بند کریں
صحت صحت کی خبریںمحکمہ صحت خیبر پختونخوااور میرلین پاکستان نامی بین الاقوامی تنظیم کے درمیان مفاہمت کی یاداشت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/06/2014 - 18:18:39 وقت اشاعت: 22/06/2014 - 15:49:11 وقت اشاعت: 22/06/2014 - 15:49:11 وقت اشاعت: 21/06/2014 - 19:55:26 وقت اشاعت: 21/06/2014 - 17:44:18 وقت اشاعت: 20/06/2014 - 22:29:27 وقت اشاعت: 20/06/2014 - 21:15:35 وقت اشاعت: 20/06/2014 - 19:56:33 وقت اشاعت: 20/06/2014 - 18:12:27 وقت اشاعت: 19/06/2014 - 22:48:53 وقت اشاعت: 19/06/2014 - 21:37:23

محکمہ صحت خیبر پختونخوااور میرلین پاکستان نامی بین الاقوامی تنظیم کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پردستخط

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین20۔جون۔2014ء)ضلع بونیر میں مراکز صحت کو فعال اور مستحکم بناکر لوگوں کو صحت اور علاج معالجے کی بہتر سہولیات و خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ صحت خیبر پختونخوااور میرلین پاکستان نامی ایک بین الاقوامی تنظیم کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پردستخط کئے گئے جس کی رو سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت محکمہ صحت اور میرلین پاکستان مذکورہ ضلع میں بنیادی مراکز صحت کو فعال اور مستحکم بنانے اور گزشتہ سالوں عسکریت پسندی کی وجہ سے متاثرہ مراکز صحت کو بحال کرنے کے لئے ایک منصوبہ شروع کریں گے۔

اس سلسلے میں ایک تقریب جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوئی جس میں سینئر وزیر برائے صحت شہرام خان تراکئی کی موجودگی میں سیکرٹری صحت آفتاب درانی اور میرلن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر سید شاہ میران نے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے ۔یہ منصوبہ147.129ملین روپے کی لاگت سے ایک سال کے عرصہ میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت علاقے میں بنیادی مراکز صحت کے کلسٹرز(حب) بنائے جائیں گے اور ان میں علاج معالجے کی بہتر اور جامع سہولیات کی فراہمی کے لئے وسائل اور معاونت فراہم کی جائیں گی۔

کلسٹرز مراکز24گھنٹے کام کریں گے جہاں پر عملے ،ایمبولنس،ادویات اور طبی آلات کی ہمہ وقت دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ان کلسٹرز میں شامل مراکز صحت کا انتظام مذکورہ تنظیم کی ذمہ داری ہوگی جسے ایک مسابقتی عمل کے ذریعے اس کام کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔منصوبے کے تحت ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بھی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے کام کیاجائے گاجس میں ہسپتال کے سرجیکل ،میڈیکل،گائناکالوجی،ایمر جنسی اور دیگر شعبوں کی فعالی کے علاوہ آپریشن تھیٹر،لیبر روم،لیبارٹری،فارمیسی اور بلڈ بنک کے لئے معاونت کی فراہمی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ضرورت پڑنے کی صورت میں ان طبی مراکز میں مرمت اور تزئین و آرائش کاکام اوردرکارطبی آلات کی کمی کو بھی پوراکیا جائے گا اور ہسپتال میں خالی پوسٹوں پر عملے کی تعیناتی کیلئے صوبائی حکومت کو اقدامات بھی تجویزکئے جائیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہاکہ صوبے میں پہلے سے موجود مراکز صحت کو فعال بنانااورو ہاں علاج معالجے کی سہولیات کو بہتر بنانا موجودہ صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح ہے تاکہ علاج معالجے کی بنیادی سہولیات کی مقامی سطح پر فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے جس کے لئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

20/06/2014 - 22:29:27 :وقت اشاعت