بند کریں
صحت صحت کی خبریںحافظ آباد میں موسم کی تبدیل کے ساتھ ہی گیسٹرو کی وبا ء شدت اختیار کر گئی،چوبیس گھنٹوں کے دوران ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 03/05/2014 - 16:07:52 وقت اشاعت: 03/05/2014 - 14:42:14 وقت اشاعت: 03/05/2014 - 14:22:20 وقت اشاعت: 03/05/2014 - 14:02:30 وقت اشاعت: 02/05/2014 - 22:54:02 وقت اشاعت: 02/05/2014 - 21:49:57 وقت اشاعت: 01/05/2014 - 23:24:31 وقت اشاعت: 01/05/2014 - 20:04:48 وقت اشاعت: 01/05/2014 - 19:53:01 وقت اشاعت: 01/05/2014 - 19:40:44 وقت اشاعت: 01/05/2014 - 16:28:20

حافظ آباد میں موسم کی تبدیل کے ساتھ ہی گیسٹرو کی وبا ء شدت اختیار کر گئی،چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈسٹرکٹ ہسپتال میں گیسٹرو میں مبتلا 250سے زائد مریض پہنچ گئے

حافظ آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2مئی۔2014ء)حافظ آباد میں موسم کی تبدیل کے ساتھ ہی گیسٹرو کی وبا ء شدت اختیار کر گئی۔ 24گھنٹوں کے دوران ڈسٹرکٹ ہسپتال میں گیسٹرو میں مبتلا 250سے زائد مریض پہنچ گئے۔ ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں گیسٹرو سے متاثرہ 150بچوں کو داخل کر لیا گیا۔ وارڈ میں بستر کم پڑ جانے سے ایک ایک بیڈ پر چار چار مریضوں کو داخل کیا گیا۔

ہسپتال میں ادویات کی کمی کے باعث غریب مریضوں کو بازار سے مہنگی ادویات خریدنا پڑ رہی ہیں۔ حافظ آباد اوراس کے گردونواح میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی گیسٹرو/ہیضہ کی وباء شدت اختیار کر گئی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گیسٹرو کے مرض میں مبتلا 250سے زائد مریض ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچ گئے۔ گیسٹرو سے متاثرہ مریضوں میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔

وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ کے آبائی شہر حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے چلڈر ن وارڈ میں بیڈز کی تعداد صرف بائیس ہے جبکہ اس وارڈ میں 150بچوں کو داخل کیا گیا ہے اور ایک ایک بیڈ پر چار چار مریضوں کو رکھا جا رہا ہے۔ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران گیسٹرو کے مرض میں مبتلا 61مریضوں کو لایا گیا۔ سخت گرمی کے باعث مریض اور ان کے لواحقین نڈھال ہیں تو وہاں بستروں اور ادویات کی کمی کے باعث بھی مریضوں کے لواحقین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شہر بھر کی عوامی، سماجی،فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں تعینات ڈاکٹروں نے اپنے پرائیویٹ ہسپتال بھی کھول رکھے ہیں اور یہاں پر علاج کی بجائے وہ غریب اور نادار مریضوں کو اپنے یا اپنے دوست ڈاکٹروں کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے کا مشورہ دیتے ہیں جس سے شہر بھر کے مریض مہنگا علاج کروانے پر مجبور ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وزیر مملکت برائے ہیلتھ سروسز سائرہ فضل تارڑ کے آبائی حلقہ میں اگر میڈیکل کی صورتحال ناگزیر ہے تو وہ ملک بھر میں اپنے فرائض کما حقہ ادا نہیں کر سکتیں۔

ملکی مصروفیات میں مگن وزیر مملکت کے حلقہ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال صرف سیاست کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے اور علاج معالجہ کی سہولیات کو یکسر نظر انداز کرکے اپنی سیاست چمکائی جا رہی ہے۔اُنہوں نے حکومتی ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کی حالت زار کو فی الفور درست کیا جائے۔

02/05/2014 - 21:49:57 :وقت اشاعت