وزیر اعظم عمران خان کا وفاقی دارالحکومت میں صحت کی سہولیات کی فراہمی سے متعلق شکایات کا سخت نوٹس،

سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کو فعال بنانے، اور صحت کی سہولیات و ادویات کی فوری فراہمی کی ہدایت

وزیر اعظم عمران خان کا  وفاقی دارالحکومت میں صحت کی سہولیات کی فراہمی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 فروری2020ء) وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں صحت کی سہولیات کی فراہمی سے متعلق شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو صحت کی سہولیات کے ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کو فعال بنانے، ہسپتالوں اور مراکز صحت میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے اور صحت کی سہولیات و ادویات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے، سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پوری کی جائے ، تعلیم کی معیاری سہولیات کے لئے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں گے، اسلام آباد میں تمام رہائشی کالونیوں میں سی ڈی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور سوسائٹی مالکان کی نشاندہی کی جائے ۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے منگل کو وفاقی دارالحکومت میں صحت ، تعلیم اور دیگر شہری سہولیات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز احمد شاہ، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان، رکن قومی اسمبلی راجا خرم شہزاد، متعلقہ وفاقی سیکرٹری و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

سیکرٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش نے وفاقی دارالحکومت میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے بارے میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس سال جون تک دارالحکومت میں واقع چار کمیونٹی ہیلتھ سنٹرز اور سولہ بنیادی مراکز صحت کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا جس کی بدولت جہاں وفاقی دارالحکومت میں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی وہاں چار بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔

سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت کے جی الیون سیکٹر میں پولی کلینک ٹو کی تعمیر، پمز میں نیا ایمرجنسی وارڈ اور سرائے خربوزہ میں نئے ہسپتال کے قیام کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ صحت کی معیاری سہولیات کے مراکز میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے دارالحکومت میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صحت کی سہولیات کے ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کو فعال بنانے، ہسپتالوں اور مراکز صحت میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے اور صحت کی سہولیات و ادویات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے اسلام آباد کی حدود میں واقع 423 سرکاری سکولوں اور کالجوں کی بہتری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو ایمرجنسی سمجھتے ہوئے اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات کیے جائیں کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا معاملہ ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں واقع 24 ماڈل سکولوں اور کالجز کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اسی معیار کی سہولیات کی فراہمی اور ان کا معیار بلند کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس حوالے سے ٹائم لائنز پر مبنی ایک روڈ میپ مرتب کیا جائے۔

اس ضمن میں بچیوں کے تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وفاقی دارالحکومت میں پارکوں اور سبزہ زار علاقوں پر ناجائز تجاوزات و کنکریٹ کی تعمیرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے چئیرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ اسلام آباد میں واقع تمام رہائشی کالونیوں میں سی ڈی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور سوسائٹی مالکان کی نشاندہی کی جائے تاکہ ایسے افراد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ کنکریٹ کے بے ترتیب اوربے ہنگم پھیلاؤ سے ماحولیات پر گہرے اثر ات مرتب ہو رہے ہیں جس کا معاشرے کے ہر طبقے کو ادارک کرنے کی ضرورت ہے۔ امن وامان کی صورتحال اور دارالحکومت میں پولیس سروسز کی بہتری پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ہر تھانے میں کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم کے قیام کو یقینی بنایا جائے تاکہ آن لائن فیڈ بیک کے ساتھ ساتھ شخصی طور پر بھی پولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے شہریوں کی آرا حاصل کی جا سکیں اور نظا م کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔

وزیرِ اعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ اسلام آباد پولیس کی ضروریات اور مطلوبہ افرادی و مالی وسائل کا جائزہ لیکر اقدامات کیے جائیں تاکہ دارالحکومت کو سیکورٹی کے اعتبار سے ایک ماڈل شہر بنانے کو یقینی بنایا جا سکے۔

Your Thoughts and Comments