بند کریں
صحت صحت کی خبریںاپوزیشن کی اپنے چیئرمین سینیٹ سے تلخی کلامی، دباؤ ڈالا گیا تو کارروائی نہیں چلاؤں گا،نیئر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/02/2014 - 15:02:21 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 14:11:47 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 13:56:55 وقت اشاعت: 14/02/2014 - 20:30:15 وقت اشاعت: 14/02/2014 - 19:47:24 وقت اشاعت: 14/02/2014 - 17:32:01 وقت اشاعت: 14/02/2014 - 16:36:17 وقت اشاعت: 14/02/2014 - 13:20:43 وقت اشاعت: 14/02/2014 - 11:48:34 وقت اشاعت: 13/02/2014 - 22:10:38 وقت اشاعت: 13/02/2014 - 22:09:34

اپوزیشن کی اپنے چیئرمین سینیٹ سے تلخی کلامی، دباؤ ڈالا گیا تو کارروائی نہیں چلاؤں گا،نیئر حسین بخاری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14فروری 2014ء)سینیٹ میں اپوزیشن کی اپنے چیئرمین سینیٹ سے تلخی کلامی ،چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری نے وارننگ دی کہ مجھ پر دباؤ ڈالا گیا تو ایوان کی کارروائی نہیں چلاؤں گا،مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں اجلاس ملتویٰ کردوں گا،جمعہ کو سینیٹ کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اراکین اظہار خیال کررہے تھے کہ اس دوران پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر میاں رضا ربانی کھڑے ہوئے اورنکتہ اعتراض پر بولنے کی کوشش کی جس پر چیئر مین سنیٹ نے انہیں موقع نہیں دیا سینٹر رضا ربانی نے اس موقع پر شدید احتجاج کیا اورکہاکہ اراکین جو نکتہ اعتراضات میں نکات اٹھاچکے ہیں قائد ایوان راجہ ظفرالحق پہلے ان کا جواب دیں باقی اراکین کے نکتہ اعتراض بعد میں لیں اس موقع پر چیئرمین سنیٹ اورمیاں رضا ربانی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی چیئرمین سنیٹ نے کہاکہ آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں جس پر رضا ربانی نے کہاکہ میں آپ سے درخواست کررہا ہوں چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ ایڈوائزری کمیٹی میں فیصلہ ہوا تھا کہ اراکین نکتہ اعتراضات پر بات کرلیں جس کے بعد قائد ایوان سب کا جواب دے دیں گے جمعہ کی اذان ہونے والی ہے اوربہت سارے اراکین نے بات کرنی ہے چیئرمین سنیٹ نے کہاکہ آ پ تشریف رکھیں اس طرح کارروائی نہیں چل سکتی ،میں اجلاس کوملتویٰ کردوں گایہ کوئی طریقہ نہیں کہ مجھ پر دباؤ ڈالا جارہاہے اس موقع پر چیئرمین سنیٹ نے قائد ایوان کو ہدایت کی کہ وہ اراکین کے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیدیں جس پرمسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغا بھڑک اٹھے انہوں نے کہاکہ ایک آدمی کے ہاتھوں اس ایوان کو یرغمال نہیں ہونے دیں گے میں جب بھی بات کے لیے اٹھتا ہوں تو روک دیا جاتاہے یہ رویہ ہمیں کسی صورت برداشت نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ بیس مرتبہ میرے ساتھ ایساہی ہوا ہے یہ رویہ مجھے اورمیری جماعت کو ہرگز برداشت نہیں ،جس پر اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزازاحسن نے معاملے کو ٹھنڈا کیا اورکہاکہ کامل علی آغا کو بات کرنے کا موقع دیدیاجائے،جس کے بعد ایوان کاماحول بہتر ہوگیا اورمعمول کی کارروئی شروع ہوگئی۔

14/02/2014 - 17:32:01 :وقت اشاعت