بند کریں
صحت صحت کی خبریں تھر میں تمام ہلاکتیں صرف قحط سالی سے نہیں بیماریوں کی وجہ سے بھی ہوئی ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/03/2014 - 18:59:54 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 15:30:34 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 19:52:45 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 19:52:45 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 19:15:28 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 18:46:26 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 18:32:02 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 16:33:41 وقت اشاعت: 07/03/2014 - 12:55:22 وقت اشاعت: 06/03/2014 - 21:19:33 وقت اشاعت: 06/03/2014 - 20:30:34

تھر میں تمام ہلاکتیں صرف قحط سالی سے نہیں بیماریوں کی وجہ سے بھی ہوئی ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ ،اعتراف کرتا ہوں علاقے میں گندم صحیح طریقے سے تقسیم ہوئی نہ ہی ریلیف کے اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں ،سید قائم علی شاہ ، محکمہ صحت ضلع تھر کے ڈائریکٹر اور ایم ایس مٹھی سول اسپتال کو معطل جبکہ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کا تبادلہ کردیا گیا ہے ،وزیر اعلیٰ ہاوٴس میں پریس کانفرنس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7مارچ۔2014ء) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ تھر میں تمام ہلاکتیں قحط سالی سے نہیں بلکہ بیماریوں کی وجہ سے بھی ہوئی ہیں۔تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ علاقے میں گندم صحیح طریقے سے تقسیم نہیں ہوئی اور ریلیف کے اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت ضلع تھر کے ڈائریکٹر اور ایم ایس مٹھی سول اسپتال کو معطل کرکے غفلت مجرمانہ پر انہیں گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں جبکہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کا فوری تبادلہ کردیا ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے قحط کے متاثرین کی فوری امداد کے لیے ایک لاکھ دس ہزار گندم کی بوریاں مفت تقسیم کرنے ، ہلاک ہونے والے بچوں کے ورثاء کو دو لاکھ روپے فی کس امداد دینے اور ادویات کے لیے ایک کروڑ روپے فوری امداد کا اعلان کیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاوٴس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن ، صوبائی وزیر ماہی گیری ، پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری تاج حیدر سمیت منتخب اراکین اسمبلی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے تھر پارکر میں مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور افسران سے صورت حال دریافت کی ۔ انہوں نے کہا کہ تھر پارکر میں 60 ہزار گندم کی بوریاں پہلے سے موجود ہیں ، جو کہ ہم آدھی قیمت پر عوام کو فراہم کرتے تھے ، اب مزید 60 ہزار بوریوں کو ملا کر ایک لاکھ 20 ہزار گندم کی بوریاں عوام میں مفت تقسیم کریں گے ، جس کی مالیت دس کروڑ روپے کی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس پیکچ کی تقسیم کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی جارہی ہے ، جس میں ایک ایم پی اے ، اسسٹنٹ کمشنر اور ایک مقامی صحافی شامل ہو گا تاکہ درست طریقے سے اس کی تقسیم ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ روپے کی ادویات فوری طور پر فراہم کی جائے گی جبکہ ضرورت پر پڑنے پر مزید ادویات بھی خریدی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی کے علاوہ تحصیلوں میں قائم اسپتالوں میں مریضوں کی تشخیص کے لیے مشینری نہیں ہے ، اس کو فراہم کریں گے اور کراچی سے سینئر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں بھیج کر وہاں کے ڈاکٹروں تربیت دلائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جو بچے مر گئے ہیں ، وہ غیر معمولی سردی کے باعث نمونیا ہونے سے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑے یا اچھے گھر نہیں ہوتے ۔ حکومت سندھ مرنے والے بچوں کے ورثاء کو دو لاکھ روپے فی کس امداد دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بچے اسپتال میں لائے گئے تو ان کے مرض کی صحیح تشخیص نہیں ہوئی اور نہ ہی اسپتال میں ادویات موجود تھیں ۔

ہم نے ایم ایس اور ڈائریکٹر ہیلتھ جو کہ دونوں 19 گریڈ کے افسر ہیں ، ان کو فرائض سے غفلت کے الزام میں معطل کرکے گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ سندھ حکومت کو بروقت مطلع نہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کا بھی تبادلہ کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں سرکاری طور پر 41 بچوں کی اموات کا بتایا گیا ہے تاہم میڈیا میں یہ تعداد بہت زیادہ بتائی گئی ہے ۔

ہم اس کی تحقیقات کرائیں گے ۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی حیدر آباد ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری تاج حیدر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے تھر پارکر میں ہی رہیں ۔ جب ان سے کہا گیا کہ سرکاری افسران کو تو معطل کیا گیا لیکن متعلقہ وزراء کو معطل کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جو موقع پر موجود افسران تھے ان کی غفلت واضح ہو گئی ہے جبکہ وزراء نے پہلے بھی متعدد دورے کرکے صورت حال کا جائزہ لیا تھا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تھر پارکر کی آبادی 16 لاکھ افراد پر مشتمل ہے ، جس میں سے زیادہ تر لوگ بالائی سندھ چلے جاتے ہیں کیونکہ یہ گندم کی کٹائی کا وقت ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تھرمیں 11 لاکھ جانور ہیں ، جن میں سے چار لاکھ کو ویکسی نیشن کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی اسپتال میں جن بچوں کی حالت تشویشناک تھی ، ان کو رات کو ہی حیدر آباداسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر مخیر حضرات یا امدادی ادارے کام کرنا چاہیں تو کریں تاہم حکومت اپنے وسائل سے صورت حال کو کنٹرول کرے گی ۔

07/03/2014 - 18:46:26 :وقت اشاعت