بند کریں
صحت صحت کی خبریںحقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی انڈونیشیا میں منشیات کے الزام میں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/08/2013 - 14:25:04 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 22:39:02 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:27:50 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:16:34 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:15:04 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 14:11:36 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 22:50:40 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 22:47:09 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 22:30:45 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 21:30:48 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 21:23:02

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی انڈونیشیا میں منشیات کے الزام میں گرفتار پاکستانی شہری کو سزائے موت نہ دینے کی اپیل ، عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل بھی ذوالفقار علی کو وکیل مہیا نہیں کیا گیا‘گرفتاری اور سماعت کے دوران پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ بھی نہیں کرنے دیا گیا جو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ‘ ذوالفقار علی سے اقبال جرم تک بدسلوکی کی گئی‘مار پیٹ کی وجہ سے سرجری کروانی پڑی ‘صحت اب بھی کافی تشویش ناک ہے ‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل

لندن/جکارتہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔آئی این پی۔ 21اگست 2013ء )حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انڈونیشیا میں منشیات رکھنے کے الزام میں پاکستانی شہری کو سزائے موت نہ دینے کی اپیل کر دی ‘عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل بھی ذوالفقار علی کو وکیل مہیا نہیں کیا گیا‘گرفتاری اور سماعت کے دوران پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ بھی نہیں کرنے دیا گیا جو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ‘ ذوالفقار علی سے اقبال جرم تک بدسلوکی کی گئی‘مار پیٹ کی وجہ سے سرجری کروانی پڑی ‘صحت اب بھی کافی تشویش ناک ہے۔

ٹیکسٹائل سے وابستہ ذوالفقار علی کو جو 2000ء میں انڈونیشیا آئے تھے 4برس بعد 21نومبر کو مغربی جاوا صوبے میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم تنظیم نے یہ نہیں بتایا کہ ذوالفقار علی کا تعلق پاکستان کے کس علاقے سے ہے۔ان پر بنتین صوبے کی تنگرنگ ضلعی عدالت میں 300گرام ہیروئن رکھنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ انھیں 5ماہ بعد 14جون کو اسی عدالت نے سزائے موت سنائی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سزائے موت کے خلاف ایشیا نیٹ ورک کے پلیٹ فارم سے جاری ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عدالت نے ایک عینی شاہد کا بیان محض اس لیے مسترد کر دیا کیونکہ اس بیان پر تاریخ نہیں تھی۔ اس گواہ کے مطابق یہ منشیات ذوالفقار علی کی نہیں تھیں۔عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل بھی ذوالفقار علی کو وکیل مہیا نہیں کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وکیل کی فراہمی کسی بھی سماعت کے منصفانہ ہونے کی بنیاد ہوتی ہے، وکیل کی غیرموجودگی میں ذوالفقار اپنا مناسب دفاع تیار نہیں کر سکے۔ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انھیں گرفتاری اور سماعت کے دوران پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ذوالفقار علی کے ساتھ اقبال جرم تک بدسلوکی کی گئی، انھیں اس مار پیٹ کی وجہ سے سرجری کروانی پڑی اور ان کی صحت اب بھی کافی تشویش ناک ہے۔تنظیم کے مطابق ذوالفقار کو گرفتاری کے ایک ماہ بعد وکیل فراہم کیا گیا اور انھوں نے اس دوران پولیس کی جانب سے دو ماہ تک روزانہ زدوکوب ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
21/08/2013 - 14:11:36 :وقت اشاعت