بند کریں
صحت صحت کی خبریںمہمند ایجنسی، پولیو کے عالمی دن کے موقع پر تقریب اور واک کا اہتمام

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/10/2013 - 12:41:30 وقت اشاعت: 26/10/2013 - 22:18:25 وقت اشاعت: 26/10/2013 - 21:48:50 وقت اشاعت: 26/10/2013 - 20:39:23 وقت اشاعت: 26/10/2013 - 20:24:49 وقت اشاعت: 25/10/2013 - 21:19:51 وقت اشاعت: 25/10/2013 - 21:00:12 وقت اشاعت: 25/10/2013 - 20:57:20 وقت اشاعت: 25/10/2013 - 14:22:36 وقت اشاعت: 25/10/2013 - 14:19:41 وقت اشاعت: 25/10/2013 - 11:35:28

مہمند ایجنسی، پولیو کے عالمی دن کے موقع پر تقریب اور واک کا اہتمام

پشاور( نمائندہ اُردو پوائنٹ۔اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25اکتوبر۔2013ء)مہمند ایجنسی ہائر سیکنڈری سکو ل غلنئی میں پولیو کی عالمی دن کے حوالے سے ایک تقریب اور واک ہوا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولیٹکل ایجنٹ مہمند خوشحال خان نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک بیماری ہے۔اور یہ موذی مرض ہمارے ائندہ نسل کو اپاہیج بنا سکتے ہیں۔اس موذی مرض سے بچاو کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو ہر پولیومہم میں پولیو کے قطرے پلائیں۔

انہوں نے کہا جس طرح چیچک اور دیگر وبائی امراض سے چھٹکارہ حاصل کیا گیا ہے۔اسی طرح ہمیں چاہیے کہ پولیو کے اس موذی مرض سے اپنے ملک کو پاک کرے۔اور ملک کے کونے کونے سے پولیو کا نام ونشان مٹا دیں۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں آج پولیو کے عالمی دن نہیں بلکہ چند مخصوص ممالک کے لیے پولیو ڈے ہے۔کیونکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک پہلے ہی سے اس موذی مرض سے چھٹکارہ پاچکے ہیں۔

صرف چند ممالک پاکستان افغانستان اور نائجیریا میں اب بھی پولیو کے خطرناک وائرس موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ طلباء ہمارے سفیر اورمستقبل ہے ۔اور طلباء کو چاہیے کہ وہ ارد گرد کے ماحول اور خاص کر اپنے گھروں میں پولیو مرض کے متعلق لوگوں کو اگاہ کرے۔اس موقعے پر ایف ایس ایم او ڈاکٹر شبیر احمد،ایجوکیشن افسر سید محمد خان اور دیگر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولیو مرض پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چاہیے کہ اپنے ارد گرد کے ماحول صاف ستھرہ رکھیں۔تاکہ پولیو وائرس کی افزائش کا خاتمہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں پولیو کے 46کیسز موجود ہیں۔جس میں فاٹا میں 34،خیبر پختونخوا میں 7،پنجاب میں 2اور سندھ میں 3پولیو کیسز ہیں۔ فاٹا میں سب سے زیادہ پولیو کیسز وزیرستان ایجنسی میں 22جبکہ خیبر ایجنسی میں 12پولیو کیسز موجود ہیں۔

جوکہ ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے کہا پولیو کے زیادہ تر کیسز وزیرستان یا خیبر ایجنسی میں اس لئے وقوعہ پزیر ہوچکے ہیں۔کیونکہ ان علاقوں میں بدامنی اور امن وامان کی صورتحال کے باعث پولیو مہم نہیں چلائی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو ایک ایسی بیماری ہے کہ جس کی علاج متاثر ہونے سے پہلے ممکن ہے۔جبکہ پولیو وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اس کا علاج ناممکن ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس بچوں کے دماغ اورپٹھوں کو متاثر کرتا ہے۔جس سے وہ عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہیڈ کوارٹر غلنئی میں تقریب کے احتتام پر پی۔اے مہمند کی قیادت میں جبکہ لوئر سب ڈویژن میں اے پی اے نعیم خان کی قیادت میں پولیو واک ہوا۔جس میں اساتذہ ،طلباء اور عام لوگوں نے شرکت کیں۔
25/10/2013 - 21:19:51 :وقت اشاعت