بند کریں
صحت صحت کی خبریں شوگر ملوں کے فاضل مٹیریل کو فصلوں کی زرخیزی کیلئے استعمال میں لا یا جا ئے ، زرعی ماہرین

صحت خبریں

وقت اشاعت: 19/06/2014 - 21:37:23 وقت اشاعت: 19/06/2014 - 20:06:33 وقت اشاعت: 19/06/2014 - 19:58:00 وقت اشاعت: 18/06/2014 - 20:22:36 وقت اشاعت: 18/06/2014 - 20:09:54 وقت اشاعت: 18/06/2014 - 13:43:38 وقت اشاعت: 17/06/2014 - 17:41:14 وقت اشاعت: 17/06/2014 - 14:29:14 وقت اشاعت: 16/06/2014 - 13:38:11 وقت اشاعت: 16/06/2014 - 13:15:03 وقت اشاعت: 15/06/2014 - 15:59:44

شوگر ملوں کے فاضل مٹیریل کو فصلوں کی زرخیزی کیلئے استعمال میں لا یا جا ئے ، زرعی ماہرین

فیصل آباد( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18جون 2014ء)پاکستان سوسائٹی آف شوگر ٹیکنالوجسٹ کے زیراہتمام فیصل آباد میں منعقدہ ” اگریکلچر ورکشاپ“ کا انعقاد کیا جسکی صدارت مراد بھٹی نے جبکہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ اگرانومی کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ مہمان خصوصی تھے ورکشاپ میں پی ایس ایس ٹی کے وائس پریذیڈنٹ ایگریکلچرل ملک منظور حسین، رانا مبشر، ڈاکٹر محب اختر،ڈاکٹر شاہد افغان اور محمد یونس سمیت پنجاب بھر سے بڑی تعداد میں زرعی ماہرین شوگر ملوں کے افسران نے شرکت کی اس موقع پر زرعی ماہرین نے خطاب کرتے ہو ئے کہاکہ پاکستان میں گزشتہ پندرہ سالوں میں گنا کی پیداوار میں اعشاریہ پانچ فیصد اور شوگر ریکوری میں صرف دو فیصد تک اضافہ کیا ہے، پیداوار میں اضافہ کماد کی جدید ورائٹیز کو فروغ دیکر ہی کیا جا سکتا ہے شوگر ملوں کے فاضل مٹیریل کو فصلوں کی زرخیزی کیلئے استعمال میں لایا جانا چاہیے کمپوسٹ مڈ سے نامیاتی مادے کمی بھی دور کی جا سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری مل میں مشینری سے نکلنے والے فالتو پانی کو زرخیز آب بنا کر کھیتوں کو دیا جا رہا ہے، ساؤتھ افریقہ میں 45فیصد بجلی شوگر انڈسٹری مہیا کرتی ہے اس سے نکلنے والی راکھ کو بھی زمین اور فصلوں کی زرخیزی کیلئے استعمال کیا جا سکتا، ایوب ریسرچ کے ڈاکٹر محمد افضل نے کہا کہ مذکورہ ریسرچ بورڈ سے ہم وہ کام بھی کر پائیں گے جو کہ قبل ازیں وسائل کی کمی کیوجہ سے نہیں کیے جا سکے ہیں پاکستان پنجاب کی زراعت اب بھارتی پبجاب سے بہتر ہو چکی ہے ہمارے ادارہ گنا کی30ورائٹی منظور کر واچکا ہے ورائٹیز کے تبادلے کیلئے امریکہ برازیل سری لنکا و دیگر ممالک سے معاہدے طے پا چکے ہیں ایک سال کے اندر کماد کی مزید65اقسام لیکر آئیں گے ہر علاقے کی آب وہوا اور زمین کی حالت کو مدنظر رکھ کر مخصوص ورائٹی تجویز کی جائے گی فقیر احمد گلزار نے کہا کہ زراعت میں بہتری کیلئے کسانوں کو پہلے خوژحال کیا جائے گا شوگر ملیں کسانوں کو بروقت ادائیگیاں کریں گی تو کماد کی پیداوار بڑھے گی ملک ذولفقار وسیم نے کہا کسانوں کی راہنمائی انکی تربیت اور گفتگو و شنید کے ذریعے کی جائے آسین بھولا نے کہا کہ ہے،ملک بشیر احمد نے اپنے خطاب میں مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ گنا کی ادائیگیوں کیلئے حکومت شوگر ملوں کی معاونت کرے کسانوں کو سولر ٹیوب ویل آسان شرائظ پر دیے جائیں سپرنکل اور ڈرپ ایریگیشن سسٹم بھی مہیا کیا جائے بجلی کے شارٹ فال کو دور کیا جائے بجلی ڈیزل اور تمام زرعی ضروریات کی قیمتیں کم کی جائیں اور ہر قسم کی ضروری مشینری پرانکی دسترس یقینی بنائی جائے۔

ورکشاپ میں زرعی ماہرین نے مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے پیش کیے عمدہ مقالے پر ملک منظور حسین، داکٹر ذولفقار، محمد افضل، داکٹر شاہد افغان اور ارشد علی چٹھہ کو تعریفی سرٹیفکیٹ دیا گیا۔

18/06/2014 - 13:43:38 :وقت اشاعت