بند کریں
صحت صحت کی خبریں تپ دق قابل علاج مرض ہے، حکومت ملک بھر میں علاج کی مفت سہولیات فراہم کر رہی ہے،سائرہ افضل تارڑ، ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 26/03/2014 - 12:59:18 وقت اشاعت: 26/03/2014 - 12:18:56 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 23:01:58 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 21:38:11 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 21:35:52 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 19:13:50 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 16:22:32 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 14:08:31 وقت اشاعت: 25/03/2014 - 12:29:36 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 21:14:24 وقت اشاعت: 24/03/2014 - 20:27:19

تپ دق قابل علاج مرض ہے، حکومت ملک بھر میں علاج کی مفت سہولیات فراہم کر رہی ہے،سائرہ افضل تارڑ، تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ حکومت کی جانب مفت علاج کے سلسلے میں مریضوں کی مدد کریں،وزیرمملکت نیشنل ہیلتھ سروسز

اسلا م آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25مارچ۔2014ء)وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن و کوآرڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ تپ دق قابل علاج مرض ہے اور حکومت پاکستان ملک بھر میں اس کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے زندگی کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ حکومت کی جانب مفت علاج کے سلسلے میں مریضوں کی مدد کریں۔

وزیر مملکت نے ان خیالات کا اظہار 24مارچ کو پاکستان بھر میں منائے گئے عالمی ویوم تپ دق کے حوالے سے ایک سیمینار سے آج خطاب کے دوران کیا۔زیر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا میں تپ دق کے شکار ملک میں پانچویں نمبر پر ہے جو خصوصی توجہ کا متقاضی ہے تپ دق پر قابو پانے کا راز اس کی وجوہات سے متعلق آگاہی اور مریضوں کی علاج کے سلسلے میں حوصلہ افزائی میں پنہاں ہے۔

جو کہ بالکل مفت ہے۔ علاج کے دوران اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ مریض متعین کردہ وقت کے دوران علاج کے دورانیے کو مکمل طور پر پور ا کرے گا۔ تپ دق ایک سماجی بدنامی بھی ہے جو علاج میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ عوام میں تعلیم اور آگاہی کے ذریعے مرض کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ وزیر مملکت نے مزید کہاکہ حکومت پاکستان میں تپ دق پر قابو پانے میں بھر پور کوششیں کررہی ہے اب تک 1.5ملین تپ دق کے مریضوں کی تشخیص ہوچکی ہے جن کا1500مائیکروسکوپی اور4000مراکز کے نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں سرکاری اور نجی شعبہ کے تعاون سے اعلیٰ ادویات کے ذریعے مفت علاج کیا ہے۔

اس نیٹ ور کا دائرہ کار مرحلہ وار بڑھایا جارہا ہے تاکہ پاکستان میں تپ دق کے ہر مریض کو ٹی بی کی حفاظتی سہولتوں کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر مملکت نے کہا کہ تپ دق کی روک تھام میں استعمال ہونے والی مختلف ادویات بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور حکومت پاکستان بھر میں 18طبی مراکز میں 3140سے زائد ایسے مریضوں کو علاج کی خصوصی سہولیات فراہم کررہی ہے۔

میں یہاں اس امر کا اظہار ضروری سمجھتی ہوں کہ ان مریضوں کا اعلیٰ علاج و معالجے کے باعث کامیابی کی شرح نہایت قابل ذکر ہے۔وزیر مملکت نے تب دق کے شکار بچوں کی تشخیص اور علاج پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہو ں نے کہا کہ اس پروگرام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔ اور ای سروس پروگرام کی دستیابی کو تمام بنیادی انتظامی یونٹوں سے آن لائن ڈیٹا کی بنیا د پر ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح پر یقینی بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مرض سے متعلق معلومات کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہئے تاکہ ہر سال ٹی بی کے مرض سے مرنے والے ہزاروں افراد کی زندگی بچانے میں مدد مل سکے۔زیر مملکت نے تپ دق کے خلاف جنگ میں نیشنل ٹی بی پروگرام کی کوششوں کو سراہا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ مجھے پروگرام کی انتظامیہ کی صلاحیتوں پر بھر پور اعتماد ہے۔زیر مملکت نے مزید کہا کہ ہم اپنے ساتھیوں ، قومی اور بین الاقوامی تنظیموں اور تمام متعلقہ فریقین کے تعاون سے نہ صرف تپ دق کے مرض پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے بلکہ اس کے لیول کم کرکے اس سطح پر لے آئیں گے کہ ہمارے عوام کی صحت کو اس مرضی سے کوئی خطرہ درپیش نہیں رہے گا۔

25/03/2014 - 19:13:50 :وقت اشاعت