بند کریں
صحت صحت کی خبریںماؤں اور نوازئیدہ کی شرح اموات کو کم کرنے کیلئے عالمی ادارہ صحت کی تجاویزپرعملدرآمد ناگزیر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/03/2014 - 23:00:31 وقت اشاعت: 04/03/2014 - 22:26:43 وقت اشاعت: 04/03/2014 - 22:23:07 وقت اشاعت: 04/03/2014 - 22:07:52 وقت اشاعت: 04/03/2014 - 22:05:20 وقت اشاعت: 04/03/2014 - 19:16:12 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 22:14:27 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 22:11:59 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:07:17 وقت اشاعت: 02/03/2014 - 17:25:08 وقت اشاعت: 02/03/2014 - 17:14:51

ماؤں اور نوازئیدہ کی شرح اموات کو کم کرنے کیلئے عالمی ادارہ صحت کی تجاویزپرعملدرآمد ناگزیر ہوچکا ہے ،ڈاکٹر نصیر بلوچ ، عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،ورکشاپ سے خطاب

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4مارچ۔2014ء)صوبے میں ماؤں اور نوازئیدہ کی شرح اموات کو کم کرنے کیلئے عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ ادویات کے استعمال کے فروغ دینا ناگزیر ہوچکا ہے بلوچستان ملک بھر میں زچگی کے دوران مرنے والی ماؤں کی شرح اموات کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ ایک تا پانچ سال کی عمر کے بچوں کی شرح اموات بھی صوبے میں دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ہے ۔

ان خیالات کااظہار ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نصیر بلوچ چیئرپرسن ٹیکنیکل کمیٹی ڈاکٹر پروفیسر عائشہ صدیقہ ڈاکٹر نبیلہ ڈاکٹر فاروق اعظم ڈاکٹر سعید اللہ خان نصیر حمل بلوچ اور دیگر ماہرین صحت نے مرسی کور کے زیر اہتمام صوبائی سطح پر ماؤں کی شرح اموات میں کمی کیلئے عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ دوائی مایزو پرسٹول اور نوازئیدہ کی شرح اموات میں کمی لانے کیلئے کلور و کیڈین جھل کے استعمال کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ میں کیا ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے مزید کہاکہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے دنیا میں ہونے والی تحقیق کے بعد عالمی ادارہ صھت کی تجویز کردہ ادویات کو پہلے بھی سرکاری ادویات کی لسٹ میں شامل کیا گیا آئندہ بھی حکومتی سطح پر بھر پور تعاون کیا جائے گا ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز فاروق اعظم نے بتایا کہ مرسی کور کی کوشش سے مایزو پروسٹول کو سرکاری ادویات کی لسٹ میں شامل کرلیا گیا ہے اس کے استعمال سے بے شمار ماؤں کی زندگیوں کو بچانے میں مدد ملے گی چیئرپرسن صوبائی ٹیکنیکل کمیٹی ڈاکٹر پروفیسر عائشہ صدیقہ نے کہاکہ ہم سب کی کوششوں سے بلوچستان کی دوران زچگی مرنے والے ماؤں کی شرح اموات میں کمی لانے والی دوائی کو صوبائی حکومت نے منظوری دیتے ہوئے سرکاری لسٹ میں شامل کرلیا ہے اب تمام ڈاکٹرز کی کوشش ہونی چاہیے کہ زچگی کے بعد ہر ماں کو مایزو پروسٹول کی تین گولیاں ضرور استعمال کرائے مرسی کور کے پلیٹ فارم سے شرو ع ہونے والی اس کوشش سے بے شمار ماؤں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کم ہوچکے ہیں امید ہے کہ حکومت نوازئیدہ بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے کیلئے نیپال میں کامیابی سے استعمال ہونے والی جھل جیسے عالمی ادارہ صحت نے تجویز کیا ہے کہ ہماری ٹیکنیکل کمیٹی کی سفارشات پر نیپال سے منگوانے اور اپنی ادویات کی فہرست مٰں شامل کرنے میں تعاون کرے گی مرسی کور کے ریجنل سربراہ ڈاکٹر سعید اللہ خان نے شرکاء کو بتایا کہ ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے شروع کردہ ایک سالہ پروجیکٹ میں مایزو پرسٹول کے استعمال پر چیک اور ہیلتھ ورکرز کی ٹریننگ کرائی جائے گی 90کمیونٹی میڈوایف کی تعیناتی کرائی جائے گی ان کو ٹریننگ کرائی جائے گی تربیت یافتہ برتھ ائیڈیٹ کے ذریعے زچگی کرانے کی ایڈوکیسی کی جائے گی انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں صرف 18فیصد عاملہ خواتین تربیت یافتہ سٹاف اور زچگی کراتی ہیں 250ہیلتھ ورکرز کو تربیت دی جائے گی 300کمیونٹی عمائدین اور 11000شادی شدہ خواتین کی کونسلنگ کی جائے گی بنیادی طبی مراکز میں جاکر سٹاف کی تربیت کرائی جائے گی تاکہ پرانے طریقوں سے ہٹ کر ماہرین زچگی کرانے کے عمل کو بڑھایا جاسکے اس موقع پر صوبائی کوآرڈینیٹر مرسی کور نصیر حمل نے بتایا کہ (i can )پروجیکٹ کے ذریعے ہر شخص میں یہ شعور اجاگر کرانا ہے کہ صحت کے اصولوں پر مبنی سہولیات والے سینٹرز میں زچگی کرائی جائے اور نوازئیدہ بچوں پر پیداش کے بعد اپنے روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید دوائی کا استعمال عمل میں لایا جائے ۔

04/03/2014 - 19:16:12 :وقت اشاعت