بند کریں
صحت صحت کی خبریںسول سروس کے آئینی کردار کامقصد حکومت وقت کے چیف ایگزیکٹیو اور ان کی حکومت کومدد فراہم کرنا ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/11/2013 - 18:31:43 وقت اشاعت: 22/11/2013 - 17:09:04 وقت اشاعت: 22/11/2013 - 11:46:09 وقت اشاعت: 21/11/2013 - 23:09:51 وقت اشاعت: 21/11/2013 - 21:11:52 وقت اشاعت: 21/11/2013 - 21:11:52 وقت اشاعت: 20/11/2013 - 21:39:07 وقت اشاعت: 20/11/2013 - 18:24:33 وقت اشاعت: 20/11/2013 - 16:03:50 وقت اشاعت: 20/11/2013 - 15:04:44 وقت اشاعت: 20/11/2013 - 13:41:42

سول سروس کے آئینی کردار کامقصد حکومت وقت کے چیف ایگزیکٹیو اور ان کی حکومت کومدد فراہم کرنا ہوتاہے ،گورنر خیبرپختونخوا،پالیسی سازی کے عمل کے دوران سول سرکاری ملازم پالیسی اقدامات پر اپنی دیانتدارانہ اورغیرجانبدارانہ رائے دیتے ہیں، موجودہ حکومت نے معاشرہ کے نظرانداز طبقوں خصوصا خواتین اور نوجوانوں کیلئے فوری نوعیت کی سہولیات کی حامل متعدد سکیموں کااجراء کیاہے، تقریب سے خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21نومبر۔2013ء)خیبرپختونخوا کے گورنرانجینئرشوکت اللہ نے کہاہے کہ روایتی طورپر سول سروس حکومت کے بنیادی ڈھانچے کی نمائندہ اوراسلوب حکمرانی اورحکومتی اقدامات میں تسلسل اوراستحکام کی حامل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزیدواضح کیا کہ سول سروس کے آئینی کردار کامقصد حکومت وقت کے چیف ایگزیکٹیو اور ان کی حکومت کومدد فراہم کرنا ہوتاہے جبکہ سول سروس اپنی مستقبل نوعیت کی ملازمت اورسیاسی لحاظ سے غیرجانبداری کی خصوصیت کے پیش نظر اس نوع کی خدمات سرانجام دینے کی حامل ہوجاتی ہے۔

وہ پشاور میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ کے زیراہتمام منعقدہ سولہویں مڈکیریئر میجمنٹ کورس کی اختتامی تقریب کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی خطا ب کررہے تھے۔ کورس کے شرکاء کا تعلق وفاقی حکومت کی مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اوراداروں سے ہے اور وہ تنخواہوں کے بنیادی سکیل۔19 میں ترقی کے امیدوار ہیں۔تقریب گورنر ہاوس پشاور میں منعقد ہوئی۔

گورنر نے فارغ التحصیل ہونے والے افسران کو یاد دلایا کہ پالیسی سازی کے عمل کے دوران سول سرکاری ملازم پالیسی اقدامات پر اپنی دیانتدارانہ اورغیرجانبدارانہ رائے دیتے ہیں۔یہی طریقہ کار درحقیقت دنیابھر میں رائج بھی ہے اوراسی حقیقت کے پیش نظر شفاف سرکاری ملازمت کے حصول یقینا کبھی بھی آسان ذمہ داری تصور نہیں کی گئی۔ لیکن جب سیاسی قیادت کی جانب سے کوئی فیصلہ ہوجاتاہے توپھروہ اپنی ذاتی سوچ وفکر اورخیالاات سے بالاتر ہوکرعملدرآمد کرتے ہیں اوربلاخوف وخطر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

گورنر نے واضح کیاکہ لہذا حکومت کی اہل فکرودانش،ماہرین اورمتعلقہ شعبوں میں فعال اورسرگرم عمل لوگوں کے ساتھ روابط لازمی ضرورت ہے اورعمومی طورپر یہ خواہش بھی پائی جاتی ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ اورآزادی کی حوالے سے بھی بنیادی تقاضوں کوپوراکرنے کیلئے عام لوگوں غیرسرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کی سوچ وفکر اورتجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزیدکہاہے کہ اس مقصد کے پیش نظر موجودہ حکومت نے معاشرہ کے نظرانداز طبقوں خصوصا خواتین اور نوجوانوں کیلئے فوری نوعیت کی سہولیات کی حامل متعدد سکیموں کااجراء کیاہے۔ گورنرنے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کویہ امر بھی یاد دلایا کہ اچھے اسلوب حکمرانی یقینی بنانے کی حتمی ذمہ داری بہرطورسرکاری اہلکاروں کے کاندھوں پر ہی عائد ہوتی ہے اورقوم کی ان سے اس ضمن میں بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہارکیا کہ وہ اپنی تمام ترصلاحیتوں اورعزم کے ساتھ ان توقعات پرپورا اتریں گے۔قبل ازیں انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر جنرل نے گورنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ کورس کے شرکاء نے انسٹی ٹیوٹ کے اندرٹریننگ کے علاوہ معروضی حقائق کاازخوداندازہ کرنے کیلئے ملک کے مختلف حصوں کے دورے بھی کئے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ کورس میں شامل51 افسران نے سخت تربیتی عمل سے گذر کرتربیت مکمل کی ۔
21/11/2013 - 21:11:52 :وقت اشاعت