بند کریں
صحت صحت کی خبریںآئین پر شب خون مارنے کا وقت گزر چکا ، عدلیہ کی عزت پر کوئی حرف آئیگا توکسی قربانی سے دریغ نہیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/10/2013 - 15:45:46 وقت اشاعت: 13/10/2013 - 14:19:39 وقت اشاعت: 12/10/2013 - 23:26:03 وقت اشاعت: 12/10/2013 - 20:29:06 وقت اشاعت: 12/10/2013 - 20:27:03 وقت اشاعت: 12/10/2013 - 20:26:43 وقت اشاعت: 12/10/2013 - 20:26:02 وقت اشاعت: 12/10/2013 - 15:18:38 وقت اشاعت: 12/10/2013 - 13:04:08 وقت اشاعت: 11/10/2013 - 17:18:34 وقت اشاعت: 11/10/2013 - 16:03:03

آئین پر شب خون مارنے کا وقت گزر چکا ، عدلیہ کی عزت پر کوئی حرف آئیگا توکسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ، چیف جسٹس،کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ،انصاف سے متعلقہ تمام ادارے قانون کی حکمرانی او ر آئین کی بالادستی یقینی بنائیں ، بینچ اور بار کے اراکین کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ہی ہماری قوم کو ملک میں خود مختار عدلیہ کی نوید ملی ہے،عدلیہ انصاف کی فراہمی اور بلا خوف و خطر شہریوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ بخشنے کیلئے خود مختار ہے،ضلعی عدلیہ محدود وسائل کیساتھ عوام کو انصاف فراہم کر نے کی کوشش کررہی ہے، ہماری کارکردگی میں شائد کچھ خامیاں بھی ہوں، یقین ہے قانون سے تعلق رکھنے والے طبقے کی مدد اور تعاون سے خامیوں پر قابو پا لیں گے،زیر التواء مقدمات کا انبار حصول انصاف کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، مسئلہ ہماری عدالتی تاریخ میں کوئی نیا نہیں ،چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے اراکین سے نئے عدالتی کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر خطاب

سیالکوٹ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12اکتوبر۔2013ء)چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین پر شب خون مارنے کا وقت گزر چکا ہے ، عدلیہ کی عزت پر کوئی حرف آئیگا تو بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ، کوئی کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ،انصاف سے متعلقہ تمام ادارے قانون کی حکمرانی او ر آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں ، بینچ اور بار کے اراکین کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ہی ہماری قوم کو ملک میں خود مختار عدلیہ کی نوید ملی ہے ،عدلیہ انصاف کی فراہمی اور بلا خوف و خطر شہریوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ بخشنے کیلئے خود مختار ہے ،ضلعی عدلیہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ عوام کو انصاف فراہم کر نے کی کوشش کررہی ہے ، ہماری کارکردگی میں شائد کچھ خامیاں بھی ہوں ، یقین ہے قانون سے تعلق رکھنے والے طبقے کی مدد اور تعاون سے خامیوں پر قابو پا لیں گے ،زیر التواء مقدمات کا انبار حصولِ انصاف کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے ، مسئلہ ہماری عدالتی تاریخ میں کوئی نیا نہیں۔

ہفتہ کو ڈسکہ بار ایسوسی ایشن ضلع سیالکوٹ کے اراکین سے نئے عدالتی کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ میں ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور عہدیداران کا انتہائی مشکور ہوں کہ جنہوں نے مجھے نئے عدالتی کمپلیکس ڈسکہ کے افتتاح کے موقع پر مدعو کیا اور اس قدر گرم جوشی سے خوش آمدید کہاانہوں نے کہاکہ میں نئے عدالتی کمپلکس کی تعمیر پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔

