بند کریں
صحت صحت کی خبریںکم آمدنی والے ضرورت مند طبقات کیلئے ”ارن ٹو لرن“ اسکیم کا اجراء قومی ترقی کے لئے سنگ میل ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/07/2013 - 23:27:32 وقت اشاعت: 25/07/2013 - 16:32:53 وقت اشاعت: 25/07/2013 - 13:09:51 وقت اشاعت: 25/07/2013 - 13:03:16 وقت اشاعت: 24/07/2013 - 22:52:16 وقت اشاعت: 24/07/2013 - 20:52:00 وقت اشاعت: 24/07/2013 - 20:38:58 وقت اشاعت: 24/07/2013 - 15:44:51 وقت اشاعت: 23/07/2013 - 15:48:06 وقت اشاعت: 23/07/2013 - 11:38:02 وقت اشاعت: 22/07/2013 - 23:36:48

کم آمدنی والے ضرورت مند طبقات کیلئے ”ارن ٹو لرن“ اسکیم کا اجراء قومی ترقی کے لئے سنگ میل ثابت ہو گا، نوجوانوں کی مالی مدد کرنے کی خاطر شروع کی اسکیموں کے مجموعی قومی ترقی پر دور رس نتائج برآمد ہوں گے، حکومت وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کے درمیان ٹیکنیکل ٹریننگ پروگرامز\" کے سلسلے میں اشتراک و تعاون کے امور کو مستحکم کرنا چاہتی ہے ، امید ہے اوپن یونیورسٹی اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے مشترکہ نوعیت کے ٹیکنکل کورسز کی تیاری میں حکومت کی معاونت کریگی،وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمٰن کاارن ٹو لرن سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔24جولائی۔2013ء) وزیر مملکت برائے تعلیم ، محمد بلیغ الرحمٰن نے کہاہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ملک کے پسماندہ اور غربت زدہ علاقوں کے نوجوانوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے لئے مالی مدد کرنے کی خاطر جن دس اسکیموں کا اجراء کیا ہے۔ اس کے مجموعی قومی ترقی پر دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

اس لئے وفاقی حکومت بھی اوپن یونیورسٹی کو ان اسکیموں کی کامیابی کے لئے خصوصی فنڈز فراہم کرے گی، وہ بدھ کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کونسل ہال میں نئی اسکیم "ارن ٹو لرن " کا بطور مہمان خصوصی افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے میں کیا۔ انجینئرمحمد بلیغ الرحمن کے مطابق ارن ٹو لرن اسکیم سے ملک بھر کے نوجوانوں میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے زور بازو سے محنت کرکے وسائل پیدا کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا اور ملک میں سماجی و معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوجائے گا۔

انجنئیرمحمدبلیغ لرحمن نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں قابل فیکلٹی موجود ہے اور اس ادارے میں پیشہ ورانہ تربیتی(ٹیکنیکل) پروگرامز بھی نصاب تعلیم میں شامل ہیں جو ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی بنیادی ضرورت ہیں۔وزیر مملکت برائے تعلیم نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد سانگی اور ان کی ٹیم کی ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں موجود غریب نوجوانوں کے لئے دو روز قبل ایک سو چھ ملین روپے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مہیا کرنے کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ اب اسکیموں سے ضرورتمند اور ذہین اہل وطن کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے معاشی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملے گا جس سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا۔

انجینئر محمد بلیغ الرحمن نے مزید کہا کہ وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت حکومت سولہ سالہ تعلیمی ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کی خدمات کو دس ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ کی بنیاد پر مختلف سرکاری اداروں میں پیشہ ورانہ انٹرن شپ کے لئے فراہم کرتی ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک نہایت اہم قومی ادارہ ہے۔ حکومت انٹرن شپ حاصل کرنے والے نوجوانوں کو خدمات اس قومی یونیورسٹی کو بھی فراہم کرے گی۔

وزیر مملکت برائے تعلیم انجنئیر محمد بلیغ الرحمن نے ارن ٹو لرن اسکیم کو ایک شاندار منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ معاشی مجبوریوں کے تحت نوجوانوں کو تعلیم سے محرومی کی مشکلات سے نکالنے کے لئے ایک نہایت کامیاب اسکیم ہے۔انجینئر محمد بلیغ الرحمن نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ملک کے غریب اور پسماندہ طبقات کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی ترغیب دلانے والی نئی اسکیم "ارن ٹو لرن"پاکستان کے دیگر اداروں کے لئے بھی قابل تقلید ہے۔

بہت سے ادارے ضرورتمند ڈراپ آؤٹ طلبہ کو دوبارہ ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے اس اسکیم سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ وزیر مملکت نے وائس چانسلر ڈاکٹر سانگی کو اوپن سکولنگ پراجیکٹ اور ایجوکیٹ اے چائلڈ اسکیم میں بھی حکومتی امداد و تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پسماندہ علاقوں کے ضرورتمند طلباء تک موثر رسائی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی بے مثال کامیابی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کے درمیان "ٹیکنیکل ٹریننگ پروگرامز"کے سلسلے میں اشتراک و تعاون کے امور کو مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اوپن یونیورسٹی اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے مشترکہ نوعیت کے ٹیکنکل کورسسز کی تیاری جیسے امور میں حکومت کی معاونت کرے گی۔انجنئیر محمد بلیغ الرحمن نے مزید کہا کہ حکومت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سے گذشتہ روز متعارف کرائی جانے والی کم آمدنی والے طبقات کی مالی معاونت کرکے انہیں قومی دھارے میں لانے کی دس اسکیموں کو قومی ترقی کے لئے نہایب اہم سمجھتی ہے اور میں حکومت کی جانب سے یقین دہانی کراتا ہوں کہ حکومت ان اسکیموں کی کامیابی کے لئے اوپن یونیورسٹی کے ساتھ موثر طور پر انتظامی اور مالی تعاون جاری رکھے گی۔

وزیر مملکت برائے تعلیم کے مطابق حکومت فیڈرل بورڈ کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے بھی اقدامات اور ضروری قانون سازی کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں میں کمییوٹر لٹریسی کے فروغ کے لئے لیپ ٹاپ اسکیم شروع کررکھی ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس موقع پر علامہ اقبال اوپن یونیوسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد سانگی نے وزیر مملکت برائے تعلیم انجنئیر محمد بلیغ الرحمن کو یونیورسٹی کے منفرد فاصلاتی و غیر رسمی نظام تعلیم کی اہم خصوصیات بتائیں اور رسمی نظام تعلیم سے بھر پور استفادہ نہ کرنے والے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے شہریوں کے لئے اس یونیورسٹی کی اپنے بارہ سو سے زائد میٹرک سے پی ایچ ڈی تک تعلیمی پروگرامز کے ذریعہ خدمات کے بارے میں بریفنگ دی۔

ڈاکٹر سانگی نے سیلاب ، زلزلے جیسی قدرتی آفات سے متاثرہ اوپن یونیورسٹی کے طلبہ اور کم آمدنی رکھنے والے طبقات کے لئے تعلیم جاری رکھنے کے لئے جاری "سٹوڈنٹ سپورٹ"کے فنڈزاور سہولتوں کے بارے میں تفصیلات بھی بتائیں۔ اس موقع پرڈائریکٹر سٹوڈنٹس افےئرز میاں محمد اسلم نے کم آمدنی کے باعث تعلیم چھوڑنے والے ملک بھر کے ضرورت مند ذہین طلبا ء کے لیے شروع کی گئی خصوصی اسکیموں کی تفصیلات سے وزیر مملکت کو آگاہ کیا۔
24/07/2013 - 20:52:00 :وقت اشاعت