بند کریں
صحت صحت کی خبریںبلوچستان کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،اگر بات نہ مانی گئی تو فٹ پاتھ سے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/06/2013 - 17:03:23 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:49:42 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:41:07 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:41:07 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:38:38 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:38:38 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 22:53:05 وقت اشاعت: 08/06/2013 - 13:51:00 وقت اشاعت: 07/06/2013 - 23:32:52 وقت اشاعت: 07/06/2013 - 23:32:52 وقت اشاعت: 07/06/2013 - 16:18:27

بلوچستان کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،اگر بات نہ مانی گئی تو فٹ پاتھ سے آئے ہیں، فٹ پاتھ پر واپس چلے جائیں گے ، سیکرٹ فنڈ کرپشن کا سرچشمہ ہے،آج سے سیکرٹ فنڈ کو مکمل طور پر بند کررہا ہوں ، سیاسی جماعتیں ، مسلح تنظیمیں آکر بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالیں، اگر وفاقی حکومت اور عسکری تنظیموں نے مدد کی تو بلوچستان کا مسئلہ کوئی وجہ نہیں کے حل نہ ہوسکے ، صوبے کے 30 اضلاع میں سے 29 کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،ان کو صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی اور امن فراہم کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہیں ، کوئٹہ کو خوبصورت شہر بنائیں گے ، گوادر اور پسنی میں زمینوں کی بندربانٹ ہوئی، ایک ایک انچ زمین کا حساب عوام کے سامنے لایا جائے گا،بلوچستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کاقائدایوان کے طور پر اسمبلی سے پہلا خطاب

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔9جون۔ 2013ء) بلوچستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ صوبے کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو ہم فٹ پاتھ سے آئے ہیں اور فٹ پاتھ پر واپس چلے جائیں گے ، سیکرٹ فنڈ کرپشن کا سرچشمہ ہے میں آج سے سیکرٹ فنڈ کو مکمل طور پر بند کررہا ہوں ، سیاسی جماعتیں ، مسلح تنظیمیں آکر بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے اگر وفاقی حکومت اور عسکری تنظیموں نے مدد کی تو بلوچستان کا مسئلہ کوئی وجہ نہیں کے حل نہ ہوسکے ، صوبے کے 30 اضلاع میں سے 29 کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،ان کو صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی اور امن فراہم کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہیں ، کوئٹہ کو خوبصورت شہر بنائیں گے ، اگر اسمبلی کے 65 ارکان یہ عہد کرے کہ ہم کسی غیر حاضر ٹیچر ، ڈاکٹر کی سفارش نہیں کریں گے تو میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ وہ سکول اور ہسپتال میں ضرور حاضر ہوگا ، گوادر اور پسنی میں جس انداز میں زمینوں کی بندربانٹ ہوئی ہے اس کی ایک ایک انچ زمین کا حساب عوام کے سامنے لایا جائے گا ۔

اتوار کو قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اسمبلی فلور پر اپنے پہلے خطاب میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے میاں محمد نواز شریف ، محمود خان اچکزئی ، سردار ثناء اللہ زہری ، مولانا عبدالواسع ، جعفر خان مندوخیل اور زمرک اچکزئی سمیت تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجھ پر جس اعتماد کااظہار کیا ہے کوشش کروں گا کہ اپنے صلاحیتوں کو بروئے کا رلا کر ان کے اعتماد پر پورا اتر سکوں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان او رباالخصوص بلوچستان کی عوام نے جن حالات میں الیکشن کئے اور ہمیں ووٹ دے کر اسمبلیوں تک پہنچایا ہم اپنے عوام کے بھی مشکور ہے میں اس سیاسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس کے تانے بانے عظیم بلوچ قائد میر عزیز یوسف مگسی ، خان عبدالصمد خان اچکزئی ، عبدالعزیز کرد اور نواب غوث بخش بزنجو سے ملتے ہیں جنہوں نے انگریز کے خلاف دلیرانہ جدوجہد کی ۔

