بند کریں
صحت صحت کی خبریں پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے کے واقعات ڈاکٹر شکیل آفریدی کی وجہ سے پیش آئے ، صورتحال بہتر بنائینگے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/03/2014 - 14:29:18 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 12:22:06 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 22:45:37 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 22:41:13 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 22:40:09 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 20:43:34 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 20:38:36 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 17:13:42 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 14:05:15 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 13:45:04 وقت اشاعت: 12/03/2014 - 12:45:31

پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے کے واقعات ڈاکٹر شکیل آفریدی کی وجہ سے پیش آئے ، صورتحال بہتر بنائینگے ، عمران خان ،سب سے زیادہ پولیو کیس شمالی وزیرستان سے سامنے آرہے ہیں ،حکومت کو طالبان سے مذاکرات میں انسداد پولیو مہم کا معاملہ بھی رکھنا چاہیے ، وزیر داخلہ اور وزیر اعظم سے بات کرونگا ، میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12مارچ۔2014ء)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شمالی وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم پر طالبان کی پابندی کا معاملہ اٹھایا جائے ،پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے کے واقعات ڈاکٹر شکیل آفریدی کی وجہ سے پیش آئے ، صورتحال بہتر بنائینگے ، سب سے زیادہ پولیو کیس شمالی وزیرستان سے سامنے آرہے ہیں ،حکومت کو طالبان سے مذاکرات میں انسداد پولیو مہم کا معاملہ بھی رکھنا چاہیے ، وزیر داخلہ اور وزیر اعظم سے بات کرونگا۔

بدھ کو عالمی ادارئے صحت کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مارگرٹ چین نے عمران خان سے اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ذرائع کے مطابق عالمی ادارئے صحت کے نمائندوں نے عمران خان سے درخواست کی کہ قیامِ امن کیلئے طالبان کیساتھ مذاکرات میں شمالی وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم کے خلاف پابندی اٹھائے جانے کو ان مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔

عمران خان نے عالمی ادارئے صحت کی سربراہ کو یقین دلایا کہ وہ وفاقی حکومت سے کہیں گے کہ طالبان سے مذاکرات میں قبائلی علاقوں میں پولیو مہم شروع کرنے کا معاملہ بھی اٹھائیں۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی ذمہ داری وفاق کی ہے تاہم اس پر پیش رفت وفاقی حکومت ہی کر سکتی ہے۔عالمی ادارائے صحت کے اہل کاروں نے کہا کہ فاٹا میں بچوں کو قطرے نہیں پلائے گئے تو دارالحکومت پشاور اور خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں میں ایک بار پھر وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک میں پولیو کے مرض کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے اس سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت ہر اقدام کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک حلقے کی جانب سے انسداد پولیو ویکسی نیشن پر اعتراض ضرور کیا جاتا تھا تاہم ہیلتھ ورکرز پر حملے نہیں ہوتے تھے تاہم ایبٹ آباد آپریشن کیلئے سی آئی اے کی جانب سے ہیلتھ ورکرز کے استعمال نے صورت حال کو تبدیل کردیا۔

عمران خان نے کہا کہ پشاور میں پولیو کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومت نے ایک حکمت عملی بنائی جس کے تحت ہر ہفتے 6لاکھ بچوں کی ویکسی نیشن کا ہدف مقرر کیا گیا، اس دوران ہیلتھ ورکرز کو پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے علاوہ تحریک انصاف کے رضا کاروں کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس کا اطلاق ہونا چاہیے۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پولیو کے سب سے زیادہ کیسز شمالی وزیرستان سے سامنے آرہے ہیں تاہم وہاں جنگ کی صورت حال ہے اس لئے انسداد پولیو مہم نہیں چلائی جاسکتی۔ وہ وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ سے بات کریں گے کہ طالبان سے مذاکرات میں پولیو کا معاملہ بھی رکھیں کیونکہ اگر وہاں ویکسی نیشن نہ کی جاسکی تو اس کا اثر دیگر حصوں پر بھی پڑے گا۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے کے واقعات ڈاکٹر شکیل آفریدی کی وجہ سے پیش آرہے ہیں۔

12/03/2014 - 20:43:34 :وقت اشاعت