میں پر اعتماد ہوں کہ نئے کمپلیکس کی تعمیر سے تمام اسٹیک ہولڈرز (متوقع داعیان) کو جو سہولیات مہیا ہوں گی اس کی وجہ سے ان سب کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی سر ونسٹن چرچل نے ایک دفعہ ان خیالات کا اظہار کیا تھا جنہیں میں یہاں دہرانا چاہوں گا انہوں نے کہا تھا کہ ” ہم اپنی عمارات کی تعمیر کرتے ہیں تا کہ بعد ازاں وہ ہماری تکمیل کریں، چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری ضلعی عدلیہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو انصاف مہیا کرے تا ہم بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عمارتوں کی تعمیر کا قوم کی تقدیر بنانے سے گہرا تعلق ہے۔ جب بات عدلیہ کی عمارتیں تعمیر کرنے کی ہو تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ اسے ترویجِ انصاف کے مقدس فریضے کی سرانجام دہی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ آج کی اس تقریب میں مجھے ڈسکہ اور اس کے گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے وکلاء طبقے سے تبادلہ خیال کا موقع ملا ہے اور نامور وکلاء اور قانون دانوں کی شاندار محفل میں میں ہمیشہ لطف محسوس کرتا ہوں۔

وکلاء برادری نے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے حصول کیلئے مثالی کردار ادا کیا۔ وہ ملک میں آئین، جمہوری اقدار اور عدلیہ کی مضبوطی کیلئے ججوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے، ان کے اس بے مثال تعاون کے بغیر موجودہ منظر نامے کا ظہور ممکن نہ تھا۔انہوں نے کہاکہ بینچ اور بار کے اراکین کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ہی ہماری قوم کو ملک میں خود مختار عدلیہ کی نوید ملی ہے۔

آج عدلیہ انصاف کی فراہمی اور بلا خوف و خطر شہریوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ بخشنے کیلئے خود مختار ہے۔ ہماری کارکردگی میں شائد کچھ خامیاں بھی ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ قانون سے تعلق رکھنے والے طبقے کی مدد اور تعاون سے ہم ان خامیوں پر قابو پا لیں گے۔ ترویجِ انصاف کے ادارے سے بہت سی عوامی توقعات وابستہ ہیں۔ قانون کی حکمرانی کے قیام اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے آپ کے بے مثال کردار کو عوام بہت قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جناب جسٹس مائیکل کربے جو نیو ساوئتھ ویلز میں کورٹ آف اپیل کے صدر رہے ہیں نے اپنے ایک مضمون " عدلیہ اور قانون کی حکمرانی"میں کچھ ایسے بیان کیا ہے:۔”عدلیہ کی آزادی کے لیے بار کی بھرپور معاونت نے مستقبل میں بھی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی اُمید کی کرن پیدا کی ہے “۔ کامیاب وکلاء تحریک نے بینچ اور بار پر ایک اہم ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ لوگوں تک فوری اور سستے انصاف کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کریں ۔

قومی عدالتی پالیسی میں متعین اہداف کے حصول کے لیے ہر عدالتی سطح پر سخت محنت کی گئی ہے لیکن ان اہداف کے حصول کیلئے بار کی بھی بھرپور معاونت کی ضرورت ہے اگرچہ پالیسی کے نفاذ کے بعد ضلعی عدلیہ کی کارکردگی بہت حد تک حوصلہ افزاء ہے۔ ضلعی عدلیہ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد عدالت ہائے عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ سے کہیں زیادہ ہے ۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ عدالتوں میں مقدمات کی نئی دائری بھی بڑھ رہی ہے جن میں 90فیصد مقدمات ضلعی عدلیہ اور 10 فیصد عدالت ہائے عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ میں زیر التواء ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ زیر التواء مقدمات کا انبار حصولِ انصاف کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے لیکن یہ مسئلہ ہماری عدالتی تاریخ میں کوئی نیا نہیں ہے اور یہ صرف ہمارے ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ ماضی میں عدالتوں میں رائج ضابطوں کی پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لیے بہت ساری کوششیں کی گئیں اور پاکستان میں بھی اس مقصد کے لیے مختلف کمیشن بنائے گئے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

موجودہ عدلیہ آئین اور قانون کی طرف سے عائد کی جانے والی ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہونے کے لیے سر توڑ کوشش کررہی ہے۔ اگر ہم ماضی میں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اداروں کو قانون کے تابع بنانے کی بجائے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں انصاف کی باگ ڈور اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایات کے تابع ہے ۔ اسلام ایسے معاشرے کی تشکیل پر زور دیتا ہے جس میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ۔

پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے اور معاشرتی انصاف اور ظلم کے خاتمے کویقینی بنانے کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ جیسا کہ قانون کا ایک مسلمّہ اصول ہے کہ ”نہ صرف انصاف ہونا چاہئے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے، انصاف کا مقصد معاشرے میں امن ، ہم آہنگی ، رواداری اور لوگوں کی فلاح وبہبود کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کا آئین اور قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیے گئے ہیں ۔

