بند کریں
صحت صحت کی خبریںکرپشن کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور گڈگورننس کے ذریعے پنجاب کودنیا کامثالی صوبہ بنائیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 02/07/2013 - 17:13:44 وقت اشاعت: 02/07/2013 - 17:13:10 وقت اشاعت: 02/07/2013 - 16:22:14 وقت اشاعت: 01/07/2013 - 15:54:23 وقت اشاعت: 30/06/2013 - 22:15:51 وقت اشاعت: 30/06/2013 - 22:11:48 وقت اشاعت: 30/06/2013 - 15:14:35 وقت اشاعت: 30/06/2013 - 15:14:35 وقت اشاعت: 29/06/2013 - 20:51:24 وقت اشاعت: 29/06/2013 - 16:43:28 وقت اشاعت: 29/06/2013 - 14:56:42

کرپشن کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور گڈگورننس کے ذریعے پنجاب کودنیا کامثالی صوبہ بنائیں گے،عوام کے دیئے گئے تاریخی مینڈیٹ کی لاج رکھیں گے، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل پر قابو پا کر دم لیں گے،جعلی ادویات کے کاروبارکاقلع قمع کریں گے،نہری پانی چوری کا خاتمہ کرکے ٹیلوں پر پانی پہنچائیں گے،صوبائی وزراء اپنے دفاتر کے دروازے عوام کیلئے کھلے رکھیں،فیلڈ میں جاکران کے مسائل حل کریں،عوام کی خدمت کرنے والے وزراء ہی عہدوں پر رہیں گے،کرپشن برداشت نہیں کریں گے،کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی،تھانہ کلچر کے خاتمے کیلئے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایک ہزار سب انسپکٹرزشفاف طریقے سے بھرتی کئے جائیں گے،منتخب نمائندے اور سرکاری افسران عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں،وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا سرگودھا ڈویژن کے منتخب نمائندوں سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔30جون۔2013ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ ملک کی 65سال کی تاریخ میں پہلی بار عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو پاکستان بلخصوص پنجاب میں تاریخی مینڈیٹ دیاہے۔ ایسا مثالی مینڈیٹ صدیوں بعد ہی کسی سیاسی جماعت کو ملتاہے۔عوام کی جانب سے دیئے گئے مینڈیٹ کا تقاضاہے کہ عوام کی ایسی خدمت کی جائے جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں۔

ہمیں عوامی مینڈیٹ کی لاج رکھناہے اوراسے توانائی بحران سمیت تمام مسائل سے نجات دلانے کے لئے دن رات ایک کرناہوگا۔پٹواری وتھانہ کلچربدلیں گے،مظلوموں کی دادرسی یقینی بنائیں گے،جعلی ادویات کے کاروبار کاقلع قمع کریں گے اور نہری پانی چوری کا خاتمہ کرکے نہروں کے ٹیلوں پرپانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ پاکستان کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لائیں گے۔

ملک کے شہروں اور دیہاتوں کو روشن کریں گے اور صحیح معنوں میں عوام کے خادم بن کر ان کی خدمت کریں گے۔صوبائی وزراء نہ صرف اپنے دفاتر کے دروازے عوام کے لئے کھلے رکھیں بلکہ فیلڈ میں جاکر عوام کے مسائل موقع پر حل کریں ۔جزا و سزا کا نظام اپنائیں گے،عوام کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ عوام کے مسائل میں دلچسپی نہ لینے والوں کو عہدوں سے الگ ہوناپڑے گا۔

وہ اتوار کو ایوان وزیراعلیٰ میں سرگودھا ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔وفاقی وزیرمملکت امین الحسنات، صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ خان، مجتبیٰ شجاع الرحمن، راجہ اشفاق سرور، تنویر اسلم ملک، طاہر خلیل سندھو، بیگم زکیہ شاہنواز، چیف سیکرٹری، انسپکٹرجنرل پولیس، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور سرگودھا ڈویژن کے انتظامی و پولیس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجلی کے بحران نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ سابق حکمرانوں نے گزشتہ پانچ برس کے دوران توانائی کے مسئلے پر قابو پانے پر کوئی توجہ نہ دی۔ پوری قوم آگ میں جھلستی رہی لیکن سابق حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اگر وہ عوام سے ہمدردی کرتے ہوئے بجلی کی قلت پرقابوپانے کے لئے سنجیدگی سے کام کرتے تو آج عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا نہ ہوتی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عوام سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ کیاہے اور ہم انشاء اللہ عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے ضرور چھٹکارا دلائیں گے۔ جس دن سے پاکستان مسلم لیگ (ن) عوام کے ووٹوں کی طاقت سے اقتدار میں آئی ہے اسی دن سے توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے بھرپور کاوشیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کا گردشی قرضہ 500ارب روپے سے تجاوز کرچکاہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 60دنوں میں اس گردشی قرضے کے خاتمے کا وعدہ بھی پورا کرے گی۔انہوں نے کہاکہ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی سے امیر اور غریب دونوں مستفید ہورہے ہیں۔ زیرو یونٹ سے 300یونٹ پردی جانے والی سبسڈی ڈیرھ سو ارب روپے بنتی ہے۔ لائن لائسز اور بجلی کی چوری 200ارب روپے سے زائد ہے۔ یہی چیزیں گردشی قرضے کو بڑھانے کا باعث بن رہی ہیں۔

