ہمیں ٹیکس کلچراپنانا ہوگا،جس سے ترقی کے منازل طے ہوسکتے ہیں،پرویزخٹک،ڈاکٹر سب سے زیادہ کمانے والے طبقے ہیں مگر یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ وہ بالعموم ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتے ،ڈاکٹر کے پرائیوٹ پریکٹس اور کلینک پر صرف تین سو روپے ماہوار ٹیکس ہے مگر وہ اس کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں یہی حال وکلاء اور دیگر پیشہ وارانہ طبقوں کا ہے،پشاورمیں وفد سے وزیراعلی خیبرپختونخوا کی گفتگو

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22مئی۔2014ء)خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے تمام شعبہ ہائے زندگی پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس کلچر اپنائیں کیونکہ اسی کی بدولت قومیں ترقی کرتی ہیں اُنہوں نے کہا کہ وکلا ء اور ڈاکٹر سب سے زیادہ کمانے والے طبقے ہیں مگر یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ وہ بالعموم ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتے ڈاکٹر کے پرائیوٹ پریکٹس اور کلینک پر صرف تین سو روپے ماہوار ٹیکس ہے مگر وہ اس کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں یہی حال وکلاء اور دیگر پیشہ وارانہ طبقوں کا ہے حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے صوبائی بجٹ میں صرف دو فیصد ٹیکسوں سے جبکہ باقی وسائل حکومتی آمدن اورملکی و غیر ملکی قرضوں سے منہا ہوتے ہیں حالانکہ ترقیافتہ دُنیا میں تمام طبقے اپنا ٹیکس بروقت اور بخوشی ادا کرتے ہیں اور اسی کی بدولت وہاں ترقی ہوتی ہے ہمارے ہاں تنخواہوں اور مراعات کیلئے صرف ہڑتالیں ہوتی ہیں مگر فرائض پر کم توجہ دی جاتی ہے اُنہوں نے واضح کیا کہ ہماری حکومت ہڑتالوں کا کلچر ختم کرے گی اور جو ہڑتالیں کریں گے اُنہیں خمیازہ بھگتنے کیلئے بھی تیار رہنا ہو گا کیونکہ اس طرح کی بلیک میلنگ سے کام نہیں چلے گابات صرف اُنکی سنی جائے گی جو عوامی خدمت کے فرائض اور حقوق اداکرتے ہوئے اپنے حق کی تحریری درخواست دے گا نہ کہ احتجاج اور ہڑتالوں کا انتہائی راستہ اپنائے گا اور عوام کی حق تلفی کرے گا موجودہ حکومت سزا و جزا کی منصفانہ پالیسی متعارف کررہی ہے اور آئندہ فرائض کی بطریق احسن ادائیگی اور عوام کو بہتر خدمات مہیا کرنے والوں کی قدر و منزلت ہوگی وہ اپنے دفتر سی ایم سیکرٹریٹ پشاور میں ڈسٹرکٹ بار مانسہرہ کے صدر منیر حسین لغمانی کی زیر قیادت وکلاء برادری کے وفد سے باتیں کر رہے تھے وفد نے کرپشن کے خاتمے اورسرکاری محکموں میں اصلاحات وتبدیلیوں سے متعلق پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا جبکہ اپنے بعض مسائل اور مطالبات سے اُنہیں آگاہ کیا صوبائی سیکرٹری قانون عارفین خان اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے پرویز خٹک نے مانسہرہ ڈسٹرکٹ بار کے مسائل کے مناسب ازالے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی طرح وکلاء اوردیگر مختلف طبقوں کیلئے بھی انڈونمنٹ فنڈ قائم کرنے کاسنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ اُنہیں اپنے ہنگامی اخراجات کیلئے حکومت سے درخواستیں کرنے اور باربار فنڈ مانگنے کی ضرورت نہ پڑے اوروہ پورے وقار سے اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی پر توجہ دیں تاہم اُنہوں نے کہا کہ دیگر تمام شعبوں کی طرح یہاں بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام لاگو رہے گا اور اُنہیں آمدن و اخراجات کا پورا حساب دینا ہو گااُنہوں نے وکلاء برادری پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں میرٹ اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کیلئے حکومت اور عدلیہ کے دست و بازو بنیں موجودہ مشکل حالات میں غریب عوام کو فوری اور سستے انصاف کی اشد ضرورت ہے اور وکلاء برادری اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اُنہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ امیر کبیر لوگ بھی جب وکلاء کی بھاری بھرکم فیس کا سنتے ہیں تو اُنکے پیسنے چھوٹ جاتے ہیں ایسے میں ہماری دُعا ہے کہ غریب بیچارے پر کوئی مصیبت نہ آن پڑے ورنہ وہ وکیل کی فیس کیسے ادا کرینگے اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ وکلاء برادری نہ صرف جذبہ ہمدردی و خیر سگالی کے تحت نادارشہریوں کیلئے فیس میں نمایاں کمی کریگی بلکہ اُنکے کیس بھی پوری تندہی سے نمٹا کر اُنہیں انصاف دلائے گی جو معاشرے کی بہت بڑی خدمت ہو گی معاشرہ انصاف کی بدولت نہ صرف ترقی کر تا ہے بلکہ امن و آشتی کا گہوارہ بن جا تا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کا مقصد بھی معاشرے میں انصاف کا بول بالا کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول میں ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اُنہوں نے ڈسٹرکٹ بار کی لائبریری کتب اور بار کی عمارت کی تعمیر ومرمت سمیت مختلف اُمور کیلئے 25 لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا جبکہ وفد کے پیش کردہ دیگر مسائل کا ہمدردانہ جائزہ لینے کا یقین بھی دلایا ۔

Your Thoughts and Comments