بند کریں
صحت صحت کی خبریںشعبہ زراعت میں انقلاب برپا کریں گے،جعلی ادویات اور جعلی کھاد کے کاروبار کیخلاف کارروائی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/06/2013 - 17:52:32 وقت اشاعت: 24/06/2013 - 15:20:52 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 23:01:18 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:28:37 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:17:55 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:15:42 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:14:18 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:12:45 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 16:40:48 وقت اشاعت: 22/06/2013 - 14:48:18 وقت اشاعت: 21/06/2013 - 00:00:37

شعبہ زراعت میں انقلاب برپا کریں گے،جعلی ادویات اور جعلی کھاد کے کاروبار کیخلاف کارروائی ہوگی،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے فی ایکٹر زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے،نجی ماہرین کے تعاون سے زرعی شعبہ کو فروغ دیا جائے گا، زرعی تحقیقاتی اداروں کی استعدا د کار بڑھانے اور ایگرو بیسڈ انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے موٴثر اقدامات کئے جائیں گے، نجی ماہرین کی مشاورت سے دو ہفتے میں زراعت و لائیوسٹاک کے فروغ کیلئے ٹھوس وجامع سفارشات تیار کی جائیں، وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کااجلاس سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔23جون۔ 2013ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہاہے کہ زراعت ، لائیوسٹاک اور ڈیری فارمنگ کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ ہماری بڑی آبادی کا روزگاران شعبوں سے وابستہ ہے۔ بد قسمتی سے گزشتہ 65برس میں زراعت ،لائیوسٹاک وڈیری فارمنگ کو فروغ دینے کے لئے موثر اقدامات نہیں کئے گئے جس کی بنا پر پاکستان ان شعبوں میں ہمسایہ ممالک سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

پنجاب حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کر ر ہی ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے فی ایکٹر زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ پنجاب حکومت زراعت کے شعبہ میں انقلاب برپا کرے گی۔ نجی شعبہ سے وابستہ زرعی ماہرین کے تعاون سے زراعت کے فروغ کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جائے گا کیونکہ زراعت ، لائیوسٹاک اور ڈیری فارمنگ کو فروغ دے کر غربت اوربے روز گاری میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

جعلی زرعی ادویات اور جعلی کھاد کا کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور بہت جلد جعلی زرعی ادویات اورجعلی کھاد کے مکروہ کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف مہم کا آغاز کیاجائے گا۔وہ ماڈل ٹاؤن میں زراعت کی ترقی اور فی ایکٹر پیداوار بڑھانے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارات کر رہے تھے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فروخ جاوید ، معاون خصوصی چودھری ارشد جٹ، اراکین اسمبلی راؤ کاشف رحیم، حسین جہانیاں گردیزی ،چیف سیکرٹری، سیکرٹریز بلدیات ، خزانہ ،قانون، توانائی ، ماہرین زراعت اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ فور برادرز گروپ آف پاکستان کے جاوید سلیم قریشی نے پنجاب کی زراعت کے چیلنجز او رمواقع کے موضوع پر تفصیلی بریفنگ دی ۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بریفنگ کو سراہتے ہوئے کہاکہ بریفنگ میں پیش کی گئی سفارشات کی روشنی میں زراعت اور لائیو سٹاک کے فروغ کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ زراعت، آبپاشی، لائیوسٹاک کے وزراء اورسیکرٹری صاحبان نجی شعبہ کے زرعی ماہرین کے ساتھ مل کر دو ہفتے میں زراعت و لائیوسٹاک کے فروغ کے لئے ٹھوس وجامع سفارشات تیار کریں۔ انہوں نے کہاکہ جدید زرعی تحقیق کے اداروں کی استعدا د کار بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔

زرعی اجناس کی فی ایکٹر پیداوار میں اضافے کیلئے جدید زرعی تحقیق کے نتائج کاشتکاروں تک پہنچنے چاہئیں تاکہ وہ ان سے بھر پو رفائدہ ا ٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی فلاح کے لئے اچھی سبزی منڈیوں ، بہترین مارکیٹوں اور اجناس کی سٹوریج کی استعداد کار بڑ ھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ زرعی ترقی کے اہداف مقرر کر کے ان کے حصول کے لئے پوری توانائیاں بروئے کار لائی جائیں۔

چاول ،گندم ، کپاس اور پھلو ں کی پیداوار بڑھانا بے حد ضروری ہے، زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کر کے ملکی ریونیو کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ زراعت کو ترقی دینے اور بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے موٴثر پالیسیوں کی ضرورت ہے اس لئے زراعت، آبپاشی اور لائیوسٹاک سے وابستہ افراد وقت ضائع کئے بغیر مل بیٹھ کر پالیسیاں تشکیل دیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں زرخیز زمین ، بہترین آبی وسائل اورجفا کش کسان موجود ہیں۔

محنت، عزم اورلگن سے کام کر کے زراعت کے شعبہ میں انقلاب برپا کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایگرو بیسڈ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے موٴثر اقدامات کئے جائیں۔ دنیا بھر میں لائیوسٹاک کی تجارت 600ارب ڈالر ہے لیکن پاکستان کا حصہ اس تجارت میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ دور میں صوبائی دارالحکومت میں سٹیٹ آف دی آرٹ جدید سلاٹر ہاؤس قائم کیاہے اورایسے مزید سلاٹر ہاؤسز بنانے کی ضرورت ہے۔

فوربرادرز گروپ آف پاکستا ن کے جاوید سلیم قریشی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں فصلوں کی کاشت کے مراحل میں ہونے والے نقصانات پر قابو پانے کی ضرورت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آڑھتی سسٹم نے زراعت کو جکڑرکھا ہے اور چھوٹے کاشتکاروں کا استحصال ہوتا ہے، اس آڑھتی سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے زراعت کے فروغ کے لئے ٹمک مراکز(Tamac markaz ) کا تصور پیش کیا ،جسے اجلاس کے شرکاء نے بے حد سراہا۔ اجلاس میں موجود ماہرین نے زراعت کے فروغ کے لئے تجاویز اور آرا ء دیں۔
23/06/2013 - 22:15:42 :وقت اشاعت