غریب کو بجلی پر سبسڈی دینا تو جائز ہے لیکن امیر کا اس پر کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کو درست کرنے کے لئے سخت فیصلے کرناہوں گے۔انہوں نے کہاکہ بجلی پیداکرنے کے سستے ذرائع استعمال میں لاکر بجلی کی پیداواری لاگت کم کی جاسکتی ہے۔ کوئلے ، پن بجلی، بائیو گیس، بائیوماس اور دیگر ذرائع سے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہمیں سستے متبادل ذرائع سے بجلی کے حصول کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرناہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اپنے اپنے علاقوں کے تاجروں، صنعتکاروں، بزنس مینوں سے رابطے کریں اور انہیں توانائی کے بحران اور اس کے حل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کریں اور اس مسئلے پر ان سے قابل عمل تجاویز بھی لیں۔انہوں نے کہاکہ نندی پور پاور پراجیکٹ سابق حکمرانوں کی کرپشن اور حرص کی وجہ سے گزشتہ ڈھائی سال سے زیرالتواء ہے۔

اس کی لاگت 22ارب سے بڑھ کر 57ارب روپے ہوچکی ہے۔ اس منصوبے پر اب غریب قوم کے مزید 35ارب روپے خرچ ہوں گے جوسراسر زیادتی ہے۔ ایسا ملک جو گزشتہ 65 سالوں سے کشکول گدائی اٹھائے مارا مارا پھر رہاہو، وہ ایسے حادثات سہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔2010میں طے پانے والے این ایل جی کامنصوبہ بھی انہیں سابق کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے شروع نہیں ہوسکا ہے۔ اگر یہ منصوبہ لگ چکا ہوتا تو آج ملک میں وافر گیس موجود ہوتی۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی وزراء، اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاجروں، صنعتکاروں کو اس صورتحال سے آگاہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت بجلی چوری کی روک تھام کے لئے اپنا موثر کردار اداکرے گی۔ اس مقصد کے لئے ٹاسک فورس بنادی گئی ہے جس نے کام شروع کردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اراکین اسمبلی اور عوام کے تعاون سے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے پنجاب حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے توانائی کی5سالہ پالیسی مرتب کررہی ہے۔ زرعی اجناس کاویسٹ بہت بڑا ایندھن ہے جسے استعمال میں لاکر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس بارے میں بھی حکمت عملی طے کی جارہی ہے، قانون سازی کی جائے گی اور زون بنائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سابق حکمرانوں نے کسانوں کو بھی معاف نہیں کیابلکہ کھاد کے شعبہ میں کسانوں کا استحصال کیاگیا اور اربوں روپے کی خردبرد کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں اجتماعی بصیرت اور انتھک کاوشوں سے حالات کو درست کرنا ہے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی منزل دلاناہے۔ انہوں نے کہاکہ تھانہ کلچر میں تبدیلی کے لئے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایک ہزار سب انسپکٹرز شفاف طریقے سے میرٹ پر بھرتی کئے جائیں گے۔ انہیں مکمل اور جدید تربیت سے آراستہ کرکے تھانوں میں تعینات کیاجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ان پولیس افسران کے پے پیکیج اور ان کی ترقیوں کے حوالے سے تمام معاملات طے کئے جائیں گے تاکہ وہ دلجمعی سے اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن اور کرپٹ افسران کو کسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا۔ منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپٹ اور بددیانت افسران کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ عوام نے ہمیں جو بھرپورمینڈیٹ دیاہے اس کی لاج رکھتے ہوئے عوام کی دن رات خدمت کریں گے اور کرپشن کے خاتمے ، قانون کی حکمرانی اور گڈگورننس کے ذریعے پنجاب کو مثالی صوبہ بنائیں گے۔ پالیسیاں سیاسی لوگ بنائیں گے جبکہ بیورو کریسی ان پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ میرٹ، انصاف اور عدل پرعوام نے ہمیں پرکھنا ہے اس لئے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔

محنت،دیانت ،امانت کا راستہ اپنالیں توتمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی اور آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لئے ضلعی کمیٹیاں اپنا کردار ادا کریں گی۔ ان میں منتخب نمائندوں کی بھرپور نمائندگی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے 93ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس سال جنوبی پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنادیں گے جبکہ پنجاب بھر کے بچیوں کے سکولوں میں تعلیمی سہولیات فراہم کریں گے او ر اس مقصد کے لئے بجٹ میں اربوں روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شہریوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے صاف پانی کی فراہمی بھی نہایت ضروری ہے۔عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے سارھے 12ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف کی شخصیت امانت،محنت اور دیانت کا استعارہ ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے جو عوام کی خدمت کی ہے اس کے صلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں بے مثال کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے سپاہی بن کر کام کریں گے۔ قیادت کے ویژن کو آگے بڑھانے او ر عوام کے مسائل کے حل کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔
30/06/2013 - 22:11:48 :وقت اشاعت