بند کریں
صحت صحت کی خبریںسخت ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود ہزاروں افراد شاہراہ دستور پر پہنچنے میں کامیاب
پولیس ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/03/2007 - 18:30:23 وقت اشاعت: 23/03/2007 - 13:11:18 وقت اشاعت: 22/03/2007 - 12:39:16 وقت اشاعت: 20/03/2007 - 12:40:37 وقت اشاعت: 16/03/2007 - 21:08:41 وقت اشاعت: 16/03/2007 - 17:02:43 وقت اشاعت: 16/03/2007 - 15:03:08 وقت اشاعت: 14/03/2007 - 12:47:40 وقت اشاعت: 14/03/2007 - 11:31:33 وقت اشاعت: 13/03/2007 - 15:53:39 وقت اشاعت: 13/03/2007 - 15:53:39

سخت ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود ہزاروں افراد شاہراہ دستور پر پہنچنے میں کامیاب

پولیس کا مظاہرین پر شدید لاٹھی چارج ، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال،قاضی حسین احمد کے کپڑے پھاڑ دئیے ، عینک توڑ دی گئی ، گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقلی۔صحافیوں اور وکلاء سے بھی بدتمیزی اور جھڑپیں، متعدد بے ہوش، درجنوں گرفتار , مظاہرین کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کی بھی پٹائی۔ بلیو ایریا میں سرکاری گاڑی نذر آتش کر دی گئی

اسلام آباد ( اردوپوئنٹ تازہ ترین اخبار16 مارچ2007) وفاقی دارالحکومت میں اپوزیشن کی طرف سے کال کئے گئے یوم احتجاج کے موقع پر سخت ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود ہزاروں افراد شاہراہ دستور اور سپریم کورٹ کے باہر پہنچ گئے ۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا او رآنسو گیس استعمال کی جس کے نتیجے میں کئی افراد بے ہوش و زخمی ہو گئے جبکہ مظاہرین کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کی پٹائی ہوئی اور بلیو ایریا میں پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کر دیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے کال کئے گئے یوم احتجاج منانے اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کیلئے ناکہ بندیوں او رپابندیوں اور سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود اسلام آباد میں شاہراہ دستور پہنچ گئے اور انہوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس دوران پولیس اور مظاہرین و وکلاء کے درمیان زبردست جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے جبکہ اس دوران پولیس اور صحافیوں کے درمیان بھی جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں صحافیوں کے کیمرے ٹوٹ گئے۔

جبکہ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا او رآنسو گیس استعمال کی جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی و بے ہوش ہو گئے۔ بعض مقامات پر پولیس مظاہرین کو روکنے کیلئے ان پر پتھراؤ کرتی رہی جبکہ مظاہرین کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کی پٹائی بھی ہوئی ۔ بلیو ایریا میں مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کر دیا جبکہ پولیس کی جانب سے شیلنگ کے باعث وہاں سانس لینا مشکل ہوگیا جبکہ سپریم کورٹ کے باہر کا علاقہ اور شاہراہ دستور میدان جنگ بن گیا۔

کئی گھنٹوں تک پولیس اور مظاہرین میں زبردست کشمکش جاری رہی اس دوران مظاہرین منتشر ہونے کے بعد دوسری جانب سے نمودار ہو جاتے پولیس نے اس دوران پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ مظاہرے کے دوران متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اور ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد نے شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جس کے بعد قاضی حسین احمد نے کامیابی سے پارلیمنٹ لاجز کے باہر نماز جمعہ کی امامت کی جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں او رکارکنوں نے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کی تو پولیس او رمظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ۔

دھرنے کے بعد پولیس نے قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد کو زبردستی اٹھا کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی جس دوران ان کا کوٹ پھٹ گیا اور ان کا چشمہ بھی ٹوٹ گیا۔ اس دوران مظاہرین نے شدید مزاحمت کی اور انہیں پولیس کی گاڑی سے اتار لیا جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کئے اور دوبارہ قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد کو حراست مین لے لیا اور انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھا کر لے گئے جبکہ پارلیمنٹ لاجز کے سامنے ریلی کیلئے جمع ہونے والے افراد پولیس نے لاٹھی چارج کیا جبکہ فیض آباد کے علاقے میں پولیس نے ایک نجی ٹی وی کے رپورٹر پر تشدد کر کے لاک اپ میں بند کر دیا۔

جبکہ وپلیس نے اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے وکلاء پر بھی لاٹھی چارج کیا اور اسلام آباد میں داخل ہونے والے سیاسی رہنماؤں اور وکلاء کو بھی گرفتار بھی کیا گیا جبکہ ایک مغربی خبر رساں ادارے کے مطابق تقریباً 12 بجے وفاقی دارالحکومت میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کا نظام معطل ہو گیا ہے دریں اثناء ٹیلی فون صارفین نے شکایتکی ہے کہ پاکستان سے عرب امارات اور اندرون ملک ٹیلی فون رابطوں میں خلل پیدا ہو رہا ہے او رکال ملانے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
16/03/2007 - 17:02:43 :وقت اشاعت