بند کریں
صحت صحت کی خبریںامن وامان کے بغیرصوبے میں ترقی ممکن نہیں ، صحت ، تعلیم سمیت تمام شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/06/2013 - 13:27:47 وقت اشاعت: 10/06/2013 - 17:03:23 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:49:42 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:41:07 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:41:07 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:38:38 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 23:38:38 وقت اشاعت: 09/06/2013 - 22:53:05 وقت اشاعت: 08/06/2013 - 13:51:00 وقت اشاعت: 07/06/2013 - 23:32:52 وقت اشاعت: 07/06/2013 - 23:32:52

امن وامان کے بغیرصوبے میں ترقی ممکن نہیں ، صحت ، تعلیم سمیت تمام شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں ، بیوروکریسی سمیت معاشرے کے ہر فرد کو غلط کام کو چھوڑ کر صحیح سمت کی طرف جانا ہوگا ، حکومت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے، اراکین اسمبلی غیر مشروط طور پر سپورٹ کریں گے ،اگر حالات جوں کے توں رہے تو تنقید ضرور ہوگی، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نواب ثناء اللہ زہری،جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع ،پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال،مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر شیخ جعفرخان مندوخیل ، عوامی نیشنل پارٹی کے زمرک اچکزئی ودیگر کی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو نئے قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔9جون۔ 2013ء) بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے صوبے میں بدامنی کو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن وامان کے بغیرصوبے میں ترقی ممکن نہیں ، صحت ، تعلیم سمیت تمام شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں ، بیوروکریسی سمیت معاشرے کے ہر فرد کو غلط کام کو چھوڑ کر صحیح سمت کی طرف جانا ہوگا ، حکومت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے، اراکین اسمبلی غیر مشروط طور پر سپورٹ کریں گے ،اگر حالات جوں کے توں رہے تو تنقید ضرور ہوگی ۔

اتوار کو مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نواب ثناء اللہ زہری نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو نئے قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ وہ اس صوبے کے عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے ، خوشی اس بات کی ہے کہ ہماری اسمبلی نے ایک بار پھر اپنی روایات کو برقرار رکھ کر ڈاکٹر عبدالمالک کو متفقہ طور پر قائد ایوان منتخب کیا ہے میں جمعیت علماء اسلام کا کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حق میں نہ صرف کاغذات جمع نہیں کرائے بلکہ ایوان میں غیر مشروط طور پر ووٹ بھی دیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ شپ سے بڑھ کر اس صوبے اور ملک کی عوام کے لئے بچوں کی قربانی دی ہے میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور اس ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ عوام کی فلاح وبہبود کے لئے اور امن وامان کی بحالی کے لئے ممکن تعاون کریں گے صوبے کا بنیادی مسئلہ اس وقت امن وامان کا ہے جس کے بغیر کسی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں ، خلیجی ممالک میں آج کرائم نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے وہ مسلسل ترقی کررہے ہیں حالانکہ آزادی انہوں نے ہم سے بعد میں حاصل کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آج صوبے میں کوئی شاہراہ محفوظ نہیں جب ہمارے بچے مارے جاسکتے ہیں تو ایک عام آدمی کا کیا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کے علاوہ کرپشن بھی اہم بنیادی مسئلہ ہے اس پر بھی نو منتخب حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینا ہوگی اور کرپشن کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر جنگ لڑنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر ضلع میں 50 بستروں پر مشتمل ایک رول ماڈل ہسپتال بنائے تاکہ دارالحکومت پر بوجھ کم ہوسکے بدقسمتی یہ ہے کہ پورے صوبے میں دل کی مریضوں کا کوئی ہسپتال نہیں تعلیم کا برا حال ہے کالجز اور سکول بند ہیں اگر ہم نے صوبے کو واقعی ترقی دینا ہے تو پانی ، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دینا ہوگی ۔

جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے نومنتخب وزیراعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے صوبے کی نہ صرف روایات بلکہ ان قوتوں کا جو ہمیشہ یہ طعنہ دیتے تھے کہ بلوچستان کے لوگ کبھی کسی بات پر متفق نہیں ہوتے جواب ڈاکٹر عبدالمالک کو غیر مشروط طو رپر ووٹ دے کر یہ پیغام دیاہے کہ صوبے کی عوام ہمیشہ مثبت کاموں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ سے متفق رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک ایک کہنہ مشق سیاستدان ہے اور اسلام آباد کا بلوچستان کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے سے بھی اچھی طرح باخبر ہے اگر ڈاکٹر عبدالمالک اور ان کی ٹیم مرکز سے کچھ حاصل کرے گا تو یہ ہم سب کی مفاد میں ہوگا اور ہمارے درمیان کوئی بلوچ ، پٹھان کا جھگڑا نہیں ہوگا ہم اس سرزمین کے باسی ہے ہر اچھے کام پر غیر مشروط طور پر وزیراعلیٰ اور ان کی حکومت کی حمایت کریں گے ، 3 جماعتی اتحاد نے جو فارمولا دیا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ اس پر پورا اترے جمعیت علماء اسلام مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت صوبے میں امن وامان خراب ہے بحیثیت قوم ہمارا معاشرہ اس طرح بن گیا ہے کہ ہم کہتے کچھ اور اور کرتے کچھ اور ہیں پالیسیاں ہمیشہ عوامی مرضی کے متصادم تشکیل دیئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو مزاحمت کار پہاڑوں پر گئے ہیں ان کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ انہیں حقوق نہیں ملے ہیں اگر تمام قوموں اور صوبوں کو حقوق ووسائل دیئے جائے تو قومی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ مرکزی حکومت نے بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے وزیراعلیٰ اور گورنر کو مذاکرات کے لئے کبھی اختیار نہیں دیئے اگر موجودہ اسمبلی میں بھی بے اختیار رہے گی تو امن وامان اور ترقی بے معنی ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم آئین پر عمل درآمد کرے تو کافی حد تک ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے ۔ پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے نومنتخب وزیراعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آج کا یہ مقتدر ایوان ماضی کے ہمارے اکابرین کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی ہیں جمہوریت کی باتیں سب کرتے ہیں آمریت کے دور میں ہمارے اکابرین نے زندگی کا آدھا حصہ جیلوں میں گزارا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک ، صوبے اور معاشرے میں خرابی راتوں رات نہیں آئی ہے اس کے پیچھے ان حکمرانوں کا ہاتھ ہے جنہوں نے کبھی بھی عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی ۔ اس وقت ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو معاشرے میں مزید خرابیاں پید ہوگی ۔ کرپشن رشوت معاشرے کا بنیادی حصہ بن چکا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں کرپشن کرنے پر لوگ فخر کرتے ہیں ۔

انہوں نے بیوروکریسی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غلط کام چھوڑ کر مثبت راہ اپنائے ورنہ بربادی کا یہ سلسلہ کبھی تھمے گا نہیں ۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ امن وامان کی خرابی کے کئی اسباب ہیں قومیتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیاہے کوئی شخص اگر قانون توڑتا ہے وہ اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتا ہے معاشرے کو سلجھانے کے لئے انسانوں کو قانون کی پاسداری کرنی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ امن وامان کو درست کرنے میں فورسز نے صحیح معنوں میں کام نہیں کیا ۔ موجودہ حکومت کو حالات کی درستگی کے لئے انتظامیہ سے کام لینا پڑے گا تعلیم ، صحت تباہ ہوچکا ہے ڈاکٹرز ملازم ہوتے ہوئے بھی سرکاری ہسپتالوں کا رخ نہیں کرتے اور ٹیچرز اسکولوں میں حاضریاں نہیں دیتے حکومت غیر حاضر ڈاکٹروں اور ٹیچروں کے خلاف فوری اقدام کرتے ہوئے ان کی تنخواہیں بند کرے ۔