انگریز کے خلاف جدوجہد اپنے آپ کو موت کی دعوت دینے کے مترادف تھا ہمارے قائدین عظیم انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگی قربان کرکے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ میں عظیم قائد گل بخش دشتی ، نسیم جنگیان ، عبدالخالق لانگو اور ایوب بلیدی کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے نیشنل پارٹی کو عوامی پارٹی بنا کر ہمیں یہ عزت دی ۔ الیکشن آزمائش تھا اور وزیراعلیٰ کا منصب اس سے بھی بڑا آزمائش ہے میں اس وقت بڑی آزمائش سے گزررہا ہوں صوبے میں لاپتہ افراد ، مسخ شدہ لاشیں ، ٹارگٹ کلنگ ، مذہبی تعصبات ، اغواء برائے تاوان ، نقل مکانی وہ مسائل ہیں جو میرے نزدیک کوہ مالیہ سے بھی زیادہ وزنی اور اونچا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر میاں محمد نواز شریف اور پاکستان کے عسکری قیادت نے مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں میں قبائلی معتبرین اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنے بھائیوں کے پاس میڑھ معرکہ لے کر جاؤں گا اور انہیں کہوں گا کہ اس وقت بلوچستان جل رہا ہے آپ کو جو بھی اطلاعات دے رہے ہیں وہ غلط ہیں اس وقت صوبے میں آگ لگی ہوئی ہیں بھائی بھائی کو مار رہا ہے تعلیمی ادارے برباد ہے 30 اضلاع میں 29 کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں بلوچستان کی ترقی کے لئے امن کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں ان علمائے کرام کے پاس بھی جانے کے لئے تیار ہوں جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے حوالے سے تبلیغات سکھائے اگر ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے تو ہم وہ بلوچستان اور کوئٹہ اپنی اس شکل میں واپس لانے میں کامیاب ہوں گے جو 1977 ء کے عشرے میں ہوا کرتا تھا جہاں ہم فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر گپ شپ کرتے تھے ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں , عوام اور مسلح تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ امن کی خاطر ٹیبل پر بیٹھ کر بات چیت کرے ۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ باتیں تو ہم سب اچھی کرتے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر اس ایوان میں موجود 65 ارکان اپنے آپ کو بدلیں گے تو صوبے میں تبدیلی ناگزیر ہیں اور ہمیں آج عہد کرنا چاہیے کہ ہم کسی ڈاکٹر یا ٹیچر کی سفارش نہیں کریں گے جو ڈیوٹی نہ دیتا ہوں اور اگر ہم اس عہد میں کامیاب ہوگئے اور اگر ہم اس ٹیچر اور ڈاکٹر کو حاضر ہونے میں کامیاب نہ ہوسکے جو چور کی سزا وہ ہمیں دیا جائے ۔

ہمیں یہ بھی عہد کرنا چاہیے کہ کوئی بھی سرکاری آفیسر بغیر اجازت کے تحت سیکرٹریٹ اور ڈائریکٹریٹ میں داخل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی اور ڈی پی او کو سیاسی اثرورسوخ کے زیر استعمال نہیں لایا جانا چاہیے اور نہ ہی سیاسی بنیادوں پر کسی کی تعیناتی ہوگی ہمیں کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم سب کو وقت کی پابندی کرنا ہوگی ۔ انہوں نے سرکاری آفیسروں ، ڈاکٹروں اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ تبدیلی کو سمجھے کیونکہ وقت تبدیل ہوچکا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد کم ہورہا ہے ہم نے اس اعتماد کو برقرار رکھنا ہے اور اگر ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو پھر عوام کا دل جیتنا ہمارے لئے مشکل ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلوں گا لیکن ان سے بھی تعاون کی درخواست کرتا ہوں ۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے واضح کیا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں ایک دن یا 5 سال وزیراعلیٰ رہا عزت کے ساتھ رہوں گا وہ کام کبھی نہیں کروں گا جو پاکستان یا اسلام آباد میں ہماری بے عزتی کا باعث ثابت ہو ۔

ہمارے پاس نہ پہلے کچھ تھا اور بعد میں کچھ رہے گا اگر ہم اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوئے تو فٹ پاتھ کا آدمی تھا اور فٹ پاتھ پر ہی چلا جاہوں گا جہاں تک ہوسکے اپنی کردار اور عمل کو ثابت کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا پارلیمنٹ کو مذاق نہیں بنانا چاہیے جن قوموں نے پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیا وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ اٹھارویں ترمیم سے جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ سنجیدگی سے استعمال میں لاہوں گا ۔

