بند کریں
صحت صحت کی خبریںامریکہ اور اتحادیوں نے میدانوں میں شکست کے بعد تعلیمی اداروں کو خصوصی ہدف بنا رکھا ہے، نظام ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/12/2013 - 13:21:55 وقت اشاعت: 28/12/2013 - 12:07:47 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 21:04:26 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 20:47:17 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 20:35:34 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 20:33:39 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 17:36:18 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 16:09:42 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 16:09:42 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 15:54:27 وقت اشاعت: 27/12/2013 - 15:24:23

امریکہ اور اتحادیوں نے میدانوں میں شکست کے بعد تعلیمی اداروں کو خصوصی ہدف بنا رکھا ہے، نظام تعلیم کو سیکولر بنانے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ اور امدادیں دی جارہی ہیں،بچوں کو سکولوں میں جنسی تعلیم دینا شرمناک اقدام ہے، نصاب تعلیم کو سیکولر بنانے کیلئے ماضی میں کبھی ایسی کوششیں نہیں ہوئیں جیسی اب کی جارہی ہیں،اساتذہ کرام، تعلیمی ماہرین اور مذہبی و سیاسی جماعتیں دنیائے کفر کی سازشوں کے مقابلہ کیلئے آگے بڑھیں، تعلیم کے میدان کو بھی دنیائے کفر کیلئے کھلا نہیں چھوڑیں گے،امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید کا خطبہ جمعہ اور سمینار سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27دسمبر۔2013ء)امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے میدانوں میں شکست کے بعد تعلیمی اداروں کو خصوصی ہدف بنا رکھا ہے، پاکستان میں نظام تعلیم کو سیکولر بنانے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ اور امدادیں دی جارہی ہیں،بچوں کو سکولوں میں جنسی تعلیم دینا انتہائی شرمناک اقدام ہے، نصاب تعلیم کو سیکولر بنانے کیلئے ماضی میں کبھی ایسی کوششیں نہیں ہوئیں جیسی اب کی جارہی ہیں،اساتذہ کرام، تعلیمی ماہرین اور مذہبی و سیاسی جماعتیں دنیائے کفر کی سازشوں کے مقابلہ کیلئے آگے بڑھیں، تعلیم کے میدان کو بھی دنیائے کفر کیلئے کھلا نہیں چھوڑیں گے۔

جامع مسجد القادسیہ میں نماز جمعہ کے اجتماع اور طالبات جماعةالدعوة کے تربیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکہ ، بھارت اور ان کے اتحادیوں کے مذموم منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔ وہ اس کا چہرہ اور منظر تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔اس کیلئے تعلیمی اداروں کاانتخاب کیا گیا ہے۔ بظاہر تعلیم کو عام کرنے کیلئے سہولیات اور امدادیں دینے کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ بیرونی قوتیں یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ کسی ملک کا تعلیمی نظام کنٹرول کرکے ہی اس کی سیاست،معیشت و معاشرت اور قانونی ڈھانچوں پر حاوی ہوا جاسکتا ہے۔

اس لئے نوجوان نسل کو دین سے برگشتہ کرنے کیلئے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کروائی جارہی ہیں اور سکولوں کی سطح پر بچوں کیلئے جنسی تعلیم کو لازم قرار دیا جارہا ہے۔یہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات کا بہت زیادہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تعلیم کے نام پر بہت زیادہ فنڈز دیے جارہے ہیں اور بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں کہ تعلیمی اداروں میں ایسی نسل تیار کی جائے جو امریکہ و مغرب کے نظاموں کو چلانے والی اور ذہنی طور پر ان کی غلام ہو۔

نبی اکرم نے جہالت اور تاریکی دور کرنے کیلئے قرآن و سنت کی دعوت کو عام کیا جس سے معاشرے سے قتل و غار ت گری، فتنہ و فساد اور حقوق کاغصب ختم ہو گیا آج اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں سے دین کی یہ تعلیم چھین لینا چاہتے ہیں۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ پاکستان دنیائے کفر کیلئے بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ افغانستان کے بارے میں بنائے گئے اتحادیوں کے سب منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔

اب وہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتے ہیں۔انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ آچکی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی اور وسائل کے بل بوتے پر مسلمانوں کے خلاف کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتے اسلئے اب انہوں نے تعلیمی میدان کو جنگ کیلئے منتخب کیا ہے اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان شاء اللہ کفار کی سازشوں کا توڑ اسی میدان میں کرنا ہے۔

اس کیلئے بہت محنت اور اخلاص کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کرام اور تعلیمی ماہرین کو دنیائے کفر کی سازشوں کوناصرف قوم کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے بلکہ نوجوان نسل کو بچانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی نعمت کے طور پر مسلمانوں کو دیالیکن ہم نے اس ملک کو لاالہ الااللہ کا ملک نہیں بنایا۔ اگر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو اس کی بنیاد ہندو بنئے سے دوستی اور اس کے ساتھ مل جل کر رہنے کا پروگرام تشکیل دینا تھا۔

آج پھر وہی تدبیریں وسازشیں کی جارہی ہیں اور شیخ مجیب کی طرح یہاں بھی بعض لوگ ان کے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔پاکستان میں ایسی تہذیب اور کلچر پروان چڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ ہندو اور مسلمان میں کوئی فرق نظر نہ آئے۔جنسی اختلاط کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکہ اور نیٹو فورسز نے پاکستان کو بیس کیمپ بنا کر افغانستان کے خلاف جنگ لڑی۔

یہ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ صلیبی جنگ تھی ۔ ماضی میں صلیبی ملک الگ الگ لڑتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ سارے صلیبی ملک متحد ہو کر افغانستان پر چڑھ دوڑے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر آج تک کوئی ملک اور قوم قبضہ نہیں کر سکی۔ بارہ سال کی اس جنگ کے بعد اتحادی ممالک کوبھی یہاں بدترین کا شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔وہ اپنی اس شکست کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتے ہیں اسی لئے اسے خصوصی طور پر ٹارگٹ کیاجارہا ہے۔ ہم نے اتحادویکجہتی کے ذریعہ ان کی مذموم سازشوں کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔
27/12/2013 - 20:33:39 :وقت اشاعت