بند کریں
صحت صحت کی خبریںپنجاب میں تپ دق کے مرض سے شرح اموات میں 53فیصد کمی واقع ہوئی ہے‘ مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق،ملک ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/03/2014 - 14:08:31 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 12:29:36 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 21:14:24 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 20:27:19 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 20:24:01 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 20:00:59 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 19:52:27 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 19:47:48 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 19:40:42 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 19:14:43 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 13:37:54

پنجاب میں تپ دق کے مرض سے شرح اموات میں 53فیصد کمی واقع ہوئی ہے‘ مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق،ملک کو بیماریوں سے پاک کرنے کے لئے مسلسل محنت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24مارچ۔2014ء)مشیر وزیراعلی پنجاب برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب میں تپ دق سے ہونے والی ہلاکتوں میں 53 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جو پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام کی بہت بڑ ی کامیابی ہے، 1990 کی دہائی میں ایک لاکھ مریضوں میں سے 72اموات ریکارڈ ہوتی تھیں اب یہ شرح اب کم ہو کر ایک لاکھ مریضوں میں 34 رہ گئی ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں یہ 45 ہے،حکومت بیماریوں کی روک تھام کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے اور اس سلسلہ میں جامع پلان مرتب کیا جارہا ہے۔

انہوں نے یہ بات ورلڈ ٹی بی ڈے کے سلسلے میں پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام محکمہ صحت کے زیر اہتمام مرسی کورکے تعاون سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز،مرسی کور کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف نور، نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اسلام آباد کے ڈاکٹر اعجاز قدر،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ (ایپڈیمک رسپانس اینڈکنٹرول )ڈاکٹر جعفر سلیم،ڈائریکٹر پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر نعیم کے علاوہ دیگر محکموں اور اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ معاشرے کو بیماریوں سے پاک کرنے کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور افسران کو مسلسل محنت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پیشہ وارانہ فرائض انجام دینا ہوں گے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامی اور مینجمنٹ کے مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ منیجرز کی کپیسٹی بلڈنگ کی سخت ضرورت ہے۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومت نے بیماریوں کی روک تھام کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے محکمہ صحت میں اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے اور صحت سے متعلقہ مختلف پروگراموں کی کامیابی کے لئے زیروٹالرنس کی پالیسی اپنا تے ہوئے ذمہ داران کو جوابدہ بنانا ہو گا تبھی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔قبل ازیں صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام منیجر ڈاکٹر محمد نعیم نے بتایا کہ پاکستان دنیا کے ان 22 ممالک میں پانچویں نمبر پر جن ممالک میں ٹی بی کا مرض بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 537 بنیادی مراکز صحت اور 2899 دیہی مراکز صحت بشمول بڑے سرکاری ہسپتالوں میں تپ دق کے علاج معالجہ کے مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں ان مریضوں کو ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مرسی کور کے تعاون سے پرائیویٹ ڈاکٹرز کو پبلک پرائیویٹ مکس پراجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کی تشخیص وعلاج ممکن بنایا جا سکے۔سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز،نیشنل ٹی بی پروگرام کے انچارج ڈاکٹر اعجاز قدیر اور مرسی کور کے کنٹری منیجر ڈاکٹر عارف نور نے بھی خطاب کیا اور پاکستان سے تپ دق کے مریض کو ختم کرنے کے لئے مربوط کوششوں اور کمیونٹی پارٹیسپیشن پر زور دیا۔

24/03/2014 - 20:00:59 :وقت اشاعت