وفاق کے ساتھ اس وقت صرف 5 شعبے ہیں بہت کچھ صوبوں کو دیدیا گیا ہے زمینداری ہماری اہم ذریعہ معاش ہے مگر بجلی نہ ہونے کے برابر ہے اٹھارویں ترمیم کے بعد 50 میگاواٹ بجلی لگانے کا اختیار ہمیں حاصل ہے کیوں نے ہم لورالائی ، واشک اور خضدار میں50 میگاواٹ کے بجلی گر تعمیر کرے ۔ کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خدارا بہت کچھ ہوچکا ہے اب مزید برداشت نہیں ہوسکا میں اپنے گھر سے احتساب اور تبدیلی کا آغاز کرتا ہوں سب سے پہلے سیکرٹ فنڈ کو بند کررہا ہوں جو کرپشن کا سرچشمہ ہے ۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے تمام مراعات پر کٹ لگادیں گے اور وی آئی پی کلچرکا خاتمہ کریں گے ۔ سیکورٹی کے بغیر کوئی وی آئی پی پروٹوکول حاصل نہیں کروں گا کیونکہ وی آئی پی پروٹوکول کے نام پر جب سڑکیں بند ہوجاتی ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے ہمیں ان غریب عوام کو وی آئی پی پروٹوکول دینا چاہیے جن کے بچے تعلیم ، علاج اور پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہے ۔

تمام معاملات کو میرٹ کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ایک شفاف اور سیاسی اثرورسوخ کے بغیر احتساب کا عمل شروع کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں قبائلی تضادات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے ہم نے ایک دوسرے کو بہت مارا ہے ان تنازعات کو ختم کرکے مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ ہندو اور کرسچن ہمارے معاشرے کا بہت اہم حصہ ہے لیکن اس وقت وہ مائی گریشن پر مجبورہے ان کا سکون برباد ہوچکا ہے اقلیتوں کا تحفظ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔

خواتین کے حقوق سے متعلق انہوں نے کہا کہ خواتین اراکین اسمبلی خواتین کی ترقی کے حوالے سے ہمیں تجاویز دے ہم کابینہ اور اسمبلی کی فلور پر منظور کرائیں گے کیونکہ خواتین کے بغیر معاشرہ کا چلنا ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مادری زبانوں سے نہیں روک سکتا ہم تمام کالجوں اور سکولوں میں مادری زبانوں کا سبجیکٹ شروع کرائیں گے یہ ہمارا خواب تھا جسے ہم پورا کرنے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وفاق سے اپنے حقو ق کے حصول کی خاطر ضرور لڑیں گے اور نئے سماجی عمرانی معاہدے کے لئے کام کریں گے ۔ وفاق میں ملازمین کے کوٹے پر عمل درآمد کروائیں گے میاں محمد نواز شریف پر واضح کردیں گے کہ وفاقی اداروں میں بلوچستان کے اصل نمائندوں کو ملازمتیں ملنی چاہیے نہ کہ ان لوگوں جو کہ اسلام آبا دمیں بلوچستان کے نام پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ شہر کو خوبصورت بنائیں گے مسائل ضرور ہیں لیکن اگر اراکین اسمبلی ہمارا ساتھ دیں گے تو انشاء اللہ ہم تمام مسائل پر قابو پالیں گے ایسا نہ کہ ہم خوبصورتی کے لئے کام کرے دوسری طرف احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ساحل اور وسائل کا تحفظ کریں گے ۔

امن وامان سے متعلق انہوں نے کہا کہ فورس کو ہم نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اس لئے وہ ناکام ہوگئی ہے لیویز ، پولیس کو جدید خطوط پر استوار کریں گے تاکہ ہمیں بار بار ایف سی اور دوسرے فورسز کو بلانے کی ضرورت نہ پڑے ۔گوادر اور پسنی میں ماہی گیروں کے ساتھ ماضی میں کافی زیادتیاں ہوئی ہیں آج کے بعد ان کے ساتھ زیادتیاں نہیں ہونے دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ گوادر اورپسنی میں وہاں کے مقامی اور سرکاری زمینوں کی زبردست انداز میں بندربانٹ ہوئی ہے وزراء نے 3 لاکھ کی پلاٹ 3 ہزار میں خرید لئے ہیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ گوادر اور پسنی کے زمین کے ایک ایک انچ کا حساب لیا جائے گا اور جنہوں نے کرپشن کی اس کو جواب دیناپڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ ، پشتون ، ہزارہ اور آبادکار کو اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عدم تشدد اور برداشت کو اپنانا ہوگا جب تک جیو اور جینے دو کے فلسفے کو نہیں اپنائیں گے اس وقت تک مسائل سے دوچار رہیں گے ہمیں ان تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا جو لڑانے کی وجہ بنتی رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مائننگ سیکٹر سے مافیا اور لینڈ مافیا کے خاتمے کے لئے از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور مقامی افراد کو وہاں ترجیح دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ اللہ میں داغ ندامت سے بچائے ۔
09/06/2013 - 23:38:38 :وقت اشاعت