دنیا بھر میں ذیا بیطس ٹائپI کے مریض بچوں کی تعداد4لاکھ40ہزار ہے‘ پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی

ذیابیطس کو مزمن، وراثتی، استحالہ (میٹا بولک)میں خرابی کی وجہ سے ہونیوالی بیماری کہاجاتا ہے‘مجلس مذاکرہ سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 فروری2020ء)دنیا بھر میںذیابیطس ٹائپI کے مریض بچوں کی تعداد4لاکھ40ہزار ہے۔ ذیابیطس ٹائپ II کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ صرف بڑوں کی بیماری ہے لیکن آج یہ بھی بچوں اور بڑوں میں تشویشناک شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی (چیئر مین امتحانی کمیٹی نیشل کونسل فا ر طب)، حکیم محمد افضل میو ، حکیم سید عمران فیاض، حکیم احمد حسن نوری، حکیم عطاء الرحمن صدیقی، حکیم امجد وحید بھٹی، حکیم محمد ابو بکر، حکیم محمد حفیظ، حکیم حامد محمود، حکیم ڈاکٹر عمر فاروق گوندل اور ڈاکٹر سکندر حیات زاہد نے بچوں اور نوجوانوں میں ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح اور احتیاطی تدابیر کے موضوع پر منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ذبابیطس کو مزمن، وراثتی، استحالہ (میٹا بولک)میں خرابی کی وجہ سے ہونیوالی بیماری کہاجاتا ہے۔ اس میں جسم انسانی کا کاربو ہائیڈریٹ کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے خون یا پیشاب میں شوگر بڑھ جاتی ہے۔ اس مرض میں انسانی جسم انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں کرپاتا یا بالکل بنانا بند کردیتا ہے۔ جنیاتی اور موحولیاتی عوامل، موٹاپا اور ورزش کی کمی ذیابیطس کی پیدائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے اسباب کا جائزہ لینے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس بیماری کے بچوں اور جوانوں میں تشویشناک حد تک بڑھنے کی وجہ غیر فطری طرز زندگی ، غیر متوازن خوارک، سست روی او ر ورزش کا فقدان اہم عوامل ہیں۔ حالانکہ پہلے پہل ذیابیطیس کو بڑی عمر یا بوڑھے افراد کی بیماری سمجھا جاتا تھا۔ لہذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو ایسی خطرناک مرض سے بچانے اور صحت مند مستقبل دینے کے لئے قومی اور ملکی سطح پر صحت مند طرززندگی اختیار کیا جائے کیونکہ ہر بچے کو طویل اور صحت مند زندگی جینے کا حق ہے۔

Your Thoughts and Comments