بند کریں
صحت صحت کی خبریںبلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نے بجٹ دستیاویزات میں ترقیاتی اسکیمات کی نشاندہی نہ ہونے اور ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/06/2013 - 15:22:44 وقت اشاعت: 25/06/2013 - 13:44:47 وقت اشاعت: 24/06/2013 - 17:53:11 وقت اشاعت: 24/06/2013 - 17:52:32 وقت اشاعت: 24/06/2013 - 15:20:52 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 23:01:18 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:28:37 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:17:55 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:15:42 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:14:18 وقت اشاعت: 23/06/2013 - 22:12:45

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نے بجٹ دستیاویزات میں ترقیاتی اسکیمات کی نشاندہی نہ ہونے اور جاری سکیموں کیلئے کم رقوم کی فراہمی پر بجٹ مسترد کردیا،اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ، بجٹ اسکیمات ظاہر نہ کرنا عوام کو دھوکہ دینے کی مترادف ہے بجٹ میں عوام کیلئے کچھ نہیں ، اپوزیشن ارکان کی بجٹ پر کڑی تنقید،بجٹ عوام دوست ہے، صوبے کی تاریخ میں پہلی بار تعلیم اور صحت کی بجٹ میں توقعات سے زیادہ اضافہ کیا ہے جس میں صوبے میں تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوجائے گا ،حکومتی ارکان کا موقف

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔23جون۔ 2013ء) بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نے بجٹ دستیاویزات میں ترقیاتی اسکیمات کی نشاندہی نہ ہونے اور جاری اسکیمات کے لئے کم رقوم کی فراہمی پر بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ اسکیمات ظاہر نہ کرنا عوام کو دھوکہ دینے کی مترادف ہے اپوزیشن نے اسکیمات کی نشاندہی اور جاری اسکیمات کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم کی مختص کی یقین دہانی کرانے تک ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ حکومتی ارکان بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار تعلیم اور صحت کی بجٹ میں توقعات سے زیادہ اضافہ کیا ہے جس میں صوبے میں تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوجائے گا ۔

اسمبلی کا اجلاس سپیکر جان محمد جمالی کی صدارت میں اتوا رکو 30 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء اور اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہاکہ ہم نے شروع ہی دن سے فیصلہ کیا تھا کہ ایوان کے اندر اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے اور حکومت کی اچھے اقدامات کی تعریف اور منفی اقدامات پر تنقید کریں گے ۔

وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے انتخاب کے موقع پر غیر مشروط حمایت کرکے ہم نے اسلام آباد اور ان قوتوں کو یہ پیغام دیا ہے جو ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بلوچستان کے عوامی نمائندے آپس میں لڑتے ہیں اور کسی ایک مسئلے پر متحد نہیں ہوتے ہم نے حمایت کرکے واضح کردیا کہ بلوچستان کے لوگ روایات کی پاسداری کرتے ہوئے صوبے اور عوام کی مسائل پر متحد ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایوان کے اندر موجود تمام جماعتیں اپنے نظریات وحقائق کی بناء پر ووٹ لے کر آئے جے یو آئی بھی اپنی سوچ او رمنشور کے مطابق ووٹ لے کر ایوان میں موجود ہے ۔

بلوچستان اور پاکستان میں رہنے والے تمام اقوام بھائی ہے ژوب اور گوادر کے عوام کی غم اور خوشیاں ہمارے لئے ایک جیسی حیثیت رکھتی ہے ہماری نظر میں ژوب تا گوادر ، نوشکی تا لورالائی کے عوام سب برابر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جس منصب پر بیٹھے ہیں انہیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ گزشتہ سیاسی حکومت نے ان کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں ہماری جدوجہد کے نتیجے میں 50 ارب کا بجٹ ایک سو 98 ارب تک پہنچ گیاہے این ایف سی کی شکل میں ہم نے زبردست جنگ لڑی ہے آج صوبے کے اوپر کوئی اوور ڈراف اور قرضہ نہیں ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے اس کے لئے ڈاکٹر عبدالمالک اور اس کے وزراء کو اسلام آباد سے بھیک نہیں مانگنا پڑتا ۔