انہوں نے کہا کہ قوموں کی زبان ، کلچر اور روایات کو تسلیم کرتے ہوئے مثبت چیزوں کو فروغ دیا جائے اور مادری زبانوں میں تعلیم رائج کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ماضی کے مقابلے میں بہتر اقدامات کئے تھے جس کے نتیجے میں کافی حد تک شفاف انتخابات ہوئے البتہ کچھ لوگوں کو شکوے اور خدشات ضرور ہوں گے لیکن ہمیں الیکشن کمیشن پر زور دینا چاہیے کہ وہ آئندہ اس سے بھی بڑھ کر کارکردگی دکھائے ۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں این ایچ اے نیشنل ہائی وہے کی سڑکیں زبوں حالی کا شکارہے ، بجلی نہ ہونے کے برابر ہیں13 ملین ایکڑ فٹ سیلابی پانی ہر سال ضائع ہوتا ہے 3 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کو صرف ہم ذخیرہ کرسکے ہیں ضائع پانی کو بچانے کے لئے ڈیم بنانے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ماضی میں حکومت نے 2 سو ڈیم بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن 5 سال کے دوران صرف 50 ڈیم بن گئے ۔

انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ پیداواری یونٹ پر توجہ دے ورنہ ہم کب تک بھیک مانگتے رہیں گے ۔ مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے اسمبلی کا ریکارڈ اسی لئے خراب ہے کہ ہم باتیں اچھی کرتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتے ضروری ہے کہ ہم جو باتیں کرے ان پر عمل درآمد بھی دکھائے ۔ روایات کو تبدیل کرنا ہوگا خرابی ختم کرنے کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر عبدالمالک نہیں پورا ایوان ہوگا ماضی میں جو غلط ہوا ہے اب ہمیں اچھے کی طرف جانا ہے صوبے میں بنیادی مسئلہ امن وامان ہے بیرونی ممالک میں مداخلت کی وجہ سے آج ہمارا صوبہ بدامنی کا آماجگا بنا ہوا ہے کرائم روکنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اغواء برائے تاوان اس وقت منافع بخش کاروبار بن گیا ہے کوئی شاہراہ محفوظ نہیں کریمنل لوگوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا ۔

انتظامی اصلاحات بہت ضروری ہیں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود امن وامان نام کی کوئی چیز نہیں قتل وغارت عام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان مالی ڈسپلن کے حوالے سے کافی بدنام ہے وفاق نے بہت کچھ دیا ہے لیکن ہم نے کوئی پلاننگ نہیں کی ہے ماضی حکومت کی کارکردگی بہت حد تک خراب تھی ۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری نوکریوں سے روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اس لئے ہم نے زراعت ، صنعت پر توجہ دے کر لوگوں کو روزگار فراہم کرنا ہوگا ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے زمرک اچکزئی نے کہا کہ ہم نے بلوچ پشتون بھائی چارے کو برقرار رکھنے امن وامان کے قیام کے لئے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی حکومت کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سب سے بڑا مسئلہ امن وامان ہے جس کا 3 پہلوؤں ہیں ایک طرف تو مزاحمت کار ہے دوسری طرف فرقہ واریت جبکہ تیسرے جانب سماجی بدامنی ہے سماجی بدامنی کو ہم صوبائی سطح پر حل کرسکتے ہیں جہاں تک بات مزاحمت کاروں کی ہے تو ہم نے یہ سوچنا ہے کہ یہ مزاحمت کار خود پیدا ہوئے یا حقوق نہ ملنے یا پھر رویوں کی وجہ سے پہاڑوں پر چڑھے ہیں ماضی میں جب ہم پشتونخوا صوبے ، صوبائی خودمختاری کی بات کرتے تھے تو ہمیں غدار ایجنٹ کہا جاتا تھا لیکن آج پشتونخوا کا نام بھی موجود ہے اور صوبائی خود مختاری بھی کافی تک مل چکی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم ماضی میں بھی ٹھیک تھے اور اب بھی جو بات کررہے ہیں وہ بھی ٹھیک ہے ۔

