بند کریں
صحت صحت کی خبریںایک لاکھ افراد کا جینیاتی نقشہ تیار کیا جائیگا ، سعودی عرب میں نیا منصوبہ شروع ، سعودی منصوبے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/12/2013 - 17:30:48 وقت اشاعت: 10/12/2013 - 17:29:36 وقت اشاعت: 10/12/2013 - 16:02:25 وقت اشاعت: 10/12/2013 - 15:37:43 وقت اشاعت: 10/12/2013 - 14:02:42 وقت اشاعت: 10/12/2013 - 13:12:46 وقت اشاعت: 09/12/2013 - 19:30:35 وقت اشاعت: 09/12/2013 - 17:33:24 وقت اشاعت: 09/12/2013 - 17:31:06 وقت اشاعت: 09/12/2013 - 16:48:51 وقت اشاعت: 09/12/2013 - 16:47:41

ایک لاکھ افراد کا جینیاتی نقشہ تیار کیا جائیگا ، سعودی عرب میں نیا منصوبہ شروع ، سعودی منصوبے میں اگلے پانچ سال میں ایک لاکھ افراد کے جینوم کے نقشے بنائے جائیں گے ،رپورٹ ،انسانی جینوم کے پروگرام سے صحت اور بیماریوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی ، ڈاکٹروں کی بات چیت ، مشرق وسطیٰ اور اس کے باہر آبادیوں میں بہت بڑا جینیاتی فرق متوقع نہیں ، برطانوی ڈاکٹر

ریاض (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10دسمبر 2013ء) سعودی عرب میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت تقریباً ایک لاکھ افراد کا جینیاتی نقشہ تیار کیا جائے گا۔ منصوبے میں ایسے جینز پر تحقیق کی جائے گی جو بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جس سے پیدائش اور شادی سے پہلے کسی بھی فرد کی سکریننگ کی راہ ہموار ہوگی اور معلوم ہو سکے گا کہ جن افراد کی سکرینگ کی گئی انھیں کوئی بیماری لاحق تو نہیں یا بیماری ہونے کا اندیشہ تو نہیں اس پروجیکٹ کیلئے سعودی عرب کی نیشنل سائنس ایجنسی نے فنڈ مہیا کیے ہیں اور اس میں ایک ڈی این اے ڈیٹا بیس بنایا جائیگا تاکہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مخصوص ادویات تیار کی جا سکیں۔

برطانیہ میں بھی اسی قسم کا منصوبہ جاری ہے جس میں ایک لاکھ مریضوں کے جینوم کے نقشے بنائے جائیں گے۔ سعودی منصوبے میں اگلے پانچ سال میں ایک لاکھ افراد کے جینوم کے نقشے بنائے جائیں گے تاکہ عام اور بیماریوں کا باعث بننے والے جینز کا مطالعہ کیا جا سکے۔کنگ عبدالعزیز سٹی فور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر ڈاکٹر محمد بن ابراہیم السویل نے بتایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس انسانی جینوم کے پروگرام سے صحت اور بیماریوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور اس سے ہم سعودی عرب میں کسی شخص کی بیماری کے مطابق دوا تیار کرنے کے دور میں داخل ہو جائیں گے اور اس سلسلے میں ہم سعودی حکمرانوں کی سرمایہ کاری کیلئے شکرگزار ہیں یہ تحقیق سعودی عرب کے دس جینوم سینٹروں میں کی جائیگی اور آنے والے برسوں میں مزید پانچ سینٹر قائم کیے جائیں گے۔

برطانیہ میں جینوم کے ماہر ڈاکٹر ایون برنی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور اس کے باہر آبادیوں میں بہت بڑا جینیاتی فرق متوقع نہیں ہے تاہم سعودی عرب میں پائی جانے والی جینیاتی بیماریوں میں تھوڑا فرق ہو سکتا ہے۔سعودی پروجیکٹ کے بارے میں ڈاکٹر برنی کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں مغربی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں وسیع پیمانے پر ڈیٹا اور مہارت کا تبادلہ کیا جائیگا۔
10/12/2013 - 13:12:46 :وقت اشاعت