بند کریں
صحت صحت کی خبریںصحت مند رہنا ہے تو چینی کے استعمال میں 50 فیصد کمی کریں: عالمی ادارہ صحت

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2014 - 12:49:14 وقت اشاعت: 16/03/2014 - 19:59:45 وقت اشاعت: 16/03/2014 - 19:58:04 وقت اشاعت: 16/03/2014 - 19:56:50 وقت اشاعت: 16/03/2014 - 12:39:34 وقت اشاعت: 15/03/2014 - 23:03:01 وقت اشاعت: 15/03/2014 - 21:51:28 وقت اشاعت: 15/03/2014 - 21:50:54 وقت اشاعت: 15/03/2014 - 21:50:54 وقت اشاعت: 15/03/2014 - 21:38:47 وقت اشاعت: 15/03/2014 - 21:38:47

صحت مند رہنا ہے تو چینی کے استعمال میں 50 فیصد کمی کریں: عالمی ادارہ صحت

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15مارچ۔2014ء) عالمی ادارہ صحت کی نئی ہدایات کے مطابق لوگوں کو اپنی روزانہ کی خوراک میں چینی یا شکر کی مقدار کو نصف کر دینا چاہیے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایک عام شخص دن میں جتنی کیلوریز لیتا ہے چینی کا اس میں حصہ دس فیصد سے کم ہونا چاہیے جبکہ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ حصہ پانچ فیصد تک ہی ہوان ہدایات کے مطابق ایک عام وزن والا شخص روزانہ 50 گرام تک چینی استعمال کر سکتا ہے۔

عالمی ادارے نے اس تجویز کی منظوری 2002 میں دی تھی تاہم اسے 12 برس بعد ہی ہدایات میں شامل کیا جا سکا ہے۔


تاہم اب کئی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں فربہ افراد کی تعداد میں اضافے کے تناظر میں دس فیصد کی حد بھی بہت زیادہ ہے۔نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تازہ ہدایات کے مطابق روزانہ خوراک سے حاصل ہونے والی توانائی میں شکر کا حصہ دس فیصد سے کم ہونا چاہیے اور اگر اسے پانچ فیصد سے کم کی حد پر لایا جائے تو اس کے اضافی فوائد ہوں گے۔

‘۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر برائے غذائیت ڈاکٹر فرانسیسکو برانکا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دس فیصد کا ہدف تو بیحد ضروری ہے جبکہ اگر ممکن ہو تو ہمیں پانچ فیصد کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ادارہ اب ان ہدایات پر عوام سے رائے لے گا جس کے بعد رواں برس موسمِ گرم میں حتمی ہدایات جاری کی جائیں گی۔غذائیت کی ماہر کیتھرین جینر کا کہنا ہے کہ کہ ’یہ المیہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو شکر کے استعمال کے بارے میں ہدایات میں تبدیلی لانے میں دس برس لگ گئے۔


عالمی ادارہ صحت کی یہ ہدایات انسانی صحت پر چینی کے اثرات بشمول دانتوں کی خرابی اور مٹاپے میں اس کے کردار کے مفصل جائزے کے بعد سامنے آئی ہیں۔خیال رہے کہ حال ہی میں برطانیہ میں موٹاپے اور ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو کھانوں اور سافٹ ڈرنکس میں چینی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔’ایکشن آن شوگر‘ نامی اس گروپ کو کنسینس ایکشن آن سالٹ اینڈ ہیلتھ (کیش) کی ٹیم نے تشکیل دیا ہے جو 90 کی دہائی سے کھانوں میں نمک کے کم استعمال پر زور دیتی رہی ہے۔نئی تنظیم کا مقصد لوگوں کو ’خفیہ شوگرز‘ سے بچنے میں مدد دینا اور صنعت کاروں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ مستقبل میں اس کی مقدار میں کمی لائیں۔

15/03/2014 - 23:03:01 :وقت اشاعت