عوامی نیشنل پارٹی نے جمہوریت اور اس ملک کی مضبوطی کے لئے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان تورنے والوں کا ساتھ نہیں دیتا لیکن یہ تجویز ضرور دوں گا کہ اس وقت جو لوگ مزاحمت کررہے ہیں سن کر ان کی تحفظات دور کیا جائے اگر حقوق دیئے جائے تو کوئی پاکستان کو نہیں توڑے گا ۔ مجلس وحدت مسلمین کے سید رضا آغا نے کہا کہ امیدہے کہ نومنتخب وزیراعلیٰ عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے اور برادر اقوام کو ساتھ لے کر چلیں گے ماضی میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی صوبے میں فرقہ واریت نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ کی سوچ ہے جو عام لوگوں پر اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم امن وامان کے ہر اقدام کو سپورٹ کریں گے ملک سے غدار اور محب وطن کے نام پر جو کھیل کھیلا جاتا ہے اب ختم ہونا چاہیے ۔ سردار اسلم بزنجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں امن وامان اور بجلی بنیادی مسائل ہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت تباہ ہوگئی ہے ۔ پشتونخوا میپ کے ڈاکٹر حامد اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے وسائل سے بجلی پیدا کرسکتے ہیں کوئلہ ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں کی حالت خراب ہے کوئٹہ چمن قلات ، لورالائی ژوب ڈیرہ غازی خان ، ڈیرہ اللہ یار تک کی شاہراہوں پر 10 سالوں سے کوئی کام نہیں ہوا ۔ زراعت برباد ہوچکی ہے امید ہے کہ موجودہ حکومت ان مسائل پر توجہ دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک تنظیم جسے تمام پارٹیوں نے دہشت گرد قرار دیا تھا اور وہ 12 مئی کے بے گناہ انسانوں کی قتل عام میں براہ راست ملوث تھا کافی عرصے سے پشتونوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے مگر افسوس کہ سندھ حکومت نے آج تک کسی پشتون کے قتل کی تحقیقات نہیں کی ۔

صوبے میں امن وامان سے متعلق انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری کوئٹہ یونیورسٹی سے 10 پی ایچ ڈیز ڈاکٹرز غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے چلے گئے ہیں قلات ، خاران ، مکران اور دیگر علاقوں میں پشتونوں کے سر محفوظ نہیں کچھ قوتیں اس طرح کی حرکتیں کرکے بلوچ پشتون مسئلہ پیدا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ، پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کے اراکین نے صوبے میں پشتون بلوچ اتحاد کے حوالے سے جو پروگرام تشکیل دیا ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے گا ہزارہ ، آباد کار ، بلوچ پشتون سمیت تمام عوام کی سر ومال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

ماضی حکومت کی غفلت کے باعث فرقہ واریت کے نام پر درجنوں افراد کو مار کر اس صوبے کے بلوچ اور پشتون عوام کو بدنام کیا گیا ۔ عبدالکریم نوشیروانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے پاکستان ہماری جان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چہروں سے سسٹم نہیں بدل سکتا بلکہ اس کے لئے زمین پر تبدیلی دکھان ہوگی اگر واقعی تبدیلی لانا ہے تو 1947 ء سے مسلط کی گئی گلے سڑے سسٹم کو ختم کرنا ہوگاتو بلوچستان میں صورتحال خود بخود ٹھیک ہوجائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ امن وامان کی بہتری کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اور ڈپٹی کمشنرز کو میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیا جائے اور ہر قسم کی سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہو ۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس سے 50 فیصد کرائم ختم ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دادو سے اوستہ محمد تک بجلی ٹرانسمیشن لائن پہنچ گئی ہے ضروری ہے کہ اسے جلد از جلد خضدار کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ بجلی کا مسئلہ حل ہوسکے ۔

ڈاکٹر شمع اسحاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزیراعلیٰ بننے سے تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے انشاء اللہ م عوام کے اعتماد پر بھر پور انداز میں اتریں گے اس وقت واقعی صوبہ مسائل کا شکار ہیں مسخ شدہ لاشوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے امن وامان بے روزگاری موجودہ حکومت کے لئے بنیادی مسائل ہیں جس سے نبردآزما ہونے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوگے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی بدتر صورتحال کے باعث اب تک بے شمار مائیں ، بہنیں بے سہارا ہوچکی ہیں دیکھا جائے تو پشتو، بلوچی ، اردو ، پنجابی ، سندھی ، سرائیکی ، براہوی ، ہزارگی ، فارسی سمیت ہر زبان بولنے والی ماں کے آنسوں ایک جیسے ہوتے ہیں ہمیں ان کے دکھ درد پر توجہ دینا ہوگی ۔