قوم پرست ساحل وسائل کی بات کرتے ہیں گزشتہ حکومت نے ساحل ووسائل کا بھر پور تحفظ کیا ہے لسبیلہ میں ہزاروں ایکڑ زمین واگزار کرایا ریکوڈک جو سونے اور تانبے کا 7 ارب ڈالر کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے 1993 میں اس کی حکومت نے اونے پونے داموں سے معاہدہ کیا ہماری حکومت نے اس فیصلے کو ناپسندیدہ قرار دے کر سپریم کورٹ اور عالمی عدالت انصاف میں کیس کیا جہاں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی ۔

اسٹریلین کمپنی لائسنس مانگ رہا تھا ہم نے ان کے سامنے صاف انکار کردیا کمپنی ہر لحاظ سے طاقتور تھی انہوں نے سپریم کورٹ اور بعد میں عالمی عدالت میں کیس دائر کیا ہم نے صوبے کی ذمہ دار نمائندوں کی حیثیت سے دلیل کے ساتھ دونوں فورم پر کیسز جیت لئے اور صوبے کے عوام کا سب سے بڑا خزانہ محفوظ کیا لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے اوپر کرپشن اور کمیشن کے الزامات تو لگتے رہے لیکن اس اٹل حقیقت کی کسی نے حوصلہ افزائی نہیں کی کہ ہم نے صوبے کی اتنے بڑے ذخیرے کو محفوظ بنایا ۔

این ایف سی ایوارڈ کی مد میں بجٹ ایک سو 98 ارب تک پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے نہ صرف نواب محمد اسلم رئیسانی کو 2 کروڑ ڈالر رشوت دینے کی کوشش کی بلکہ جے یو آئی کے ایک سنیٹر کے ذریعے ہمیں بھی قابو کرنے کی کوشش کی لیکن نواب اسلم رئیسانی اور ہم نے ان کے تمام پیشکشوں کو ٹھکرادیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ڈاکٹر عبدالمالک پر منحصر ہے کہ وہ ان عوامی خزانوں کو کس طرح تحفظ دیں گے ۔

وفاقی بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں بجلی کی مد میں سبسڈی ختم کردی گئی ہے میٹر پر ہمارے زمیندار بل ادا کرنے کے قابل نہیں صوبائی حکومت پوری طور پر سبسڈی بحال کرنے کے لئے وفاق سے بات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے دوران بقایاجات کی مد میں وفاقی حکومت نے ایک سو 20 ارب روپے ہر سال دس دس ارب روپے کی صورت میں ادا کرنے تھا لیکن اس سال بجٹ میں یہ گرانٹ کئی نظر نہیں آرہی حکومت اس مسئلے کو فوری طور پر وفاق کے ساتھ اٹھائے ۔

انہوں نے کہا کہ اس سال ایک سو 20منصوبوں کے لئے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں لیکن بلوچستان کو 5 ارب روپے بھی نہیں ملے گا نواز شریف نے اگر واقعی بلوچستان سے احساس محرومی ختم اور زخموں پر مرہم رکھنا ہے تو وہ وفاقی بجٹ میں کٹ لگا کر بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے سیکرٹ فنڈ اس بنیاد پر ختم کیا کہ یہ کرپشن کا سرچشمہ ہے ہماری نظر میں یہ فنڈ اگر ایمانداری سے استعمال کیا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں اور اگر اس کو غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو واقعی کرپشن ہے ۔

لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالمالک نے حلف اٹھانے کے بعد 3 کروڑ روپے کس مد سے ریلیز کئے ہیں اور یہ رقم کہاں سے آئی ہیں ہمیں وہ بات کرنی چاہیے جس پر بعد میں عمل درآمد بھی کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے حمایت حاصل کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ تمام اراکین کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے گا لیکن وہ بجٹ میں لگتا ہے اپنی بات بھول گئے یہاں سب کچھ خلاء میں نظر آرہا ہے ترقیاتی بجٹ 43 ارب روپے ہیں 3 ارب غیر ملکی قرضوں میں ادائیگی کے بعد 39ارب روے رہ جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جاری اسکیمات کے لئے جو 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں وہ ضائع ہوجائیں گے کیونکہ بڑے بڑے منصوبوں پر 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور اگر وہ صرف چند کروڑ روپے دیں گے تو یہ کام آئندہ مالی سال میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا جس کی وجہ سے یہ رقم ضائع ہوجائے گا ہم اس پی ایس ڈی پی کو مسترد کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ معدنیات میں ریکوڈک کے سوا اور کوئی رقم نہیں رکھی گئی ہے بلوچستان کے تمام اضلاع میں مختلف قسم کے معدنیات پائے جاتے ہیں افسوسناک بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہاں مقامی لوگ ان سے استفادہ حاصل نہیں کررہے پنجاب یا صوبے کے دیگر علاقوں سے لوگ آکر الاٹمنٹ کراتے ہیں صوبائی حکومت فوری طور پر ان غیر قانونی الاٹمنٹ کو منسوخ کرے ۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں نئے اسکیمات کے لئے جو خطیر رقم رکھی گئی ہے وہ خوش آئند ہے مگر جب تک جاری اسکیمات کو بروقت مکمل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ دستاویزات میں ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے ژوب ڈیرہ اسماعیل خان ٹرانسمیشن لائن کے لئے بجٹ میں کوئی ذکر نہیں ۔

ہماری حکومت میں یہ لوگ مظاہرے کرکے ژوب ٹرانسمشن لائن کا مطالبہ کرتے تھے جب ہم انہیں کہا کرتے تھے کہ یہ ہماری نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی بس کی بات ہے تو اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھے اسی طرح ہم پر الزام لگاتے تھے کہ ہم بلوچ پشتون برابری کی بات نہیں کرتے لیکن آج خود وہ اس بات پر خاموش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جاری اسکیمات کے لئے خطیر رقم مختص نہیں کیاجاتا اور پی ایس ڈی پی میں نئے اسکیمات کی نشاندہی نہیں کی جاتی ہم اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے اس دوران اپوزیشن ارکان مولانا عبدالواسع کی قیادت میں ایوان سے واک آؤٹ کرگئے جس پر اسپیکر نے صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی ، عبدالرحیم زیارتوال ، اراکین اسمبلی شیخ جعفر خان مندوخیل اور سرار رضا محمد بڑیچ کو مذاکرات کے لئے بھیجے جن کی یقین دہانی پر اپوزیشن ارکان میں واک آؤٹ ختم کرکے اجلاس میں شرکت کی ۔

بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پشتونخوا میپ کے منظور کاکڑ نے کہا کہ ان حالات میں اس سے بہتر اور عوام دوست بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا خاص کر تعلیم اور صحت کو جس انداز میں ترجیح دی گئی ہے وہ قابل ستائش ہے اسی طرح ایک تا 16 گریڈ کی ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا ہے انہوں نے کہاکہ بجٹ پر تنقید کرنے والے گھنٹہ بھر تقریر کرنے والے جب سننے کا وقت آیا تو وہ بائیکاٹ کرکے باہر چلے گئے ان کی حالت تو یہ تھی کہ کوئٹہ شہر میں سینکڑوں لاشیں روڈوں پر پڑی ہوتی تھیں وہ غمزدہ خاندانوں کی غم میں شرکت گوارہ نہیں کرتے تھے ۔