لہٰذا انصاف سے متعلقہ تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی او ر آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں ۔ قانون کی حکمرانی اسلامی اصولوں کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ اسلام میں سربراہ ِ مملکت اور عام آدمی قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ سربراہِ مملکت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا ۔ خلیفہ دوئم حضرت عمر  کو جب قاضی نے عدالت میں طلب کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا "تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی مالدار آدمی چوری کرتا تو اسے معاف کیا جاتااور اگر کوئی غریب آدمی چوری کرتا تو اس پر اللہ کی مقرر کی ہوئی سزا نافذ کی جاتی تھی۔

اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنتِ محمدﷺ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا"۔لوگوں کو انصاف دینا ایک مقدس امانت اور اہم ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ اسلامی معاشرے کے مقاصد اس وقت تک پورے نہیں ہو سکتے جب تک وہ انصاف برابری اورآزادی کی بنیاد پر قائم نہ و اللہ نے قرآن مجید میں حکم دیا ہے کہ”ے ایمان والو! اللہ کی گواہی دیتے ہوئے انصاف پر خوب قائم ہو جاؤ، اگرچہ وہ خود تمہارے یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی ہو۔

وہ مالدار ہو یا مفلس، اللہ ان سے زیادہ حقدار ہے، پس خواہش کے پیچھے نہ لگو کہ انصاف نہ کرو۔ اور اگر بات کو گول مول کرو گے یا کنارا کر جاؤ گے تو اللہ یقینا تمہارے عملوں سے با خبر ہے،انہوں نے کہاکہ صاف شفاف اور غیر جانبدار انصاف کی فراہمی اسلامی نظامِ حکمرانی کا اہم اصول ہے۔ یہ نہ صرف ایک نظریہ ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔

یہ اللہ تبارک تعالیٰ کی صفات میں سے ایک ہے جسے عدل کے مقام تک پہنچانے کیلئے جذبے اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی یہ روح آئین اور دیگر رائج قوانین میں شامل کی گئی ہے۔ ریاست اور اس کے دیگر ستون جلد اور فوری انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ وہ کلیدی ادارہ ہے جو ترویجِ انصاف کا براہِ راست ذمہ دار ہے تا ہم اسے ریاست کے دیگر اداروں کا تعاون بھی درکار ہوتا ہے۔

عدلیہ، ریاست کے تیسرے ستون کی حیثیت سے تنازعات کے جلد تصفیہ کے ذریعے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کر کے امن، سکون اور بہتراسلوب حکمرانی لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔جس کا ملک کی اقتصادی ترقی سے براہ راست تعلق ہے۔انہوں نے کہاکہ ضلع سیالکوٹ تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہے اور ملک کی معاشی ترقی میں اس کا کردارقابلِ ذکر ہے اگر معاشرے میں انصاف ہو رہا ہے تو یقینا یہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گا ۔

اس لیے ا س علاقے کے وکلاء معاشرتی قوانین کا علم جاننے کی وجہ سے عدلیہ کی طرف سے جلد اور فوری انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔جو کہ بالخصوص اس علاقے کی معاشی ترقی اور بالعموم ملک کی ترقی میں اہم ہوگا۔ صنعتی تنازعات کا جلد فیصلہ صنعت کاروں کا اعتماد بحال کرے گااورجس سے اُن کی مزید سرمایہ کار ی کے لیے حوصلہ افزائی ہوگی اور نتیجتاً زرِ مبادلہبڑھے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ میری اپنے فرائض سے پہلو تہی ہو گی اگر میں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالا دستی میں ڈسکہ بار کے کردار اور معاونت کا اعتراف نہ کروں۔ میں آپ کی پیشہ وارانہ کامیابی کے لیے دُعا کرتا ہوں۔ میں ، ضلعی عدلیہ کے بنیادی ڈھانچہ کی بہتری کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اقدامات کی تعریف کرتا ہوں مجھے یقین ہے کہ ایسے اقدامات عدلیہ ، وکلاء اور دعویداروں کے لیے بہتر سہولتیں دیں گے۔
12/10/2013 - 20:26:43 :وقت اشاعت