امن وامان کی صورتحال بہتر ہو تو صوبہ ہر شعبے میں ترقی کرے گی ۔ نومنتخب وزیراعلیٰ اور ارکان کو بیک آواز ہو کر درپیش چیلنجز سے نمٹنا ہوگا ۔ سمیرا خان نے ثناء اللہ زہری کے حکومت سازی میں کردار کو سراہا اور کہا کہ انتخابی عمل میں وہ عظیم سانحہ سے دوچار ہوئے ۔ بلوچستان میں مزاحمت اور ناراضگی کا سلسلہ نواب اکبر بگٹی قتل کے بعد پیدا ہوا ہمیں تمام عوامل کو مدنظر رکھ کر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے افراد ، اغواء نما گرفتاریوں سمیت دیگر کا خاتمہ کرکے صحت ، تعلیم اور کمیونیکشن پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رہنماء سنتوش کمار نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ موجودہ ایوان صوبے کی عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لئے بھر پور کردار اد اکرتے ہوئے ترقی ، خوشحالی اور امن وامان کے نفاذ کو ممکن بنائے گی ۔

ہندو کمیونٹی اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی پر نامزد قائد ایوان کے شکر گزار ہے ۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ متوسط طبقہ سے قائد ایوان کا انتخاب سیاسی نظام پر عوام کے اعتماد کو بڑھائے گی صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن وامان کی بحالی ہے مگر بعض اضلاع میں درپیش صورتحال پر اسمبلی میں ڈیبیٹ کرکے روڈ میپ تیار کرنا ہوگا کیونکہ اسمبلی ہی آئین کے مطابق سب سے سپریم ادارہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شاید منتخب نمائندے عوام کو درپیش مسائل کا مداواں نہیں بلکہ حصہ ہے اس کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ بیوروکریسی کو بے لگام اور نہ ہی بالکل محدود کرنا چاہیے ۔ گورننس اور گڈگورننس کے لے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے جب تک امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی تو مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ پہاڑوں پر جانے والی کی جنگ شاید جائز ہو مگر کیا پاکستان کے نام پر لینے کا قتل عام جائز ہے نواب ثناء زہری کے بیٹے ، بھائی ، بھتیجے ، پروفیسرز ناظمہ طالب پروفیسرز اور اساتذہ کا قتل کیسا ہے مذہب کے نام پر قتل عام کرنے والے دہشت گرد اور لسانی بنیادوں پر ایسا کرنے والے ناراض کیوں کہلائے جاتے ہیں ہم ہر طرح کے تشدد کی مخالفت کرتے ہیں مسائل اور خاص کر امن کا قیام ناگزیر ہے جس پر توجہ دی جانی چاہیے ۔

میر مجیب الرحمن نے کہاکہ صوبے میں امن بحال کرکے تعلیم ، صحت اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات کا حل نکالا جاسکتا ہے جس کے لئے موجودہ منتخب اراکین اور قائد ایوان سے عوام کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ کچھ ایسے حالات میں سنبھالا ہے جو شاید صوبے کی مشکل ترین حالات ہیں گزشتہ 10 سالوں سے حکومتوں کی زیادتیوں کے بعد وزارت اعلیٰ کا عہدہ کانٹوں کی سیج ہے ۔

صوبے میں بے شمار چیلنجز ہیں جن میں امن وامان سر فہرست ہے مگر اس بارے بعض کام پچھلی حکومت کے ممبران کے بس میں تھے مگر ان پر عمل درآمد نہیں کرایا گیا جو بدقسمتی کے سوا کچھ نہیں اس دور میں منتخب نمائندے اور انتظامیہ کے اعلیٰ آفیسران سنگین جرائم میں ملوث یا پھر ایسا کرنے والوں کی پشت پناہی کرنے والے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کوئٹہ میں خاک میں ملادیئے گئے میں جس حلقے سے ہوں آج بھی وہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی ، صحت اور تعلیم تک کی سہولیات میسر نہیں واسا کا محکمہ محض ایک نام رہ گیا ہے اس کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا اس وقت سینکڑوں ٹیوب ویل خراب ہے مگر انہیں ٹھیک نہیں کیا جارہا ۔