وزیراعلیٰ پورے سال صوبے سے باہر رہتے تھے متاثرین کی زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ٹشو پیپر بھیجنے کی تجویز دیتے تھے نااہلی کی حالت یہ ہے کہ پانچ سالوں میں پبلک اکاؤنٹ کمیٹی تک تشکیل نہیں دی گئی ۔ مسلم لیگ (ق) کے عبدالکریم نوشیروانی نے بجٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی بجٹ پر تنقید کرنا بلاجواز ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ جو بھی حکومت آتی ہے اپوزیشن صرف تنقید کرتی ہے اور ان کی تنقید تعمیری نہیں بلکہ مخالفت برائے مخالفت پر مبنی ہوتی ہے بجٹ میں تمام شعبہ جات کو مساوات کی نظر سے دیکھا گیا ہے تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہمارے ہاں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے صحت کے حوالے سے سہولتیں ناپید ہیں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے ۔

مولانا عبدالواسع نے 10 سال پی اینڈ ڈی کا محکمہ اپنے نام الاٹ کیا تھا پی اینڈ ڈی کا محکمہ صرف 4 ضلعوں تک محدود تھا ایک کروڑ کی اسکیم کو بعد میں ری وائز کر کے 11 ارب روپے تک پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سب سے اہم مسئلہ امن وامان کا ہے ہر ایم پی اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس ، ملیشا اور لیویز کے ساتھ تعاون کرے صوبائی حکومت ایماندار آفیسران کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی پوسٹنگ کرائے ۔

ا نہوں نے کہاکہ بجٹ پر تنقید کرنے والے اس صوبے کے خیر خواہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ماجد ابڑو نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اسے بہترین اور عوام دوست بجٹ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تعلیم کو نظرانداز کیا گیا تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے معاشرے کو ترقی دے سکتے ہیں جب تک تعلیم عام نہیں ہوگا اس وقت تک ہماری نسل اور معاشرہ ترقی نہیں کرسکے گا ۔

انہوں نے کہا کہ نصیرآباد بہت بڑی آبادی پر مشتمل علاقہ ہے جہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارو مدار زراعت سے وابستہ ہے لیکن وہاں پر کوئی یونیورسٹی اور پولی ٹیکنک کالج موجود نہیں اور نہ ہی زراعت کی ترقی کے لئے کوئی ادارہ موجود ہے ۔ انہوں ں ے کہاکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پی ایس ڈی پی میں میرے حلقے کا کوئی اسکیم شامل نہیں حالانکہ یہ علاقہ سیلاب کی وجہ سے شدید طور پر متاثر ہواہے صوبائی حکومت ممکنہ سیلاب سے تباہی سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرے ۔

مسلم لیگ (ن) کے راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ بجٹ میں کافی حد تک عوامی مسائل کی حل اور ان کے مفادات کا خیال رکھا گیاہمیشہ تعلیم کو نظر انداز کیا گیا لیکن اس بار تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے یہ خوش آئند اقدام ہے اس وقت ہمیں تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ بجٹ سے عوام میں خوشی اور امید کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی معاشرے میں اساتذہ کو اعلیٰ مقام حاصل ہے لیکن ہمارے اساتذہ اس مقام اور عزت سے محروم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے علاوہ دیگر اضلاع میں رہنے کے لئے رہائش کا بندوبست کرے اور بچوں کو لانے اور لے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ مہیا کرے ۔ تعلیمی اداروں کو سیکورٹی فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کے حوالے سے بجٹ میں جو تجاویز دی گئی ہے وہ خوش آئند ہے صوبے میں میٹنریٹی سب سے زیادہ ہے ہر ڈویژن کی سطح پر ہسپتالوں کو فعال کیا جائے اور خواتین کے لئے خصوصی سہولتوں کا بندوبست کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں دل کا کوئی ہسپتال نہیں پنجاب حکومت نے ہسپتال بنانے کا وعدہ کیا ہے لیکن وہ بھی اب تک پورا نہیں ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے فورسز کی استعداد بڑھایا جائے ۔ فائربریگیڈ ، شہری دفاع اور قدرتی آفات سے نمٹنے والا ادارہ پی ڈی ایم اے کو بھر پور طریقے سے فعال بنایا جائے ۔ کوئٹہ شہر میں پانی اہم مسئلہ بن گیا ہے ٹیوب ویلوں کے کنکشن کاٹ دیئے گئے ہیں پر ٹینکر 2ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کمیٹی تشکیل دیا جائے تاکہ وہ اس مسئلے کو حل کرسکے ۔

