بند کریں
صحت صحت کی خبریںوزیر اعلیٰ پنجاب کا 5سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا نوٹس ،پولیس نے 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا ، ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/09/2013 - 13:11:00 وقت اشاعت: 15/09/2013 - 13:11:00 وقت اشاعت: 14/09/2013 - 20:33:16 وقت اشاعت: 14/09/2013 - 13:52:21 وقت اشاعت: 14/09/2013 - 11:57:32 وقت اشاعت: 13/09/2013 - 21:25:08 وقت اشاعت: 13/09/2013 - 17:22:48 وقت اشاعت: 13/09/2013 - 11:41:11 وقت اشاعت: 11/09/2013 - 21:21:47 وقت اشاعت: 11/09/2013 - 12:42:45 وقت اشاعت: 10/09/2013 - 13:07:21

وزیر اعلیٰ پنجاب کا 5سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا نوٹس ،پولیس نے 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا ، دیگر کی گرفتاری کیلئے دو اعلیٰ سطحی ٹیمیں تشکیل ، نامعلوم افراد نے اغوا ء اورمبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بچی کو تشویشناک حالت میں گنگارام ہسپتال کے باہر پھینک دیا، متاثرہ ابتدائی طبی امداد کے بعد سرجری کیلئے سروسز ہسپتال منتقل

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔13ستمبر۔2013ء)صوبائی دارالحکومت کے علاقہ مغلپورہ کی رہائشی پانچ سالہ بچی کو اغواء کے بعد مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد تشویشناک حالت میں گنگا رام ہسپتال کے باہر پھینک دیا گیا ،بچی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد سرجری کے لئے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کئے جس پر پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے 10 افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے ایس پی رینک کے افسران کی سربراہی میں دو ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں۔

بتایاگیا ہے کہ مغلپورہ کی رہائشی پانچ سالہ سنبل جمعرات کی شام اپنے تین سالہ کزن احمد کے ساتھ گھر سے نکلی تھی پھر ان کا کوئی پتہ نہ چلا۔کمسن سنبل گنگا رام ہسپتال کے باہر سے ملی جبکہ احمد چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے مل گیا۔بتایا گیا ہے کہ کمسن سنبل کو مبینہ طو رپر زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا اور جب گنگارام ہسپتال کے سکیورٹی گارڈ اسے اٹھا کر ہسپتال لایا تو اسکی حالت تشویشناک تھی جسکے بعد اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد سرجری کے لئے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔

پولیس نے بچی کے والد شفقت کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے دس افراد کو حراست میں لیکر ان سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے پانچ سالہ بچی سے زیادتی کا نوٹس لے کر ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں کسی طرح کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے ایس پی رینک کے دو افسران کی سربراہی میں دو ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں جنہوں نے اس کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔

سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق گجر اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رائے طاہر نے جمعہ کے روز سروسز ہسپتال میں بچی کی عیادت کی ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور کا کہنا تھاکہ یہ انتہائی اہم کیس ہے اور اس میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات کے لئے ایس پی صدر اور ایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں دو ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں اور اسکی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ غائب ہونے والا بچہ چھوٹی عمر کا جس سے ملزمان بارے کوئی آگاہی نہیں مل سکی ۔
13/09/2013 - 21:25:08 :وقت اشاعت