بند کریں
صحت صحت کی خبریںڈینگی کے لئے ستمبر کا مہینہ انتہائی اہم،تمام متعلقہ محکمے،ادارے کوششیں مزید تیز کریں،حکومتی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 14/09/2013 - 13:52:21 وقت اشاعت: 14/09/2013 - 11:57:32 وقت اشاعت: 13/09/2013 - 21:25:08 وقت اشاعت: 13/09/2013 - 17:22:48 وقت اشاعت: 13/09/2013 - 11:41:11 وقت اشاعت: 11/09/2013 - 21:21:47 وقت اشاعت: 11/09/2013 - 12:42:45 وقت اشاعت: 10/09/2013 - 13:07:21 وقت اشاعت: 09/09/2013 - 17:00:42 وقت اشاعت: 09/09/2013 - 13:44:42 وقت اشاعت: 09/09/2013 - 12:50:55

ڈینگی کے لئے ستمبر کا مہینہ انتہائی اہم،تمام متعلقہ محکمے،ادارے کوششیں مزید تیز کریں،حکومتی اداروں کی کوششوں اور عوامی تعاون سے ڈینگی کا پھیلاؤ محدود ہے،رواں سال شدید بارشوں کے باوجود ڈینگی کے مریض کم ہیں،واساخالی پلاٹوں، میدانوں میں کھڑے پانی پر خصوصی توجہ دے،روم کولرز میں سب سے زیادہ ڈینگی لاروا مل رہا ہے،وزیر صحت پنجاب خلیل طاہر سندھو کا کابینہ کمیٹی اجلاس سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔11ستمبر۔2013ء)وزیر صحت پنجاب خلیل طاہر سندھو نے کہا ہے کہ ڈینگی کی افزائش کے لحاظ سے ستمبر کا مہینہ انتہائی اہم ہے لہذا تمام متعلقہ سرکاری محکمے اور ادارے ڈینگی کی روک تھام کے لئے جاری اقدامات اور کوششیں مزید تیز کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کئی گنا زیادہ بارشیں ہونے کے باوجود ڈینگی کا پھیلاؤ محدود رہا ہے جو حکومتی اداروں کی سخت محنت اور بھرپور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو سول سیکرٹریٹ کمیٹی روم میں ڈینگی کی صورتحال اور اس کی روک تھام کے لئے جاری اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں لاہوراور دیگر شہروں سے منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ سرکاری محکموں کے سیکرٹریوں،کمشنر لاہور، ڈی سی او فیصل آباد اورمتعلقہ اداروے کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

سیکرٹری صحت پنجاب حسن اقبال نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال مون سون میں صوبہ پنجاب میں 209 میٹر بارش ہوئی تھی جبکہ رواں سال 748 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شدید بارشوں کے باوجودڈینگی کے مریض کم رپورٹ ہوئے ہیں اور ڈینگی مچھر کی افزائش محدود ہے۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں ڈینگی کے کنفرم مریضوں کی تعداد 1090 ہے اور بدقسمتی سے 11 اموات بھی ہو چکی ہیں جبکہ خیبرپختونخواہ(سوات ) میں ڈینگی کے 2500 کنفرم مریض رپورٹ ہوئے چکے ہیں اور 250 مریض زیر علاج ہیں جبکہ 7 اموات بھی ہوئی ہیں۔

حسن اقبال نے بتایا کہ پنجاب میں اب تک 104 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کی صورتحال کے پیش نظر محکمہ صحت اور دیگر تمام متعلقہ محکمے پوری طرح الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ KPK کے ساتھ محکمہ صحت پنجاب کا رابطہ ہے اور محکمہ صحت پنجاب KPk کو تکنیکی تعاون فراہم کررہا ہے جبکہ Dextron-40 کی مزید 20 بوتلیں بھی محکمہ صحت نے سوات بھجوا دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونین کونسل کی سطح سے صوبائی سطح تک ویکٹر سرویلنس اور لاروی سائیڈنگ کا عمل جاری ہے۔اجلاس میں محکمہ ماحولیات کے سیکرٹری نے بتایا کہ ڈینگی لاروا برآمد ہونے پر 124پراپرٹی مالکان کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں جبکہ اب تک 205 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ واہگہ ٹاؤن میں لاروا زیادہ تر گھروں کے اندر سے رپورٹ ہو رہا ہے۔

کمشنر لاہور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق میانی صاحب قبرستان کی صفائی کروا دی گئی ہیں اور اب دیگر قبرستانوں پر توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ٹاؤن رسپانس کمیٹیوں کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کئے جارہیں۔ کمشنر لاہورنے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمیٹی،پی ایچ اے،واسا اور ریسکیو 1122 کی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔

اجلاس میں سوشل ویلفیئر ،لوکل گورنمنٹ،لیبر ڈیپارٹمنٹ ،ہائر ایجوکیشن اور سپیشل برانچ کے افسران نے ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات اور سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔وزیر صحت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام محکمے انتہائی محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں تاہم موجود صورتحال میں ہمیں اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے واسا حکام پر زور دیا کہ وہ خالی پلاٹوں اور میدانوں میں کھڑے پانی کے نکاس اور اس کے کیمیکل ٹریٹمنٹ پر توجہ دیں تاکہ ڈینگی مچھر پیدا نہ ہوں۔
11/09/2013 - 21:21:47 :وقت اشاعت