انہوں نے کہاکہ تمام ڈویژن میں ریسکیو سینٹر قائم کیا جائے اور معذور بچوں کے لئے مزید اسکول کھولنے کے ساتھ ساتھ روزگار کا بھی بندوبست کیا جائے ۔ گھریلو دستکاری کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی جائے تاکہ ہمارے خواتین کو ان کی ہنر سے استفادہ حاصل ہو ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے ڈیجٹیل لائبریری کا فوری طور پر بندوبست کیا جائے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی کشور احمد نے خطاب میں کہا کہ بجٹ عوام دوست اور خوش آئند ہے ہمارے پارٹی کے قائد ثناء اللہ زہری نے جس طرح عوام او رصوبے کی خوشحالی کی خاطر وزیراعلیٰ شپ چھوڑ کر ڈاکٹر عبدالمالک کے جھولی میں ڈال دیا ہے اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہے ۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت عوام کی امیدوں پر پورا اترے گی ۔ نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے وہ قابل مذمت ہے اور یہ صوبائی حکومت کے خلاف گہری سازش ہے میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے احتجاج کرتا ہوں کہ انہوں نے ملالہ کی کیس کوتو عالمی سطح پر اٹھادیا لیکن یہاں ہمارے بچیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا اس پر خاموش کیوں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مادری زبانوں کو رائج کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ خوش آئند ہے نواب اکبر بگٹی کے دور میں بھی سکولوں میں مادری زبانوں کو رائج کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے ختم کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بجٹ سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے موجودہ بجٹ کو اندھیرا ثابت کرنے والے تو 18 سال سے اقتدار پر قابض تھے اس وقت انہیں یہ اندھیرا نظر نہیں آیا ہم 18 سال گند کس کی سر ڈالے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم صوبے سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرے 18 سال گند دوسروں کے سر پر ڈالنا ناانصافی ہے تنقید برائے اصلاح کی جائے تو ہم اپنا اصلاح ضرور کریں گے لیکن اگر تنقید برائے تخریب ہوں تو اس کا جواب ہم اچھی طرح دے سکتے ہیں تعلیم کو فوکس رکھنا اس حکومت کا اہم کارنامہ ہے ماضی میں بنادی عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی 10 سال کی بجٹ میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود زمین پر کچھ نظر نہیںآ رہا ۔

انہوں نے کہا کہ سونا پیدا کرنے والی سرزمین کے عوام 2 وقت روٹی کے لئے ترس رہے ہیں ہم نے عملی اقدامات کرکے ان کو مسائل سے نکالنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مفت تعلیم کے نام پر 25 ارب روپے ہڑپ کر لئے گئے ہیں سکولوں میں آج تک کتابیں بروقت نہیں پہنچائی جاسکی ہے مفت تعلیم کو کرپشن کا جواز بنایا گیا بی ڈی اے او راربن ڈویلپمنٹ میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی اراکین اسمبلی اور وزراء ان محکموں کے پیسوں سے حج اور عمرے کرکے آتے تھے بعض ممبران نے سوئیزلینڈ اور لندن میں جائیدادیں بنائی ہیں وزراء اپنے حلقوں تک محدود تھے میرانی ڈیم کے متاثرین کے نام پر اربوں روپے لوٹا گیا میری تجویز ہے کہ اسمبلی کے اندر ایسی قرار داد لائی جائے کہ جس نے بھی کرپشن کی ہو ان کا احتساب کیا جائے
23/06/2013 - 23:01:18 :وقت اشاعت