ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک سے کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل کر دی

جو ممالک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ کرونا وائرس سے محفوظ ہیں، وہ سنگین غلطی کر رہے ہیں، ایران اور اٹلی میں جس تیزی سے یہ وائرس پھیلا ہے اس کے بعد سب کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے: سربراہ عالمی ادارہ صحت

نیو یارک (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 27 فروری 2020ء) ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک سے کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل کر دی، سربراہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جو ممالک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ کرونا وائرس سے محفوظ ہیں، وہ سنگین غلطی کر رہے ہیں، ایران اور اٹلی میں جس تیزی سے یہ وائرس پھیلا ہے اس کے بعد سب کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق سربراہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے ہنگامی بیان جاری کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا اب ایک ملک تک محدود نہیں رہی۔ چین میں تو کرونا وائرس کے پھیلاو پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اب دیگر کئی ممالک میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایران اور اٹلی میں جس انداز میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں، اس کے بعد کسی بھی ملک کو یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ وہ کرونا وائرس سے محفوظ ہے۔

ایسا سوچنا سنگین غلطی ہوگی۔ اس لیے اب ضروری ہے کہ تمام ممالک کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے فوری ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیں۔ واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کرونا وائرس اب دنیا بھر میں پھیلتا جا رہا ہے۔اٹلی ،ایران، بحرین،کویت اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ چین میں کرونا وائرس سے مزید 29 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ ایک روز میں سب سے کم ہلاکتیں ہیں۔ نئے متاثرین کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ 22 ہزار 888 افراد صحتیابی کے بعد گھروں کو چلے گئے۔ نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق چین میں 2 ہزار 744 افراد کرونا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ چین میں 78 ہزار 500 افراد کرونا کا شکار ہوئے ۔صوبہ ہبئی میں لاک ڈاؤن ہے تاہم باقی شہروں میں زندگی معمول کی جانب لوٹ رہی ہے۔

کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث سعودی عرب نے عمرہ اور مسجد نبوی کی زیارت کے لیے آنے والوں کے لیے داخلہ عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ وائرس پھیلنے کے خدشات کے حامل ممالک کے شہریوں کے سیاحتی ویزا پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایران میں بھی کرونا کے خدشے کی وجہ سے مشہد اور قم شہر جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جنوبی کوریا میں کرونا سے تیرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اٹلی میں کرونا سے 12 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 400 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ دنیا بھرکے چالیس ممالک میں 88 ہزار افراد کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔

Your Thoughts and Comments