساتھ باہمی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا گیا۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر و اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے ہفتہ کو یہاں پی آئی ڈی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں ملکی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کرنا نگران حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ انتخابات ہی اصل احتساب ہیں۔ عوام اپنے ووٹ سے اپنے سابقہ نمائندوں کا احتساب کریں گے۔

ہماری ذمہ داری منصفانہ، عیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے جسے ہم پورا کررہے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جی صاحبان نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد انتخابات کے حوالے سے اقدامات کو حتمی شکل دینا تھا اس حوالے سے امن و امان اور ووٹرز کو گھروں سے باہر لانا بڑے چیلنجز ہیں۔

کابینہ نے ان چیلنجوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر غور کیا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں یہ چیز واضح ہوئی کہ فوج کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔ اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ فوج کی جتنی تعداد مانگی گئی تھی وہ دے دی گئی ہے۔ پولنگ سٹیشن کے اندر فوج یا کسی قسم کی فورس موجود نہیں ہوگی یہ باہر ہی تعینات ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبوں کو بروقت معلومات دینے اور اداروں میں تعاون کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

آئین کے تحت وفاق اور صوبوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حساس علاقوں میں فوج تعینات کی جائے گی ابھی جو کچھ ہورہا ہے اس صورتحال میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انتخابات میں امیدوار شہید بھی ہوئے ہیں لیکن انتخابات بروقت ہوں گے، دھمکیاں موجود ہیں حکومت ان دھمکیوں پر کافی حد تک قابو پاسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے شہداء کو خراج عقیدت اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں کو سلام پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا انتخابات کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرے تاکہ پرامن انتقال اقتدار ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیا اپنا درست کردار ادا نہیں کررہا اس حوالے سے میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔ عارف نظامی نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال پر چیف سیکرٹری نے بریف کیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ بلوچ قوم پرست جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ نیشنل ریگولیشن ڈویژن کا نام تبدیل کررکے ہیلتھ کوآرڈینیشن ڈویژن رکھ دیا جائے تاکہ صحت سے وابستہ تمام ادارے اکٹھے ہوسکیں۔ وزیراعظم نے خسرے کے حوالے سے ذاتی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے بہتر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے تجارت کے حوالے سے ارجنٹائن کیساتھ دو ایم او یوز پر دستخط کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کیلئے پاکستان محفوظ جگہ نہیں ہے۔ وزیر اطلاعات نے جرنلسٹس وکٹم ویلفیئر فنڈ ایک کروڑ روپے سے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اے پی این ایس سے اپیل ہے کہ وہ پچاس پچاس لاکھ روپے اس میں ڈالیں، جتنی جلدی ممکن ہو اس پر عملدرآمد شروع ہوجائے گا۔ یہ فنڈ متنازعہ زون میں شہید ہونے والے صحافیوں کیلئے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا کی صورتحال بہت خراب ہے۔

بلوچستان میں ریڈیو ٹرانسمیٹر لگانے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں مشکلات ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے لوگ بھی شہید ہوئے ہیں۔ یہ خطرہ آج سے نہیں جب سے انتخابات کا اعلان ہوا ہے دہشت گردوں نے کارروائیاں ڈبل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں پاکستانی قیدی پر حملہ افسوسناک ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ سربجیت پر حملہ کسی پلاننگ کا حصہ نہیں تھا، مکمل تعاون کیا گیا ہے اس کے علاج میں اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے کہ وہ کسی پراسیکیوٹر کو سائیڈ لائن کروائے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات ہی سب سے بڑا احتساب ہیں۔ ماضی میں بعض جماعتیں انتخابات کی بجائے احتساب میں لگ گئیں اور کچھ جماعتوں کو سیاسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر ہم سی ایسی توقع نہ رکھی جائے۔ ہم صاف و شفاف انتخابات کروائیں گے۔ عارف نظامی نے کہا کہ انٹیلی جنس کی رپورٹ ہے کہ حالات بہتر ہورہے ہیں تاہم خطرہ موجود ہے۔

Your Thoughts and Comments