بند کریں
صحت صحت کی خبریںشہری حقوق ،پاکستان صرف شام، کانگو اور سوڈان سے بہتر ہے ، برطانوی ادارہ ، پاکستان شہریوں کے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 06/12/2013 - 14:50:07 وقت اشاعت: 06/12/2013 - 12:42:32 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 20:42:24 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 17:11:23 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 17:11:02 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 17:11:02 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 15:33:01 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 15:33:01 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 14:22:24 وقت اشاعت: 05/12/2013 - 13:39:45 وقت اشاعت: 04/12/2013 - 19:46:39

شہری حقوق ،پاکستان صرف شام، کانگو اور سوڈان سے بہتر ہے ، برطانوی ادارہ ، پاکستان شہریوں کے بنیادی حقوق کو لاحق سنگین خطروں کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے ،عدلیہ سمیت معاشرے کے ہر طبقے میں بدعنوانی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے ، میپل کرافٹ نامی ادارہ کی رپورٹ

لندن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 5 دسمبر 2013ء)برطانیہ کے ایک تجزیاتی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان شہریوں کے بنیادی حقوق کو لاحق سنگین خطروں کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں روایتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ اب فرقہ وارانہ تصادم انسانی حقوق کیلئے ایک نیا خطرہ بن کر ابھر رہے ہیں۔برطانیہ کے میپل کرافٹ نامی ادارے نے انسانی حقوق کے خطرات کا عالمی نقشہ مرتب کیا جس میں شام پہلے، سوڈان دوسرے، کانگو تیسرے اور پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔

ادارے کے بقول اس نقشے کو مرتب کرنے کیلئے دنیا کے 197 ملکوں میں انسانی حقوق کی 31 اقسام میں شہریوں کو درپیش خطرات کا اس بنیاد پر تجزیہ کیا جاتا ہے کہ یہ خطرات کب کب پیدا ہوتے ہیں، ان کی شدت کیا ہے اور اس میں ریاست کی ملی بھگت کتنی ہے۔برطانیہ کے تجزیاتی ادارے میپل کرافٹ نے کہا کہ پچھلے پانچ برسوں میں دنیا میں ایسے ملکوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے جو اپنے ہی لوگوں کے انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق ایسے ممالک کی تعداد بیس سے بڑھ کر 34 ہوگئی ہے اور یہ اضافہ بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ہوا ہے جس میں شام اور سوڈان سرفہرست ہیں۔میپل کرافٹ کے ایک ترجمان نے برطانوی میڈیا کے سوال پر بتایا کہ کسی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اس ملک کے لیے قانونی، سٹریٹیجک، مالیاتی اور بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

جس کے نتیجے میں ایسے ملک میں سرمایہ کاری بہت زیادہ مہنگی ہو جاتی ہے اور بالآخر رک بھی جاتی ہے۔میپل کرافٹ کے مطابق پاکستان میں نہ صرف روایتی قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں مثلاً بچوں سے مشقت، خواتین سے امتیازی سلوک، بلکہ کارکنوں اور مزدوروں کا اپنی ملازمت تک پہنچنے اور کام کے دوران جسمانی عدم تحفظ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدلیہ سمیت معاشرے کے ہر طبقے میں بدعنوانی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔میپل کرافٹ کے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ بھارت اور بنگلہ دیش میں پاکستان کے حالات کی نسبت کچھ ہی بہتری ہے مگر وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک کیلئے موثر اور بہتر نظام عدل اور طریقے کار موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد بذات خود انسانی حقوق کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بن کے ابھر رہا ہے۔ادارے کی مرتب کردہ فہرست میں چین اور بھارت جیسے معاشی طور پر مضبوط ممالک بھی انسانی حقوق کو لاحق خطرات کے لحاظ سے ابتدائی بیس ممالک میں شامل ہیں جہاں اس رپورٹ کے مطابق اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کے حقوق پر مسلسل سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔
05/12/2013 - 17:11:02 :وقت اشاعت