میونسپل کارپوریشن کی ڈینگی وائرس مہم مخصوص سیکٹرز تک محدود شہر بھر میں سپرے کے دعوے جھوٹے ہیں راجہ زبیر ایڈووکیٹ

میرپور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 29نومبر 2013ء)میونسپل کارپوریشن کی ڈینگی وائرس مہم مخصوص سیکٹرز تک محدود شہر بھر میں سپرے کے دعوے جھوٹے ہیں راجہ زبیر ایڈووکیٹ، میونسپل کارپوریشن میرپور کے آفیسر اختیارات کی حد تک تودرست فرما رہے ہیں کہ انہوں نے میرپور ڈینگی وائرس کے خاتمے کے لئے سپرے کیا ہے لیکن یہ حقائق کے منافی ہے صرف چند سیکٹرز میں سپرے کر کے عوام کی آنکھوں میں مٹی ڈالی گئی ہے بن خرماں ،ایف ون، ایف تھری، سی فور سنگوٹ وغیرہ میں ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں سیوریج کا ناظم درہم برہم ہے ہر طرف نالیا ں اور نالے سیوریج کے پانی اور گندگی سے اٹے ہوئے ہیں جس سے عوام کو بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں میونسپل کارپوریشن کے آفیسر صرف زبانی جمع خرچ کر کے عوام کے لاکھوں روپے صفائی کی مد میں ہڑپ کر لئے ہیں زمینی حقائق کے مطابق میونسپل کارپوریشن میرپور کی کارکردگی صفر ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ زبیر ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ شہر کی سڑکوں کی مرمت میونسپل کارپوریشن کی ذمہ داری ہے لیکن سڑکیں کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کا بجٹ کروڑوں روپے کا ہے لیکن عوام کی بھلائی پر خرچ نہیں ہو رہا عوامی کے پیسے سے سیاسی جلسے اور فنکشن کئے جاتے ہیں اگر کسی نے وزیراعظم یا کسی مہمان شخصیت کا استقبال ،دعوت یا تقریب کروانی ہے تو وہ اپنی جیب سے خرچ کرے کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عوامی بجٹ سے سیاسی تقریبات کرے۔

میونسپل کارپوریشن کے آفیسران ذمہ داران عوام کے روپے پیسے کو لوٹ کا مال سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ترقی یافتہ ممالک میں میونسپل کارپوریشن کا شہر کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک ہر ادارے سیاسی اثر رسوخ کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے وفاقی وزیرامور کشمیر او ر آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری اس بات کا نوٹس لیں اور عوام کی فلاح وبہبود اور شہر کی تعمیروترقی کے لئے مخصوص بجٹ کو سیاسی تقریب پر خرچ کرنے پر مکمل پابندی لگائیں اور میونسپل کارپوریشن کے آفیسران پر بھی پابندی لگاتے ہوئے ڈینگی وائرس کے سپرے جیسے جھوٹے دعوؤں کی تحقیقات کروائے اور مرتکبین کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ آفیسر بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھ کراپنے فرائض سرانجام دیں۔

Your Thoughts and Comments