شہر کے لئے ایک پلان ترتیب دیا جائے تاکہ عوام کو تعلیم ، صحت ، پانی ، ر وزگار اور تفریح کے مواقع میسر آسکے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ چمن ، لورالائی ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف شاہراہیں دہائی سے زائد وقت گزرنے کے باوجود تعمیر نہیں کی جاسکی ہے سابقہ منتخب نمائندے اوور ڈرافٹ کے خاتمے کا واویلا کرتے ہیں ہم اسے خوش آئند سمجھتے ہیں مگر صوبے میں آئے ہوئے اربوں روپے عوام تک پہنچے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے ہم چاہتے ہیں کہ کرپشن کرنے والوں کا احتساب ہو گڈ گورننس کو دن رات محنت کرکے بہتر بنانا ہوگا اس بارے بیوروکریسی کو بھی قومی جذبے کے تحت کام کرنا ہوگا ۔

اس موقع پر اسپیکر اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اقوام کی زبانیں ہمارے لئے قابل احترام ہیں لیکن ایسی زبان میں بات کی جائے جس کا سب کو سمجھ آئے ۔ سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا بلامقابلہ انتخاب مبارک ہے وزیراعلیٰ خود یہاں کی عوام کو درپیش مسائل ، دکھوں اور پریشانیوں کا سامنا کرچکے ہیں وہ عوام کے لئے درد دل رکھتے ہیں ۔

امید ہے موجودہ پارلیمنٹ عوام کی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانون شکنی کو باعث فخر سمجھتے ہیں جب تک یہ سوچ تبدیل نہیں ہوں گی اس وقت تک مسائل ختم نہیں ہوں گے حکومت چلانے کے لئے اچھے آفیسرز کی ضرورت ہوتی ہے سابقہ دور میں سینئر کی بجائے جونیئر کو ترجیح دینا مسائل کا بنیاد بنا ۔ ایماندار اور ٹیلنٹڈ آفیسران کو لا کر ہی گڈ گورننس کو بہتر کیا جاسکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام منتخب اراکین ایمانداری اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بھی قربانی دے ۔

سفارش کلچر کا خاتمہ کرکے ہی حالات بہتر بنائے جاسکتے ہیں ۔ جمعیت علماء اسلام کے سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ امن وامان بارے اداروں کی ناکامی کا واویلا کیا جارہا ہے مگر اس کی وجوہات نہیں دیکھی جاتی پولیس والے بیچارے خدمات کی انجام دہی کے دوران مارے جاتے ہیں انہیں اٹھانے کے لئے بھی کوئی آگے نہیں بڑھتا ایسا واقعہ میں خود دیکھ چکا ہوں جنازہ پڑھنے کے بعد شہید ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ایسے میں اہلکاروں سے ڈیلیور کرنے کا نہیں سوچا جاسکتا ۔

فورسز کو اتنی سہولیات اور مراعات دی جانی چاہیے کہ وہ جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے فخر محسوس کرے ۔ یہاں مزاحمت کاروں سے بات چیت کا کہا جارہا ہے مگر میں کہتا ہوں چھت اور زمین والوں کے مذاکرات کیسے وہ کسی کا وجود ماننے کو تیار نہیں بلکہ علاقے فتح کررہے ہیں ۔ بلوچستان میں قبائل کو کوئی فتح نہیں کرسکتا اگر کوئی عوام کی ترقی چاہتا ہے تو صحت ، تعلیم سمیت دیگر پر توجہ دینا ہوگی ۔

امن وامان کی بحالی بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے مگر پستول والوں کو سزا اور مزائل فائر کرنے والوں کو بے لگام چھوڑنا حالات کو مزید گھمبیر بنادے گی ۔ جنہوں نے لوگوں کو لائنوں میں کھڑا کرکے مارا اور موت کا کھیل کھیلا ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں محض تقاریر سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں پارٹی ، فرقہ ، قومیت سے بالاتر ہو کر مل جل کر جدوجہد کرنا ہوں گی مختلف ناموں پر تقسیم ہوں گے تو امن وامان کا خواب کسی صورت پورا نہیں ہوگا ۔ نیشنل پارٹی کے نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ امن وامان کی بحالی کے لئے ہمیں روایتی طریقہ کار سے نکل کوجرأت مندانہ اقدامات کرنے ہوں گے اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی کرنے والوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا
09/06/2013 - 23:38:38 :وقت اشاعت