طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ یقینی بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ،خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف کااجلاس سے خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔4ستمبر۔ 2013ء)خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف نے کہا ہے کہ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ یقینی بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کامحکمہ تعلیم پر اعتماد بحال ہواور حکومت اس سلسلے میں مقرر شدہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں روایتی انداز سے کام کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کرکے عوامی مسائل کو فوری حل کرنے کیلئے لائحہ عمل بنایا گیا ہے جس کے نچلی سطح پر اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں محکمہ تعلیم کے انتظامی اہلکاروں کے اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران کیا جس میں سیکرٹری ایجوکیشن جودت ایاز۔

(جاری ہے)

سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن مسرت حسین، چیف پلاننگ آفیسر جمال الدین اور ڈائریکٹر ایجوکیشن رفیق خٹک کے علاوہ دیگر اہلکار بھی موجود تھے۔وزیر تعلیم کو اجلاس کے دوران تفصیل سے بتایا گیاکہ اساتذہ کی بھرتی کے باوجود بھی اگر اساتذہ کی کمی ہو تو اس کو پوراکرنے کے لئے ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے ٹیلی ایجوکیشن کا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے اور جن علاقوں میں اساتذہ کی کمی ہو ان علاقوں میں طلباء کو سکرین کے ذریعے پڑھایاجائے گاتاکہ طلباء کو تعلیم کاحق اداکرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔

وزیر تعلیم محمد عاطف نے کہا کہ تعلیم سے محروم بچوں سمیت تمام طلباء کو بہتر تعلیمی حق دینے کیلئے شب و روزمحنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان تحریک انصاف کی تعلیم دوستی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں اساتذہ کرام کی حاضریوں کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں جس کے نتائج بہت جلد منظر عام پر آ جائیں گے اور سرکاری سکولوں کا تعلیمی معیار بہتری کی طرف گامزن ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم میں تمام انتظامات کا بذات خود جائزہ لے رہا ہوں کیونکہ موجودہ حکومت کے تمام اقدامات اخلاص اور انسان دوستی پر مبنی ہیں انہوں نے کہاکہ باالعموم پورے صوبے کے عوام اور باالخصوص شعبہ تعلیم سے وابستہ تمام اہلکارو ں کو چاہیے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہونے کی بجائے شعوری انداز سے حقوق کی ادائیگی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ اجتماعی مفادات کے لئے کام کرنے کے نتیجے میں ایک مثالی معاشرہ کا قیام ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ صرف اپنے بچوں کامستقبل سنوارنے اور دوسروں کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گاتاکہ آنے والے ادوار کیلئے بنیاد رکھ کر ایک مثال قائم کی جاسکے۔

Your Thoughts and Comments