بند کریں
صحت صحت کی خبریںڈبلیو ٹی او کی تجویز پر سگریٹ پر 70 فیصد ایف ای ڈی لگانے پر غور

صحت خبریں

وقت اشاعت: 03/06/2014 - 15:11:56 وقت اشاعت: 02/06/2014 - 23:57:56 وقت اشاعت: 02/06/2014 - 21:01:01 وقت اشاعت: 02/06/2014 - 19:55:25 وقت اشاعت: 02/06/2014 - 15:57:32 وقت اشاعت: 02/06/2014 - 15:57:32 وقت اشاعت: 02/06/2014 - 12:58:35 وقت اشاعت: 01/06/2014 - 12:27:29 وقت اشاعت: 01/06/2014 - 12:13:57 وقت اشاعت: 31/05/2014 - 18:51:28 وقت اشاعت: 31/05/2014 - 14:58:36

ڈبلیو ٹی او کی تجویز پر سگریٹ پر 70 فیصد ایف ای ڈی لگانے پر غور

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 2جون 2014ء) عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ٹی او کی تجویز پر یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال 2014-15کے بجٹ میں سگریٹس پر70فیصد فکس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور ہورہا ہے۔نجی ٹی وی کا ذرائع کے حوالے سے کہناہے کہ عالمی ادرہ صحت نے پاکستان کو تحریری طور پر تجویز دی ہے کہ سگریٹس پر پریمیئم اور ریگولر برانڈ کے ٹو 0ٹیئرسسٹم کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے 70فیصد فکس ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی جائے جبکہ اس وقت پریمیئم اور ریگولر برانڈ کے ٹو ٹیئر سسٹم کے تحت اگر سگریٹ کی ڈبی پر 45روپے 72پیسے یا اس سے زائد قیمت درج ہو تو اس پر 46روپے 50پیسے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہے اور اگر سگریٹ کی ڈبی پر 45روپے 72پیسے سے کم قیمت درج ہو اس پر 17روپے 60پیسے ایف ای ڈی لاگو ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے کے پیش نظر دنیابھر کیلیے سگریٹس پر 70فیصد فیکس ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔دوسری جانب سگریٹ انڈسٹری نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا تو اس سے قانونی سگریٹ انڈسٹری کی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہو جائے گا جو پہلے ہی غیر قانونی سگریٹس کی بے پناہ فروخت کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

سگریٹ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ پاکستان غیر قانونی سگریٹس کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اورغیر قانونی سگریٹس جو مارکیٹ میں با آسانی دستیاب ہیں کی ایک ڈبی تقریبا 10سے 15روپے کے درمیان فروخت ہوتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے قانونی سگریٹ کا مقرر کردہ نرخ 34روپے77پیسے ہیانٹرنیشنل ٹیکس اینڈ انویسٹمنٹ سینٹر کی ستمبر 2013کی جاری کردہ ایک اسٹڈی اور اوکسفورڈ اکنامکس ان اللسٹ ٹوبیکو ٹریڈ کی رپورٹ کے مطابق 2012میں پاکستان میں کل استعمال شدہ سگریٹس میں سے 25اعشاریہ چار فیصد سگریٹس غیر قانونی تھے جس سے حکومت پاکستان کو آمدن کی مد میں تقریبا26ارب90کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

ذرائع کے مطابق 2009میں ٹیکسوں کی مد میں اضافے سے پاکستان کی قانونی سگریٹ انڈسٹری کا حجم 76ارب سگریٹس سے کم ہو کر 64ارب سگریٹس ہو چکا ہے۔ اگرچہ اب سگریٹ نوشی پر مزید پابندیاں عائد ہو چکی ہیں اور اس کے باوجودسگریٹوں کی فروخت میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں ا?یا ہے مگر قانونی سگریٹ انڈسٹری کی ا?مدن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا جو اس بات کا اظہار ہے کہ صارفین زیادہ قیمت ادا کرنے کے بجائے نسبتا کم قیمت والی سگریٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔

02/06/2014 - 15:57:32 :وقت اشاعت