بند کریں
صحت صحت کی خبریں کرپشن کینسر سے زیادہ خطرناک ، ملک کو کرپشن سب سے زیادہ نقصان دے رہا ہے ، سراج الحق

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/06/2014 - 21:27:52 وقت اشاعت: 05/06/2014 - 21:27:52 وقت اشاعت: 05/06/2014 - 21:27:52 وقت اشاعت: 05/06/2014 - 20:55:39 وقت اشاعت: 05/06/2014 - 20:55:39 وقت اشاعت: 05/06/2014 - 17:13:11 وقت اشاعت: 05/06/2014 - 14:06:19 وقت اشاعت: 04/06/2014 - 22:12:02 وقت اشاعت: 04/06/2014 - 20:17:21 وقت اشاعت: 04/06/2014 - 17:31:25 وقت اشاعت: 04/06/2014 - 16:09:44

کرپشن کینسر سے زیادہ خطرناک ، ملک کو کرپشن سب سے زیادہ نقصان دے رہا ہے ، سراج الحق

پشاور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 5جون 2014ء)امیرجماعت اسلامی پاکستان اور خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر خزانہ سراج الحق نے کہا ہے کہ کرپشن کینسر سے زیادہ خطرناک ہے اور بد قسمتی سے ہمارے ملک کو کرپشن سب سے زیادہ نقصان دے رہا ہے ۔ انہوں نے صحافی حضرات کو کرپشن کی بیخ کنی کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون اور اس سلسلے میں مثبت رول ادا کرنے کی تلقین کی۔

وہ پشاور میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیری اتھارٹی (پپرا)کے دفاتر کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ میڈیا سیشن میں صحافیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ سیکرٹری خزانہ سید سید بادشاہ بخاری ، منیجنگ ڈائریکٹرپپرا سید محمد جاوید اور دوسرے سرکاری اہلکار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلچر کے فروغ اور رشوت و سفارش نے عوام کا عدلیہ، مقننہ اور حکومتی اداروں پر سے اعتماد ختم کر دیا ہے اور اس اعتماد کو بحال کرنے کیلئے قانون کی بالادستی انتہائی لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے اسی بات پر سخت سزا دی تھی جہاں سرمایہ داروں کیلئے الگ اور غریبوں کیلئے الگ قانون تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کیلئے سرکاری اداروں کا استحکام انتہائی لازمی ہے اور اس سلسلے میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے ایک حد تک اصلاح ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ محکمہ فنانس سے متعلق تمام معلومات اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔

5جون 2014ء ہوں اور کسی کو کسی قسم کا تردد نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کامقصد سرکاری محکموں میں اندرونی نظم وضبط اور مالی نظم و نسق کے حوالے سے پبلک پروکیورمنٹ متعارف کروانا ہے جس کا براہ راست تعلق معاشی ترقی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے عالمی بینک اور ڈی ایف آئی ڈی کے تکنیکی تعاون سے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹر ی اتھارٹی قائم کی جو ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے تمام سرکاری محکموں اور منسلک اداروں کے لئے شفاف پروکیورمنٹ کے بارے میں قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک فراہم کریگی۔

انہوں نے کہاکہ کوشش کی جا رہی ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری ادارے پبلک پروکیورمنٹ ایکٹ اور اسکے تحت بننے والے قواعد و ضوابط کی پابندی کرکے شفافیت، بچت، سرمائے کی قدر، خود احتسابی اور شکایات کے فوری ازالے کے رہنما اصولوں پر عمل کرینگے۔ قبل ازیں منیجنگ ڈائریکٹر پپرا سید محمد جاوید نے اتھارٹی کے اختیارات، فرائض ، نظم و نسق، ضابطہ اخلاق ، کامیابیوں اور مسائل و مشکلات کے بارے میں صحافیوں کو اگاہ کیا۔

سیکرٹری خزانہ نے سرکاری محکمہ جات میں بعض نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں اور پپرا کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کے بارے میں حکومتی ایجنڈے سے صحافیوں کو بریفنگ دی۔ انہوں نے پپرا کی جانب سے حکومتی اداروں کو ریگولیٹ کرنے اور اس عمل کے نتائج کے بارے میں بھی بتایا۔

05/06/2014 - 17:13:11 :وقت اشاعت