بند کریں
صحت صحت کی خبریںبجلی کی تاروں کی قربت سے کینسر کا امکان نہیں، نئی تحقیق

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/02/2014 - 19:20:53 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 16:46:27 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 16:17:51 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 16:09:56 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 13:39:26 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 13:08:35 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 13:06:57 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:09:43 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:02:40 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 12:24:50 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 12:21:44

بجلی کی تاروں کی قربت سے کینسر کا امکان نہیں، نئی تحقیق

کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10فروری 2014ء)بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے قریب رہنے والے بچوں کو خون کا سرطان ہونے کا خطرہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے جس میں 1962اور 2008 کے درمیان برطانیہ میں لیوکیمیا میں مبتلا ہونے والے 16 ہزار 500بچوں سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔واضح رہے کہ کینسر کی جو اقسام بچوں میں دیکھنے میں آئی ہیں ان میں ایک تہائی حصہ خون کے سرطان یا لیوکیمیا کا ہے۔

برطانیہ میں ہر سال پندرہ برس سے کم عمر کے کم وبیش چار سو ساٹھ بچے لیوکیمیا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے ماہرین نے مزید کہا کہ انھوں نے لیوکیمیا میں مبتلا ہونے والے 16 ہزار500 بچوں کا موازنہ دو ہزار صحت مند بچوں سے کیا جو اسی علاقے میں بجلی کی تاروں کے قریب واقع گھروں میں پلے بڑھے۔ جب گذشتہ کئی برسوں کے تمام اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ بجلی کی تاروں کے قریب رہنے والے بچوں کو لیوکیمیا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم جب ان اعداد و شمار کو دس دس برس کے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ1960 اور سنہ 70 کی دہائیوں میں جو بچے بجلی کی تاروں سے600 میٹر کے اندر اندر رہے، ان کو لیوکیمیا کا خطرہ زیادہ تھا۔

لیکن 1980 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں میں بجلی کی تاروں سے قربت اور لیوکیمیا کے درمیان کوئی تعلق دکھائی نہیں دیا۔

10/02/2014 - 13:08:35 :وقت اشاعت