بند کریں
صحت صحت کی خبریںاسلام انسانوں میں اختلافات کو ابھارکر من مانے مقاصد حاصل کرنے کی مخالفت کرتا ہے‘ چیئرمین ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/12/2013 - 23:05:32 وقت اشاعت: 23/12/2013 - 22:54:27 وقت اشاعت: 23/12/2013 - 22:01:43 وقت اشاعت: 22/12/2013 - 21:17:44 وقت اشاعت: 22/12/2013 - 19:18:54 وقت اشاعت: 22/12/2013 - 17:48:31 وقت اشاعت: 22/12/2013 - 14:03:53 وقت اشاعت: 21/12/2013 - 18:29:17 وقت اشاعت: 21/12/2013 - 15:44:04 وقت اشاعت: 21/12/2013 - 14:26:02 وقت اشاعت: 21/12/2013 - 13:33:13

اسلام انسانوں میں اختلافات کو ابھارکر من مانے مقاصد حاصل کرنے کی مخالفت کرتا ہے‘ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ، قرآنِ مجید کی موجودگی میں امت محمد یہ کو ایسا میزان ملا ہے جس کی موجودگی میں کسی طبقہ حیات کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوسکتی ،دورِ نبوی میں آئین خداوندی رسولِِ کریم سمیت تمام پر لاگو تھا اور آپ بھی اس میں معمولی تبدیلی بھی نہ کرسکتے تھے‘مولانا محمد خاں شیرانی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22دسمبر۔2013ء) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خاں شیرانی نے کہا ہے کہ اسلام کا یہ درس نہیں کہ انسانوں میں اختلافات کو ابھار کران کے انتشار سے من مانے مقاصد حاصل کئے جائیں، امت کا لفظ ام اورامہات سے ہے اور قرآن بنی نوع انسانیت کو ایک امت قرار دیتا ہے ۔وہ پنجاب یونیورسٹی، شعبہ علوم اسلامیہ کی سیرت چیئر کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیر ت کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

کانفرنس میں میں مہمانِ اعزاز کے طور پر جنوبی افریقہ سے تشریف لانے والے پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی ، معروف مفکر سید سلیمان ندوی کے بیٹے ، خاص طور پر شریک ہوئے ۔ چیئرمین پنجاب قرآن بورڈ مولانا غلام محمد سیالوی ،پنجاب یونیورسٹی علومِ اسلامیہ کے ڈین وچیئرمین ڈاکٹر حافظ محمود اختر ، شعبہ علوم اسلامیہ کے ڈاکٹر حماد لکھوی، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ، اکٹر عاصم نعیم اورملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات اور اداروں میں علوم اسلامیہ کے سربراہوں کی بڑی تعداد اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔

اسلامی ریاست کی تصویر وتشکیل، تعلیمات نبویہ کی روشنی میں کے اہم عصری موضوع پر اس کانفرنس کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، اسلام آباد کے تعاون سے مسند سیرت کے پروفیسر ڈاکٹر سعد صدیقی نے منظم کیا تھا۔اپنے خطاب میں مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ دورِ نبوی میں آئین خداوندی رسولِِ کریم سمیت تمام پر لاگو تھا اور آپ بھی اس میں معمولی تبدیلی بھی نہ کرسکتے تھے۔

قرآنِ مجید کی موجودگی میں امت محمد یہ کو ایسا میزان ملا ہے جس کی موجودگی میں کسی طبقہ حیات کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوسکتی ۔ اسلام انسان کو وحدت کی لڑی میں پروتا ہے، قرآ ن ِ کریم نے انسانوں کو مل جل کررہنے اور وحدت کا درس دیا ہے۔ عالم اسلام کے نامور سکالر پروفیسر ڈاکٹرسید سلمان ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا اسلامی نظریہ کی بنا پر قیام ، دورِ حاضر کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے لیکن افسوس قیام پاکستان کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ کا قیام اسلام کا مقصود ہے، جب اسلامی معاشرہ حقیقی معنوں میں قائم ہوجائے گا تو حقیقی اسلامی ریاست بھی اس کے ثمرہ اور انعام الہی کے طورپرقائم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم یونیورسٹیوں میں سوشل سائنسزاورنیچرل سائنسز میں اسلامی تعلیمات کہاں پڑھائی جاتی ہیں، تعلیمی اداروں میں قوم پروان چڑھتی ہے، اور ہمیں ان تعلیمی اداروں میں اسلامی ریاست کے تقاضے پورے کرنے والی قوم کی تعمیر کرنا ہوگی۔

چیئرمین پنجاب قرآن بورڈ مولانا غلام محمد سیالوی نے کہا کہ سیرت طیبہ، لکھنے اور بولنے سے بڑھ کر عمل کرنے کی چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ کی امت میں دوسری قوموں کا نظام قائم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی فلاح کی ضمانت بن سکتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی علومِ اسلامیہ کے ڈین وچیئرمین ڈاکٹر حافظ محمود اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مسلم امہ کو یہ بہت بڑا سوال ہے کہ روئے ارض پر کوئی بھی ریاست اسلامی ریاست کا مصداق قرار نہیں دی جاسکتی اور مغرب کی گذشتہ کئی برسوں کی اجتماعی جدوجہد اس امر پر مرکوز ہیں کہ اسلامی ریاست کہیں قائم نہ ہوجائے۔

مصر، فلطسین، الجزائر وغیرہ میں یہی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام پر عمل پیرا مخلص مسلمانوں کی موجودگی حقیقی اسلامی معاشرے اور ریاست کے قیام کے لئے ضروری ہے۔پنجاب یونیورسٹی شعبہ علوم اسلامیہ کے ڈاکٹر حافظ حسن مدنی نے اسلامی ریاست کے عملی تقاضوں کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ریاست کے رول ماڈل کے طورپر ہمیں عہد نبوی اور دورِ خلافت راشدہ سے رہنمائی لینا ہے کیونکہ زبان رسالت سے دورِ نبوت اور دور خلفا کو خیرالقرون کی شہادت دی گئی ہے۔

اسلامی ریاست کے فرائض میں مسلمانوں کو اللہ کی بندگی پر لانے کی تدبیر وتنظیم، معاشرے میں معاشی مساوات کے لئے نظامِ زکوٰة، اللہ کی رٹ قائم کرنے کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قیام، اور لوگوں پر اللہ کے دین کا نفاذ سرفہرست ہیں۔ نبی کریم نے بطورِ حاکم اللہ کی بندگی واطاعت پر فوکس کیا، اور آپ کی سیرتِ طیبہ سے ہمیں اسی کی رہنمائی ملتی ہے۔

کوئی بھی حکمران جب تک خوفِ خدا سے معمور نہ ہو، وہ عمر جیسا بہترین حکمران نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی فرائض کی تکمیل کے لئے مسجد ومدرسہ کاقیام اور لوگوں کی دینی رہنمائی کا مثر نظام وضع اور قائم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہماری معیشت میں اللہ کی حاکمیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں سود وجوا اور لاٹری کا خاتمہ ہو اور اسلامی نظام مالیات کو مروج کیا جائے۔
22/12/2013 - 17:48:31 :وقت اشاعت