اوکاڑہ میں پولیو کے دو کیس سامنے آنے میں کوئی صداقت نہیں ہے،ڈپٹی کمشنر

اوکاڑہ میں پولیو کے دو کیس سامنے آنے میں کوئی صداقت نہیں ہے،ڈپٹی کمشنر
اوکاڑہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 فروری2020ء) ڈپٹی کمشنر عثمان علی نے کہا ہے کہ اوکاڑہ میں پولیو کے دو کیس سامنے آمنے میں صداقت نہ ہے، بی بی مشطح کے پولیو کا کیس قلعہ عبد اللہ میں رپورٹ ہوا ہے یہ بچی اپنے والدین کے ہمراہ سفر کرتے ہوئے عارضی طور پر اوکاڑہ میں مقیم ہوئی تھی جس کو یہاں پر طبی امداد دی گئی تھی لیکن اس کیس کا اوکاڑہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح 14 سالہ ایمان فاطمہ جو کہ 21/GD کی رہائشی ہے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اس پولیو وائرس کاجینیاتی لنک لاہور کے پولیو وائرس سے مماثلت رکھتا ہے ایمان فاطمہ کا اپنے والدین کے ہمراہ لاہور میں مسلسل آنے جانے کا ریکارڈ ہے کیونکہ یہ بچی اوکاڑہ میں رہائش پذیر ہے اس لئے یہ کیس اوکاڑہ سے رپورٹ ہوا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر عبد المجید ،ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر سجاد گیلانی ،ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر ذیشان بھی موجود تھے ۔ڈپٹی کمشنر عثمان علی نے کہا کہ ضلع کی سطح پر 21/GD یونین کونسل سے متعلقہ تمام علاقوں میں جاری انسداد پولیو مہم کے ساتھ ساتھ خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں اور اس سلسلہ میں محکمہ صحت ضلع اوکاڑہ اور ڈبلیو ایچ او کی ٹیمیں باقاعدہ میڈیکل اور ٹیکنیکل گراؤنڈز پر اقدامات کر رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر عثمان علی نے صحافیوں کو بتایا کہ ضلع میں دور دراز کے مقامات خصوصاًًدریائی علاقوں میں اپنی ڈھاریوں پر رہنے والے لوگوں اور خانہ بدوشوں کے بچوں کو انسداد پولیو ویکسین کے قطرے پلانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور پورے ضلع میں اگر کوئی گھر خالی پڑا ہوا ہے اور اس کے مکین کہیں اور چلے گئے ہیں اس کے بارے میں بھی پوری معلومات اکھٹی کی گئی ہیں کیونکہ ان گھروں کے بچے اگر کسی دوسرے ضلع میں چلے گئے ہیں تو وہاں بھی ان کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جا سکیں ۔

Your Thoughts and Comments