بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان کے قبائلی علاقوں سے طالبان کی حمایت موثر طورپر ختم کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 20/04/2007 - 18:56:44 وقت اشاعت: 20/04/2007 - 16:24:29 وقت اشاعت: 19/04/2007 - 22:44:11 وقت اشاعت: 19/04/2007 - 22:44:11 وقت اشاعت: 19/04/2007 - 11:55:00 وقت اشاعت: 16/04/2007 - 20:05:58 وقت اشاعت: 16/04/2007 - 18:50:12 وقت اشاعت: 16/04/2007 - 18:40:30 وقت اشاعت: 16/04/2007 - 13:38:48 وقت اشاعت: 15/04/2007 - 17:35:54 وقت اشاعت: 14/04/2007 - 13:41:10

پاکستان کے قبائلی علاقوں سے طالبان کی حمایت موثر طورپر ختم کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ،صدر مشرف، کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے لیکن اپنی سالمیت اور وقار کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے ،پاکستان کو انتہاء پسندی، قدامت پسندی اور مذہبی تنگ نظری جیسے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے، گمراہ کئے گئے نوجوا ن طبقے کے حوالے سے ہم دانش مندانہ انداز میں کام کررہے ہیں،اعتدال پسند قوتوں کو ہر حال میں کامیاب ہونا چاہیے ، انتہاء پسندی کو شکست دینا ہوگی ،فارمیشن کمانڈر کانفرنس سے خطاب

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16اپریل۔2007ء) صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے طالبان کی حمایت موثر طورپر ختم کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ، پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا لیکن اپنی سالمیت اور وقار کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے ، پاک فوج روایتی اور غیر روایتی شعبوں میں آج ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مضبوط ہے ، ملک کی سلامتی کو اندرونی طورپر سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔

اور پاکستان کو انتہاء پسندی، قدامت پسندی اور مذہبی تنگ نظری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ گمراہ کئے گئے نوجوا ن طبقے کے حوالے سے ہم دانش مندانہ انداز میں کام کررہے ہیں اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اعتدال پسند قوتوں کو ہر حال میں کامیاب ہونا چاہیے ، اور ہمیں ہر صورت میں انتہاء پسندی کو شکست دینا ہوگی ۔ان خیالات کا اظہارصدر نے فارمیشن کمانڈرز کی 60ویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

کانفرنس صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں پیر کو شروع ہوئی ، جس میں میں چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل احسان الحق ، وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل احسن سلیم حیات ، کور کمانڈرز ، پرنسپل سٹاف آفیسرز اور فارمیشن کمانڈرز شرکت کررہے ہیں ، صدر جنرل پرویز مشرف نے عالمی علاقائی اور مقامی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی ، صدر نے کہا کہ ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اورخطے میں بے چینی موجود ہے، جس کا پاکستان پر براہ راست یا بالواسطہ اثر ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اپنے اہم جیو سٹرٹیجک محل وقوع کی وجہ سے پاکستان خطے میں امن اور ہم آہنگی کے سلسلہ میں مثبت انداز میں اپنا کردار ادا کررہاہے جسے جاری رکھا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ دانش مندانہ پالیسیوں اور ترقی پسندانہ سوچ کی وجہ سے پاکستان ایک اہم اقتصادی مرکز اور توانائی کے کوریڈور کی حیثیت سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے ، صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ماضی کے مقابلے میں روایتی اور غیر روایتی شعبوں میں زیادہ مضبوط ہیں اور پاکستان کسی بھی طرح کے بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ قوم کی مدد سے ہم ہر آنے والے دن مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا لیکن ہم اپنی سالمیت اور وقار کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے صدر نے مقامی صورتحال اور سیکورٹی کے حوالے سے کہا کہ اس وقت ملک کی سلامتی کو اندرونی طورپر سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے پاکستان کو انتہاء پسندی، قدامت پسندی اور مذہبی ہٹ دھرمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ۔

