بند کریں
صحت صحت کی خبریںخیبر پختونخوا معلومات تک رسائی کا قانون لانیوالا پہلا صوبہ بن گیا،عام آدمی کو سرکاری محکموں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 20/08/2013 - 13:41:53 وقت اشاعت: 19/08/2013 - 23:12:42 وقت اشاعت: 19/08/2013 - 21:00:20 وقت اشاعت: 19/08/2013 - 17:39:01 وقت اشاعت: 19/08/2013 - 13:52:04 وقت اشاعت: 18/08/2013 - 22:54:57 وقت اشاعت: 17/08/2013 - 21:19:55 وقت اشاعت: 16/08/2013 - 21:51:15 وقت اشاعت: 16/08/2013 - 17:31:14 وقت اشاعت: 16/08/2013 - 17:30:37 وقت اشاعت: 14/08/2013 - 15:55:46

خیبر پختونخوا معلومات تک رسائی کا قانون لانیوالا پہلا صوبہ بن گیا،عام آدمی کو سرکاری محکموں سے متعلق تمام معلومات دی جائیں گی،عوام کو پتہ ہو کہ اس کا ٹیکس کا پیسہ کہاں لگتا ہے تو وہ ٹیکس چوری نہیں کرینگے،انقلابی قدم اٹھایا ہے ،جب بھی لگا کہ تحریک انصاف کے منشور پر عمل نہیں ہو رہا تومداخلت اور ذمہ داروں کیخلا ف کاروائی کرونگا،بلدیاتی نظام ،آزاد احتساب کمیشن ،معلومات تک رسائی اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کے ذریعے تبدیلی لا رہے ہیں،کانفلیکٹ آف انٹرسٹ کا قانون بھی لا رہے ہیں ،کوئی حکومت میں رہتے ہوئے اثاثے نہیں بڑھا سکے گا،پوری دنیا کی نظریں خیبر پختونخوا پر لگی ہیں ،یہیں سے نیا پاکستان بنا رہے ہیں،اسلام کے علمبردارنے امریکہ سے کہا وزیر اعظم بنا دو ،ہر حکم کی تعمیل کرونگا،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا معلومات تک رسائی کے قانون کے اجراء کے موقع پر خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔18اگست۔ 2013ء)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا معلومات تک رسائی کا قانون لانیوالا پہلا صوبہ بن گیاہے ،اس قانون کے ذریعے ہم اپنی پارٹی اور حکومت پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ عام آدمی کی معلومات تک رسائی کو ممکن بنائیں۔جب عام آدمی کو پتہ ہو گا کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ کہاں استعمال ہو رہا ہے تو وہ ٹیکس ضرور دیگا ۔

یہ ایک انقلابی قدم اور تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے ۔اے این پی میری جانب سے صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت کی بات نہ کرے ،سب سن لیں میں بار بار مداخلت کرونگا ۔حکومت چھوڑ دینگے لیکن اپنے منشور سے نہیں ہٹیں گے ۔بہت جلد صوبے میں ایک آزاد احتساب کمیشن بھی قائم ہو جائیگا ،بلدیاتی نظام لا رہے ہیں اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائیں گے ،بلدیاتی نظام کے نتیجے میں عوام اپنے سکولز،کالجز،ہسپتال خود چلائیں گے اور اپنے علاقے کی ترقی بھی خود کرینگے۔

پوری دنیا کی نظریں خیبر پختونخوا حکومت پر لگی ہیں ،خیبر پختونخوا سے ایک نئے پاکستان کا آغاز کرنا ہے ۔وہ اتوار کو پشاور کے مقامی ہوٹل میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے اجراء کے موقع پر خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین، رکن قومی اسمبلی اور ترجمان ڈاکٹر شیرین مزاری ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک،سپیکر خیبر پختونخو ا اسمبلی اسد قیصر اور صوبائی وزراء ، ایم پی ایز اور ایم این ایز بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو حکومتوں پر اعتماد نہیں اسی لئے وہ ٹیکس نہیں دیتا۔معلومات تک رسائی ہمارے منشور کا حصہ ہے اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، حکومت اور کابینہ اس قانون کو لاگو کرنے پر مبارکبادکے مستحق ہیں۔انھوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے امریکی جنگ بھی لڑی جار ہی ہے ،امریکی ڈرون حملوں میں مرنیوالوں کو حکومتیں دہشتگرد قرار دیتی رہیں جبکہ ان کی بڑی تعداد بیگناہ پاکستانیوں کی تھی۔

