بند کریں
صحت صحت کی خبریںسیکورٹی کی ابتر صورتحال ،قبائلی علاقوں میں 22فیصد بچے پولیو ویکیسن سے محروم

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/06/2013 - 17:53:11 وقت اشاعت: 24/06/2013 - 17:52:32 وقت اشاعت: 24/06/2013 - 15:20:52 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 23:01:18 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:28:37 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:17:55 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:15:42 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:14:18 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:12:45 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 16:40:48 وقت اشاعت: 22/06/2013 - 14:48:18

سیکورٹی کی ابتر صورتحال ،قبائلی علاقوں میں 22فیصد بچے پولیو ویکیسن سے محروم

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔23جون۔ 2013ء)فاٹا میں گذشتہ چھ ماہ کرے دوران 2لاکھ 54ہزار بچے پولیوویکیسن پینے سے محروم ہوگئے ،فاٹا میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال اور منفی پروپگنڈہ ہے،پولیو مہم کے اہداف تک پہنچے میں رکاوٹ ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قبائلی علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 22فیصد بچے پولیو ویکیسن پینے سے محرم رہیس،فاٹا میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران 2لاکھ 54ہزار بچوں کو پولیو ویکیسن نہ پلائی جا سکی ،فاٹا میں بد امنی اور پولیو ویکیسن کے خلاف منفی کے اہداف تک پہنچے میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔

فاٹاپولیو سیل کے مطابق شمالی وزیرستان ایجنسی میں 2012سے پولیو مہم نہیں چلائی جاسکی ،ایک لاکھ 62ہزار 177بچے پولیو ویکیسن پولیو کے قطرے نہ پی سکے ،جبکہ جنوبی وزیر ستان ایجنسی میں 64ہزار739بچے بھی پولیو ویکیسن سے محرم رہے،خیبر ایجنسی ،اورکزئی اور ایف آر پشاور میں مجموعی طورپر23ہزار13بچوں کو پولیو ویکیسن نہ پلائی جا سکی ،فاٹا پولیو سیل رپورٹ کے مطابق فاٹا میں رواں سال اب تک 8بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔جن میں سے 6خیبر ایجنسی اور2بچے ایف آر بنوں سے ہیں ،جون ۔جولائی اور اگست پولیو مہم چلانے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں ۔اگر اس دوران پولیو کے قطرے نہ پلائے جا سکے تو بچوں میں پولیو کے کیسزمیں تیزی سے اضافے کا خدشہ ہے۔
23/06/2013 - 22:17:55 :وقت اشاعت