اسلام آباد میں رونما ہونے والے انتہاء پسندی کے بعض واقعات کے حوالے سے صدر نے کہا کہ گمراہ کئے گئے نوجوا ن طبقے کے حوالے سے ہم دانش مندانہ انداز میں کام کررہے ہیں اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اعتدال پسند قوتوں کو ہر حال میں کامیاب ہونا چاہیے ، اور ہمیں ہر صورت میں انتہاء پسندی کو شکست دینا ہوگی انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعتدال پسند قوتیں رجعت پسندعناصر کو شکست دینے کیلئے مل کر کام کریں گی ،دہشت گردی کے خلاف پاک فوج ، فرنٹیئر کور ، انٹیلی جنس سروسز اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی قربانیوں اور کردار کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف کسی بھی ملک سے زیادہ کارروائی کی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے مفاد میں جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے کہا کہ طالبان کے مسئلے کا تعلق افغانستان سے ہے جہاں ایک طرف طالبان ہیں جبکہ دوسری طرف افغان حکومت اور اتحادی فورسز ہیں صدر مشرف نے اس بات کا اعتراف کیا کہ طالبان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کچھ حمایت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کی یہ حمایت موثر طور پر ختم کر دی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ہماری حکمت عملی کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہے ا ور اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کے دائرہ کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ، حالیہ جھڑپوں کا ذکرکرتے ہوئے جس کے نتیجے میں دو سو سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی قبائلیوں کی طرف سے کی گئی کارروائیوں کو فوج کی مدد حاصل تھی جبکہ احمد زئی وزیر قبائل کے جرگہ کے اعلان سے مقامی لوگوں کے اس عزم کا اظہار ہوتاہے کہ وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں اوروہ ترقی وخوشحالی کیلئے علاقے میں امن کے قیام کے خواہش مند ہیں ، صدر نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش کی جانے والی قربانیاں بے مثال ہیں اور انہیں بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے انہوں نے پاک بھارت تعلقات پر تفصیل سے گفتگو کی اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعہ حل کر لئے جائیں گے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کبھی بہتر نہیں رہے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی شعبے میں سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ، جبکہ اعتماد سازی کے اقدامات بھی آگے بڑھ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل خصوصا کشمیر کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہو رہی ہے ، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے قومی مفاد کو کبھی پس پشت نہیں ڈالا جائے گا ملک کی اقتصادی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے ، صدر نے کہا کہ سات فیصد جی ڈی پی کی شرح بڑھتی ہوئی بیرونی سرمایہ کاری محاصل کے ذرائع میں اضافے اور بہتر زرعی پیداوار کی وجہ سے پاکستان کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔

حکومت نے 415 ارب روپے کی خطیر رقم سے ملک میں ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ، صدر نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا جن کے نتیجے میں ملک میں ترقی کے ثمرات حاصل ہو رہے ہیں صدر نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ تیاریوں اور تربیتی استعداد پر مکمل اطمینان کا اظہار کیاجسے دہشت گردی ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور ملکی سطح پر سیکورٹی جیسے مختلف نوعیت کے فرائض انجام دینا پڑے ہیں انہوں نے کہا کہ نئے آلات اور سسٹمز کے حصول سے پاک فوج کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو چکاہے ہم فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیت اور استعداد بڑھانے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے اس موقع پر وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا انہوں نے ملکی معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معیشت کی ترقی کی وجہ گیارہ ستمبر کے واقعات نہیں بلکہ یہ ہماری کارکردگی کی وجہ سے بہتر ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ مالیات سیاست اور سماجی شعبے میں شروع کی جانے والی دو رس اصلاحات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے اور پاکستان کو بہتر درجہ بندی والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان تمام شعبوں خصوصا زراعت کے شعبے میں ترقی کررہا ہے حکومت نے افراط زر پر قابو پانے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں اور دیہی علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار شروع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں مڈل کلاس طبقے کی تعداد میں اضافہ ہوگا وزیر اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملک میں غربت موجود ہے انہوں نے کہا کہ غربت کی شرح چونتیس فیصد سے کم ہو کر پچیس فیصد ہوچکی ہے جبکہ پانچ ارب پچاس کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی ہے اسی طرح مقامی سطح پر بھی سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت غربت کو مزید کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ، ہماری دس کروڑ آبادی پچیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے ، اس لئے حکومت ہنر مندی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے خطاب کیا اور ملکی خارجہ پالیسی خصوصا افغانستان ، ایران اور بھارت کے حوالے سے پاکستانی پالیسی کے بارے میں بتایا ، کانفرنس کے دوسرے روز منگل سترہ اپریل کو پیشہ وارانہ اہمیت کے امور پر توجہ مرکوز رہے گی ، جبکہ آئندہ دو روز اٹھارہ اور انیس اپریل کو سلیکشن بورڈ 2007ء کے اجلاس کے دوران لیفٹیننٹ کرنلز کی کرنلز اور بریگیڈئرز کے عہدوں پر ترقی کے امور زیر غور لائے جائیں گے ۔


16/04/2007 - 20:05:58 :وقت اشاعت