اگر معلومات تک رسائی کا قانون ہوتا تو ان لوگوں کے نام نہ چھپائے جا سکتے ۔عمران خان نے کہا کہ ڈکٹیٹر ہمیشہ معلومات تک رسائی پر قدغن لگا کر عوام کو کنٹرول کرتا ہے ۔ہم نے اس قانون کے ذریعے ایسے اقدامات کا راستہ روک دیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ جلد ہی صوبے میں آزاد احتساب کمیشن قائم ہو جائیگا جبکہ بلدیاتی نظام کے ذریعے عوام کو تبدیلی کے اصل ثمرات پہنچنا شرو ع ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری پالیسیوں اور منشور کے باعث وفاقی حکومت بھی دباؤ میں آ کر کئی اقدامات کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ نیب وزیر اعظم کے نیچے ہوتی ہے اگر وزیر اعظم کرپشن کریگا تو نیب اسے نہیں پکڑ سکتا لہذا ایسا احتساب کمیشن ہونا چاہئے جوآزا د ہو۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت خو دکو ایک نارمل حکومت سمجھے ،سابقہ حکومت کی طرح کرپشن اور پروٹوکل کلچر نہیں بننے دینگے۔

انھوں نے کہا کہ اے این پی والے حکومت میں میری مداخلت کی بات کرتے ہیں ،میں نے تو اب تک مداخلت کی ہی نہیں،بیمار تھا اب صحتیاب ہوا ہوں اور مداخلت جاری رکھوں گا ۔انھوں نے کہا کہ وزارتوں میں کوئی مداخلت نہیں کی جائیگی ۔جب بھی پتہ چلا کہ ہمارے ایجنڈے اور منشور پر کام نہیں ہو رہا تو مداخلت بھی کرونگا اور ذمہ داروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں اور عوام جلد دیگر تین صوبوں اور خیبر پختونخوا میں واضح فرق محسوس کرینگے۔انھوں نے کہا کہ ہم تیسری دنیا میں اسلئے ہیں کہ گورننس کا فقدان ہے اگر اچھی گورننس ہو تو اس ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے ملک کو توجہ نہیں دی۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہر وزارت کے پیچھے ایک تھنک ٹینک ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ صوبے میں کانفلیکٹ آف انٹرسٹ کا قانون بھی لا رہے ہیں جو ملک بھر کیلئے ایک مثال ہو گا ۔کہیں پر بھی یہ نہیں ہوتا کہ کوئی حکومت میں آئے اور اس کے اثاثے بڑھ جائیں لیکن پاکستان میں ایسا ہوتا ہے ۔وفاقی حکومت کیلئے ہمارے اس قانون سے بڑی مشکلات ہونگی کیونکہ وہ ایسا قانون نہیں لا سکے ۔سب بزنس مین بن گئے اور جہازوں میں پھرتے ہیں ۔

وہ بھلا کیسے ایسا قانون لائیں گے جبکہ خیبر پختونخوا میں وزراء، کابینہ کے علاوہ سینئر بیورو کریٹس کو اثاثے بھی ویب سائٹ پر شائع کئے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ جو ملک اتنا مقروض ہو اس میں اتنے بڑے بڑے گورنر ہاؤ س نہیں ہونے چاہئیں ۔ امپائرز نے نا انصافی نہ کی ہوتی تو آج لاہور کے گورنر ہاؤس کی دیواریں گر چکی ہوتی، انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا گورنر ہاؤس بھی خواتین کیلئے پارک بن سکتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ گلیات میں واقع سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو کمرشل بنارہے ہیں اور ان سے ہونیوالی آمدن متعلقہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ پر لگائی جائیگی۔اب بیورو کریٹس کو سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رہنے کیلئے کرایہ دینا پڑیگا۔انھوں نے کہا کہ پشاور شہر کو خوبصورت بنایا جائیگا ۔امن وامان کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پورا زور لگائیں گے۔

عمران خان نے مولانا فضل الرمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے علمبردار امریکہ سے کہتے رہے مجھے وزیر اعظم بنا دیں آپ کے ہر حکم کی تعمیل ہو گی۔انھوں نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ارباب شہزاد اور ان کی ٹیم کو بہتر کارکردگی پر داد دی جبکہ سابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا عبداللہ کو احتساب کمیشن کا ممبر بنانے کی بھی پیشکش کی ۔قبل ازیں سیکرٹری اطلاعات عظمت حنیف نے حاضرین کو معلومات تک رسائی کے قانون کے حوالے سے بریفنگ دی۔

انھوں نے بتایا کہ قانون کے تحت شہری کسی بھی محکمے سے معلومات حاصل کرنے کیلئے درخواست دینگے جس پرزیادہ سے زیادہ بیس دن کے اندر اسے جواب دیا جائیگا۔اگر کسی کی جان کو خطرہ ہو تو اسے معلومات دو دن میں فراہم کی جا سکتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ شہریوں کو معلومات فراہم نہ کرنیوالوں کیخلاف کاروائی کی جائیگی اور انہیں جرمانہ و قید بھی دی جا سکے گی ۔انھوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کمیشن میں ریٹائرڈ سینئر بیوروکریٹ،ایک سینئر وکیل،ایک ریٹائرڈ جج اور ہیومن رائٹس کمیشن کا تجویز کردہ سو ل سوسائٹی کا ایک نمائندہ ممبر ہو گا۔انھوں نے کہا کہ تین ماہ کے اندر یہ ایکٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کرکے منظور کر لیا جائیگا۔
18/08/2013 - 22:54:57 :وقت اشاعت