بند کریں
صحت صحت کی خبریںمذاکرات کی کامیابی کے لئے دونوں طرف سے سیز فائر ناگزیر ہے، شوکت علی یوسفزئی ،مولانا فضل الرحمان ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:28:19 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:27:32 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 19:02:24 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 16:24:31 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 15:04:35 وقت اشاعت: 20/02/2014 - 20:39:08 وقت اشاعت: 20/02/2014 - 20:07:09 وقت اشاعت: 20/02/2014 - 20:05:30 وقت اشاعت: 20/02/2014 - 17:35:52 وقت اشاعت: 20/02/2014 - 17:30:59 وقت اشاعت: 20/02/2014 - 14:10:35

مذاکرات کی کامیابی کے لئے دونوں طرف سے سیز فائر ناگزیر ہے، شوکت علی یوسفزئی ،مولانا فضل الرحمان تنقید کی بجائے مثبت کردار ادا کریں،مذاکراتی عمل سے ان کا باہر ہونا افسوس ناک ہے، وزیر صحت کی میڈیا سے گفتگو

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20 فروری ۔2014ء)خیبر پختونخوا کے وزیر صحت شوکت علی یوسفزئی نے قیام امن کے سلسلے میں حکومت اور طالبات کے درمیان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے دونوں طرف سے سیز فائر کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو مذاکرات کی کامیابی کے لئے ساز گار ماحول خود بنانا ہوگا ضروری ہے کہ مذکرات سے پہلے کوئی شرط نہ رکھی جائے۔

مزید براں سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ دوہرے معیار سے اجتناب کریں۔مولانا فصل الرحمن کو مذاکرات پر تنقید کرنے کی بجائے مثبت کردار اداکرنا چاہیے ان کا مذاکراتی عمل سے باہر ہونا افسوسناک ہے ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے خیبر گرلز میڈیکل کالج کے کانووکیشن کے موقع پر موجود میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر صحت نے اس موقع پر مذاکرات کی کامیابی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ دہرے معیار سے گریز کریں اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں ایمانداری سے کردار اداکریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مذکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے تاہم ضروری ہے کہ پیشگی کوئی شرط نہ رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو چاہیے کہ مذاکراتی عمل کی پیش رفت سے متعلق وہ خود میڈیاکو بریف کیاکریں تاکہ منفی پروپیگنڈے کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔وزیر صحت نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو دونوں طرف سے نظر انداز کیا گیا اس لئے وہ انتقاماً اپنا کردار ادا کرنے سے انکاری ہیں حالانکہ انہیں مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے کے لئے آگے آنا چاہیے تھاانہوں نے کہا کہ کمیٹی میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے مقصد قوم کو دہشت گردی کے عذاب سے نجات دلانا ہے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ گیارہ سال کی جنگ کے باوجود امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکا اور اب تک بے شمار بے گناہ زندگیاں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔دہشت گردی کی وجہ سے ایک طرف بے گناہ انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے تو دوسری طرف ملکی معیشت پر بھی اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی ایجنڈے اور مفادات پر قومی سلامتی کو ترجیح دیں اور مذاکرات کی کامیابی میں ہر ممکن کردار اداکریں۔

وزیر صحت نے اس موقع پر طالبان اور حکومت دونوں کمیٹیوں پر زور دیا کہ وہ واضح لائحہ عمل اختیار کریں اگر ایک طرف مذاکرات شروع ہوں اور دوسری طرف نعشیں اٹھائی جا رہی ہوں تو کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی یہ عوام کو دھوکے میں رکھنے والی بات ہے انہوں نے کہا کہ عوام نے حکومت کو مینڈیٹ دے دیا ہے اب حکومت امن عامہ کو بحال کرنے کی ذمہ دار ہے جبکہ آئینی نکتہ نظر سے بھی عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ تمام سازشوں اور چیلنجز کے باوجود مذاکرات کے عمل کو نہ صرف جاری رکھاجائے بلکہ اس کی کامیابی کے لئے حکومت ہر ممکن ساز گار ماحول پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ فریقین لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانیت پر رحم کھائیں آگ اور بارود کے اس کھیل کو اب ختم ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان اور اس کے غریب عوام اب مزید اس بربریت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

20/02/2014 - 20:39:08 :وقت اشاعت