بند کریں
صحت صحت کی خبریںوزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ہولی فیملی ہسپتال میں 23 سالہ نوجوان کی ڈینگی بخار سے ہلاکت کا نوٹس ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/10/2013 - 16:44:46 وقت اشاعت: 28/10/2013 - 15:08:11 وقت اشاعت: 28/10/2013 - 15:08:11 وقت اشاعت: 28/10/2013 - 14:52:05 وقت اشاعت: 28/10/2013 - 13:36:22 وقت اشاعت: 27/10/2013 - 19:54:14 وقت اشاعت: 27/10/2013 - 13:47:45 وقت اشاعت: 27/10/2013 - 12:41:30 وقت اشاعت: 26/10/2013 - 22:18:25 وقت اشاعت: 26/10/2013 - 21:48:50 وقت اشاعت: 26/10/2013 - 20:39:23

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ہولی فیملی ہسپتال میں 23 سالہ نوجوان کی ڈینگی بخار سے ہلاکت کا نوٹس لے لیا ، سیکریٹری ہیلتھ پنجاب سے آئندہ 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب ، غفلت کے مرتکب افسران کیخلاف کارروائی کا حکم

راولپنڈی(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27اکتوبر۔2013ء)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ایک 23 سالہ نوجوان کی ڈینگی بخار سے ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری ہیلتھ پنجاب سے آئندہ 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے کینٹ کا رہائشی 23 سالہ آصف جو کہ ہولی فیملی ہسپتال میں زیر علاج تھا متعلقہ حکام کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے گزشتہ روز دم توڑ گیاتھا،رواں سال صوبے میں ڈینگی سے جاں بحق افراد کی تعداد دو ہوگئی ہے،پنجاب میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے،پنجاب میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد چھ سو سترہ ہوگئی ہے۔

راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ڈینگی بخار کے 289 مریض لائے گئے جن میں سے صرف 56 میں ڈینگی کی علامات پائی گئیں، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں 215 مریض لائے گئے جن میں سے 114 کو داخل کیا گیا جبکہ 17 مریضوں میں ڈینگی کی علامات پائی گئیں،جبکہ بے نظیر بھٹو ہسپتال کے ایم ایس کا موبائل فون بند ہونے اور ہسپتال ایکسچینج سارا دن خراب رہنے کی وجہ سے صحیح معلومات نہ مل سکیں البتہ معلوم ہوا ہے کہ بے نظیر بھٹو ہسپتال کا ڈینگی وارڈ بھی مریضوں سے بھرا پڑا ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حلقہ سے تعلق رکھنے والے ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 50 ہے،جس کی بڑی وجہ پوٹھوہار ٹاؤن کے علاقوں میں سرویلینس،سینیٹری پٹرول ،پمپ سپرے اور فوگنگ کا نہ ہونا،انٹامالوجسٹ اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی عدم دستیابی اور دو سرکاری محکموں کے درمیان علاقے کی حد بندی وجہ تنازعہ بتائی گئی ہے،جب اس سلسلے میں محکمہ ہیلتھ کے ایک افسر سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ ان معاملات کی ذمہ داری پوٹھوہار ٹاؤن کی ہے،اسی طرح پوٹھوہار ٹاؤن کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ ذمہ داری محکمہ ہیلتھ کی ہے،پوٹھوہار ٹاؤن کے علاقے یوسی دھاماں سیداں(چٹھہ مارکیٹ)سے ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 15 ،یوسی ڈھلہ ،اڈیالہ،چکری،شکریال اور یوسی گرجاروڈ سمیت دیگر علاقوں سے مریضوں کی تعداد 35 کے قریب ہے جو شہر اور کینٹ کے مختلف علاقوں کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، اسی طرح ڈینگی کے مریضوں کی دوسری بڑی تعداد خیابان سرسید سے تعلق رکھتی ہے،سیکریٹری ہیلتھ پنجاب کے دورہ کے باوجود ڈینگی بخار کے علاج معالجے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ،ہسپتال کرپشن کے گڑھ بن چکے ہیں، ہولی فیملی ہسپتال کے سابق اے ایم ایس (پرچیز)ارشد علی خان نے سٹور کیپر عنصر شاہ کو ادویات کی زائد قیمت پر سپلائی لینے اور کمیشن وصولی پر وارننگ دی اور اس سلسلے میں الائیڈ ہسپتالوں کے پرنسپل ڈاکٹر عمر،ایم ایس ہولی فیملی ،اے ایم ایس (ایڈمن)اور اے ایم ایس(فنانس )کو تحریری شکایت بھی کی جس پر ایم ایس ہولی فیملی ہسپتال ڈاکٹر ارشد علی صابرنے ڈاکٹر زاہد چوہدری،ڈاکٹر پرویز افضل اور ڈاکٹر مصباح پر مشتمل تین رکنی(فرضی) انکوائری کمیٹی بنادی جو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ مکمل نہیں کرسکی ،تاہم دوبارہ انکوائری میں بھی ایک ماہ اور لگ گیاہے اس دوران اے ایم ایس (پرچیز)ارشد علی خان کو ٹرانسفر کرکے اے ایم ایس( ڈینگی وارڈاور بعد ازاں اوٹی وارڈ) لگادیا گیاجبکہ ایم ایس نے اپنے منظور نظر ڈاکٹر شہزاد ریحان کو اے ایم ایس(پرچیز) لگادیا، ذرائع کے مطابق ہولی فیملی ہسپتال کے ایک سٹور افسر نعیم نے بھی 16 سو درجن سوئچر(Suture )(جن کی مالیت 29 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے )غائب ہونے پر عنصر شاہ سے احتجاج کیا تو شکایت کی پاداش میں اسے بھی ملی بھگت سے ٹرانسفر کرکے ریکارڈ میں ردو بدل کرلیا گیا،باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عنصر شاہ نامی سٹور کیپر جو چند سال پہلے ڈسپنسر بھرتی ہوا تھا اور کرائے کے ایک مکان میں رہائش پذیر تھا آج راولپنڈی ،اسلام آباد میں کروڑوں روپے کی پراپرٹی کا مالک بن چکا ہے اور فوجی کالونی پیر ودھائی میں ایک (پرائیویٹ) ادارہ بھی چلارہا ہے،ایم ایس عابد شاہ کے دور میں بھی عنصر شاہ کیخلاف لیب کٹ فروخت کی انکوائری ہوئی تاہم سیاسی مداخلت آڑے آگئی اور معاملہ سرد خانے کی نذر کردیا گیااور بعد ازاں سینئر لوگوں کی حق تلفی کرکے عنصر شاہ کو ڈسپنسر) سکیل 7 ) سے اسسٹنٹ فارما سسٹ(سکیل9 ) تعینات کرکے سٹور کیپر(سکیل11 ) میں ترقی دیدی گئی ۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الائیڈ ہسپتالوں میں بچوں کی ویکسی نیشن کیلئے 3 سی سی سرنج استعمال کی جارہی ہے جو کہ ننھی جانوں پر ظلم ہے،جب اس سلسلے میں الائیڈ ہسپتالوں کے پرنسپل ڈاکٹر عمر سے موبائل نمبر 0333/5118283 پر رابطے کی بار بار کوشش کی گئی تو کال اٹینڈ نہ کی گئی،ڈاکٹر عمر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے اور سرکاری ڈیوٹی کی بجائے زیادہ ترمریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک پرآنے کا مشورہ دیتے ہیں۔راولپنڈی کی سیاسی و سماجی تنظیموں نے کرپٹ سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
27/10/2013 - 19:54:14 :وقت اشاعت