بند کریں
صحت صحت کی خبریںمعاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے خواتین کو زیادہ سے زیادہ با اختیار بنانا ضروری ہے،سید نیئر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/03/2014 - 19:15:28 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 18:46:26 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 18:32:02 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 16:33:41 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 12:55:22 وقت اشاعت: 06/03/2014 - 21:19:33 وقت اشاعت: 06/03/2014 - 20:30:34 وقت اشاعت: 06/03/2014 - 14:09:41 وقت اشاعت: 06/03/2014 - 12:33:49 وقت اشاعت: 05/03/2014 - 20:05:39 وقت اشاعت: 05/03/2014 - 14:25:45

معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے خواتین کو زیادہ سے زیادہ با اختیار بنانا ضروری ہے،سید نیئر حسین بخاری ،صحتمند ،اچھا تعلیم یافتہ اور پر امن معاشرہ خواتین کا کردار تسلیم کرنے سے ہی تشکیل دیا جاسکتا ہے،ترقی کی راہ میں غربت ، ماحولیاتی تبدیلیاں اور دیگر اہم خطرات کے رکاوٹ بننے کے ساتھ صنفی عدم مساوات بھی ترقی و خوشحالی اور امن و سلامتی کی رفتار کوسست کر دیتی ہیں ،چیئرمین سینیٹ کا کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6مارچ۔2014ء) چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے ضروری ہے کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ با اختیار بنایا جائے اور سیاسی طور پر انہیں فیصلہ سازی میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے ،صحت مند اچھا تعلیم یافتہ اور پر امن معاشرہ تب ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے جب اس میں خواتین کا کردار تسلیم کیا جائے اور انہیں برابری کا مرتبہ دیا جائے ،جہاں غربت ، ماحولیاتی تبدیلیاں اور دیگر اہم خطرات ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں وہاں صنفی عدم مساوات بھی ترقی و خوشحالی اور امن و سلامتی کی رفتار کوسست کر دیتی ہیں ،ہمیں پارلیمنٹ کو زیادہ سے زیادہ با اختیار بنانا ہو گااور قومی قوانین اور قانونی فریم ورک کو بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قرارد ادوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔

انہوں نے یہ بات خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے ایک منعقدہ کانفرنس میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پارلیمنٹ بھی اس سلسلے میں پیچھے نہیں رہی بلکہ مو ثر قانون سازی اور دیگر اقدامات کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ طبقوں خصوصا ً خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے ۔ان اہم قوانین میں چیئر ین سینیٹ نے بتایا کہ گھریلو تشدد (تدارک و تحفظ کا ایکٹ 2009) ، فیملی کوٹ ترمیمی ایکٹ 2008، کام کرنے کے دوران خراساں کرنے کا ایکٹ 2009ء ،عورتوں پر تیزاب چھڑکنے کے واقعات کے تدارک کیلئے بنایا گیا قانون 2010ء اور دیگر اہم قوانین شامل ہیں جن کی بنیاد پر پارلیمنٹ نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے موثر طریقے سے قانون سازی کی ہے اور اس سلسلے میں نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ وہ اراکین بھی قابل تعریف ہیں جنہوں نے یہ بل پیش کیے اور خواتین کا تحفظ ممکن ہو ا۔

وومن کاکس کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے چیئر مین سینیٹ نے سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس فورم نے خواتین پارلیمنٹرینز کو قومی و بین الاقوامی سطح پر موثر کردار ادا کرنے میں کافی مدد دی ہے۔چیئر مین سینیٹ نے شرکاء کو بتایا کہ کوئی بھی قانون سازی کا عمل اس وقت تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا جب تک کہ اس میں خواتین پارلیمنٹرینز کا نقطہ نظر شامل نہ ہو اور یہی وجہ ہے کہ انکی شمولیت کے باعث ہی ایک بہتر جمہوری عمل پروان چڑھ سکتا ہے ۔

انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح ، بیگم رانا لیاقت علی خان اور محترمہ بینظیر بھٹوشہید سے لے کر ملالہ یوسف زئی اور عارفہ کریم تک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان خواتین نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کے ذریعے ملک و قوم کا نام روشن کیا اور آج بھی قوم کو ان پر فخرہے ۔انہوں نے اس امید کاا ظہار کیا کہ اس کانفر س کے انعقاد کے اچھے نتائج برآمد ہونگے اور اس سلسلے میں انہوں نے منتظمین کو بھی سراہا۔اس کانفرنس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ، اراکین پارلیمنٹ اور میڈیاء کے نمائندوں نے بھر پور شرکت کی ۔ سینیٹرز افراسیاب خٹک ، مشاہد حسین سید ، میاں رضا ربانی ، فرخت اللہ بابر ، سحر کامران ، نسرین جلیل اور سعیدہ اقبال کے علاوہ دیگر سینیٹر ز بھی شریک تھے ۔

06/03/2014 - 21:19:33 :وقت اشاعت